انٹرویو: ینگ رفارمرز فارم گلگت بلتستان کے پروفیشنل طلبا کا نمائندہ پلیٹ فارم ہے جو تعلیمی انقلاب کیلئے کوشاں ہے، ڈاکٹر عبید علی

انٹرویو: ینگ رفارمرز فارم گلگت بلتستان کے پروفیشنل طلبا کا نمائندہ پلیٹ فارم ہے جو تعلیمی انقلاب کیلئے کوشاں ہے، ڈاکٹر عبید علی

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تعارف:

نوجوان طالب علم راہنما ڈاکٹر عبید علی رانا کا تعلق گلگت شہر کے وسطی علاقے مجینی محلہ سے ہے ، وہ اس وقت پاکستان کی مشہور میڈیکل یونیورسٹی ، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس سیکنڈ ایئر کے طالب علم ہیں، عبید علی ایم بی بی ایس کے طالب علم ہونے اور اپنی بے پناہ تعلیمی مصروفیات کے باوجود سماجی خدمات میں بھی سرگرم عمل ہیں اور اس وقت گلگت بلتستان کے پروفیشنل طلبا وطالبات کے مشترکہ پلیٹ فارم ’’ینگ رفارمرز‘‘ کے کوارڈینیٹر بھی ہیں۔ ایک آن لائین اخبار پر ان کا انٹرویو حال ہی میں شایع ہوا ہے جو قارئین کی دلچسپی اور معلومات کیلئے پیش خدمت ہے۔

سوال: سب سے پہلے ہمیں اپنے ادارے کے مقاصد اور اپنے تک کی سرگرمیوں سے آگاہ کریں۔

ڈاکٹر عبید: قبل اس کے کہ میں اپنے ادارے کےاہداف و مقاصد اور کارکردگی سے آپکو آگاہ کروں میں ضروری سمجھتا ہوں شکریہ ادا کرنا اسلام ٹائمز کا کہ انہوں نے ہمیں موقع فراہم کیا کہ ہم آپکی وساطت سے اس رضاکار طلبا کے نمائندہ پلیٹ فارم کی کارکردگی سے عوام الناس بالخصوص گلگت بلتستان کے طلبا کو آگاہ کر سکیں۔

عبید علی
عبید علی

’’ینگ رفارمرز فورم‘‘ دراصل ملک کے مختلف پروفیشنل تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم گلگت بلتستان کے طلبا و طالبات کا مشترکہ و رضاکار پلیٹ فارم ہے جس کا بنیادی مقصد گلگت بلتستان کی نسل نو میں تعلیمی شعور اجاگر کرنا اور انکی مثبت تعلیمی راہنمائی کرنا ہے، الحمد اللہ ہمارا ٹیم میں گلگت بلتستان کے با صلاحیت اور ذہین طلبا و طالبات شامل ہیں جن کی صلاحتیوں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ہم اپنی نئی نسل کو اعلی تعلیم کے حصول کیلئے مثبت راہنمائی فراہم کر رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے ینگ رفارمرز فورم نے ابتک متعدد عملی اقدامات اٹھائے ہیں اور بہت سے منصوبوں پر کام جاری ہے، گزشتہ سال جولائی میں گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں ہمارے ادارے نے گلگت بلتستان کی تاریخ کے پہلے ’’ایجوکیشن ایکسپو‘‘ کا اہتمام کیا جس میں ملک بھر کی تمام یونیورسٹیز اور کالجز کے اسٹالز کے علاوہ مختلف سماجی و رفاعی اداروں نے بھی بھر پور حصہ لیا اور اس دو روزہ نمائش میں ہماری توقعات سے بڑھ کر طلبا و طالبات نے دلچسپی کا مظاہرہ کیا جس سے ہماری مزید حوصلہ افزائی ہوئی اور انشا اللہ ہم گلگت بلتستان میں اپنی با صلاحیت ٹیم کی مدد سے تعلیمی شعور و انقلاب بپا کرنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔

سوال: گلگت بلتستان کا شمار ملک کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی ۸۰ فیصد سےزائد ہے جو یقینا یہاں کے عوام کیلئے اعزاز کی بات ہے ، مگراس کے باوجود یہاں سماجی و معاشی ترقی اس رفتار سے نہیں ہو رہی ، اسکی کیا وجوہات ہیں؟

ڈاکٹر عبید: دیکھے بنیادی طور پر گلگت بلتستان ایک دور افتادہ اور پسماندہ خطہ ہے اگرچہ قدرت نے اس جنت نظیر خطے کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے مگر افسوس کیساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ حکومتی سطح پر اس خطے پر شروع سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ، ہم سجھتے ہیں کہ اگر اس علاقے میں حکومت کی جانب سے تھوڑی توجہ دی جائے تو بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کار اس خطے کی جانب توجہ مرکوز کر سکتے ہیں اور یہاں کے قدرتی وسائل کو استعمال میں لا کر نا صرف یہ کہ یہاں کے لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کیا جاسکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط کیا جاسکتا ہے مگر اس کیلئے خلوص نیت کیساتھ خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ، یہاں الحمد اللہ لوگوں میں تعلیمی و سیاسی شعور کی کوئی کمی نہیں، البتہ بعض علاقے اب بھی ایسے ہیں جہاں تعلیمی شعبے میں کام کی ضرورت ہے مگر حکومتی سطح پر تو اس حوالے سے کوئی خاص کام نہیں ہورہا البتہ سوشل ویلفئیر ادارے اور این جی اوز اس علاقے میں بھر پور کام کر رہی ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر سرمایہ کاروں کو اس خطے کی جانب راغب کرایا جائے تاکہ مقامی لوگوں کے معیار زندگی بلند ہونے کیساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو سکیں، وگرنہ یہاں کے پڑھے لکھے نوجوان اپنے علاقے کی خدمت کی بجائے اعلی تعلیم کے بعد ملک کے دیگر حصوں اور بیرون ملک روزگار کی تلاش کرتے رہینگے۔

سوال: گلگت بلتستان کا اہم مسئلہ فرقہ واریت اور مذہبی انتہاپسندی ہے، نسل نو سے فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے آپ کیا اقدامات تجویز کرینگے اور آپکی کیا ترجیحات ہیں اس حوالے سے ؟

ڈاکٹر عبید: دیکھے جی یہ ہماری بڑی بد قسمتی ہے کہ نصف صد ی سے بھی زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود گلگت بلتستان کے غیور عوام مکمل آئینی حقوق سے محروم ہیں ، ہماری سینٹ اور قومی اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہیں، اس کی بنیادی وجہ عوام کا متحد نہ ہونا اور فرقہ وارانہ اور لسانی و علاقائی بنیادوں پر تفریق ہے، الحمد اللہ گلگت بلتستان میں جوں جوں تعلیمی ارتقا ہو رہا ہے نسل نو میں سیاسی شعور کا بھی اضافہ ہورہا ہے اور علاقے کے پڑھے لکھے اور سنجیدہ نوجوان فرقہ واریت کو زہر قاتل سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے عملی اقدامات کے خواہاں بھی ہیں، ہم پڑے پر امید ہے اپنی نئی نسل سے کہ انشا اللہ ہم ملکر گلگت بلتستان کے معاشرے سے فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کو تعلیمی و شعوری انقلاب کیلئے زریعے ختم کرکے خطے کو ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن کرینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔