قراقرم یونیورسٹی: فلاحی ادارے “پین” کے زیر اہتمام دو روزہ ادبی و تخلیقی فورم کا انعقاد

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
گلگت (پریس ریلیز )گلگت بلتستان کی معروف فلاحی تنظیم ’’ پبلشنگ ایکسٹینشن نیٹ ورک (PEN )‘‘ نے AKRSP کے ایلی (EELY) پروجیکٹ کے تعاون سے قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی میں دو روزہ ’’ ادبی و تخلیقی فورم‘‘ کا انعقاد کیا۔ پہلے روز گلگت بلتستان کے طول و عرض سے آئے ہوئے 25 نوجوان شعراء نے مقررہ طرح مصرعہ ’’اُٹھو کہ بند کریں نفرتوں کے در سارے‘‘ پر اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد و تحسین وصول کی۔ طرحی شاعری کے اس مقابلے میں بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر عارف حسین سحاب نے پہلی ، گلگت سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر رضا عباس تابش نے دوسری اور استور سے تعلق رکھنے والی شاعرہ سیدہ طاہرہ بتول نے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ اس محفل مشاعرے کی مہمان خصوصی ڈاکٹر عقیلہ اسلام ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے آئی یو جبکہ میر محفل ڈاکٹر سہیل امام ڈین فیکلٹی آف نیچرل سائنسز کے آئی یو تھے ۔ انہوں نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قدرت نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ان کی شاعری پاکستان کے دیگر صوبوں کے شعراء سے کم نہیں ہے ۔ انہوں نے منتظمین کو اس شاندار پروگرام کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کیا۔ ادبی و تخلیقی فورم کے دوسرے روز ’’اُٹھو کہ بند کریں نفرتوں کے در سارے ‘‘ پر گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے مابین تقریری مقابلہ ہو ا جس میں پبلک سکول اینڈ کالجز کی طالبہ رابعہ فاطمہ نے پہلی ،گلگت کی رقیہ اخلاق نے دوسری اور دیامر کے امیر جان حقانی نے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔تقریری مقابلے کی مہمان خصوصی ڈاکٹر عارف النساء نقوی ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز کے آئی یو تھیں، جنہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تخلیقی اور تعمیری سر گرمیوں کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے نہ صرف تخلیقی اور ادبی سر گرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ گلگت بلتستان کے لوگوں با لخصوص نوجوانوں کے درمیان اخوت ، بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی اور ایک روز ضرور نفرتوں کے در بند ہو نگے اور محبتوں کے در کھل جائیں گے ۔ تقریب میں مہمان خصوصی ڈاکٹر نقوی کے علاوہ ڈاکٹر عقیلہ اسلام ،ڈاکٹر سہیل امام ،AKRSP کے EELY پروجیکٹ کے اعجاز کریم اور PEN کے اعجاز احمد خان نے پوزیشن ہولڈر ز کو شیلڈز اور کیش پرائس جبکہ دیگر نوجوان شعراء اور مقررین کو تعریفی اسناد دیئے ۔علاوہ ازیں مختلف اظلاع سے آئے ہوئے سینئر شعراء نے نوجوان شاعروں کے کلام کا تنقیدی جائزہ لینے بعد اصلاحی اور تیکنیکی نکتہ نظر سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں تاکہ نوآموز شعراء کی رہنمائی ہو سکے۔اس دو روزہ ادبی و تخلیقی فورم کو کامیاب کرنے میں حلقہء فکر و نظر کے آئی یو اور کے آئی یو ڈیبیٹنگ کلب نے بھر پور کر دار ادا کیا ۔نو جوان شعرا ء کی حوصلہ افزائی کے لیے گلگت بلتستان کے معروف نوجوان شاعر ذیشان مہدی نے خصو صی طور پر اس فورم میں شرکت کی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔