قراقرم یونیورسٹی میں زیر تعلیم چترالی طلبہ نے سید سردار حسین شاہ کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (خصوصی نامہ نگار) قراقرم انٹرنشنل یونیورسٹی گلگت بلتستان کے چترال اسٹوڈنٹس فیدریشن کی حالیہ انتخابات کے حوالے سے ایک ہنگامی میٹنگ صدرِ فیڈریشن عنایت اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں انہوں نے چترال کے ماضی اور ترقی کی مسدود راستوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نئی قیادت کے لئے سیدسر دار حسین اور عاصمہ محمود کے حق میں مشترکہ انتخابی کمپین چلانے اوراُن کے حق میں اپنے ووٹوں کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے ۔ اخباری بیان کے مطابق نہوں نے حالیہ انتخابی کمپین میں چند امید واروں کے غیر جمہوری رویوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوے  کہا ہے کہ انتخابات سال ۲۰۱۳ ؁ ، چترالی قوم کے لئے کڑی ازمائش کا دور ہے ۔ چترال کے باسیوں نے سیاسی دنیا کے مدو جزر کو ہمیشہ قریب سے دیکھا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ چترال کے سادہ لوح عوام کو مسلسل لواری ٹنل کا سبز باغ دکھایا جاتا رہا اور حق رائے دہی استعمال ہوتے رہے ۔ اب ہمارے پاس کسی ٹنل کا کوئی جھگڑہ باقی نہیں رہا تو سیاسی بھیڑئے حلال بھیڑوں کی کھال زیب تن کئے نظر آتے ہیں ۔اب سننے میں یہ بھی آتا ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ جوانوں میں لیپ ٹاپ اور مزدو پیشہ افراد میں ریڑھیاں تقسیم کرکے اُن کو ہمیشہ کے لئے خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کچھ اُڑتی خبریں یوں بھی گردش کر رہی ہیں کہ گاؤں کے نام نہاد اہل ثروت حضرات کے لئے گاڑیاں بھی خریدی  گئی ہیں۔ اس ضمن میں دو انتہائی خطرناک باتوں کا احتمال نظر آتا ہے ۔ پہلی بات، جن امیدواروں نے اپنی دولت کے بل بوتے پر نوجوانوں، مزدوروں اور نام نہاد سماجی کارکنوں ( دیہو لال) کے ذاتی اختیارات کو خریدنے کی کوشش کی ہے یہ رقم ان امیدواروں نے کہاں سے جمع کی ہے ؟ دوسری بات ، جو لوگ اپنا حق رائے دہی ، جو کہ ایک امانت ہے ، کو فروخت کرتے ہیں تو گویا اپنے ضمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بیچتے ہیں ۔

گزشتہ حکومت کے صاحب اقتدار نمائندو ں کا ذکر کرتے ہوئےایک اخباری بیان میں انہو ں نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے کہ پچھلے سال گلگت میں فسادات کی وجہ سے کرفیو کی زد میں آ کر یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہماری چترالی بہنوں کو شدید تکلیفات سے گزرنا پڑا ۔ گزشتہ حکومت کے صاحب اقتدار ایم پی اے اور ایم این کے علاوہ صوبائی وزیر سے اخبارات کے زریعے اس سلسلے میں بار بار اپیل  کی گئی لیکن اس کے باوجود اُن کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی ۔ ہماری ایک بہن نے اُس وقت بھی اخبار میں لکھا تھا کہ یہی لوگ اگر دوبارہ الیکشن میں آئے تو ہم خود الیکش کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کریں گے لہذا اب وقت آیا ہے کہ ہم اپنی بہنوں کی طرف سے عاصمہ محمود کو ہماری زیر تعلیم بہنوں کی نمائندگی پر خوش آمدید کہے ۔گزشتہ سال گلگت میں طویل کرفیو کے دوران گلگت کے ہاسٹلوں میں بغیر خوراک کے بُری طرح سے پھنسے ہوئے طلبا و طالبات کی اگر کسی نے مدد کی ہے تو وہ سابق ایم پی اے محترم زین العابدین اور حالیہ انتخابات کے لئے پیپلز پارٹی کی طرف سے نامزد امیدوار جناب سردار حسین صاحب ہیں ۔ لہذا ہم اپنی بہنوں کی نمائندگی کے لئے عاصمہ محمود اور بھائیوں کی نمائندگی کے لئے سید سردار حسین کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے  الیکشن میں حصہ لینے پر مبارکباد دیتے ہیں اور اور اُن کے لئے ہر ممکن کمپین چلانے کا وعدہ کرتے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔