نانگا پربت سانحہ! کون کیا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے

نانگا پربت سانحہ! کون کیا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانی

ضلع دیامر اپنی چند خصوصیات کی وجہ سے پورے ملک کاممتاز ضلع ہے۔دنیا کی عظیم ترین چوٹی’’نانگا پربت‘‘ ضلع دیامرمیں واقع ہے۔جسے کلرمونٹین بھی کہا جاتا ہے۔گلگت بلتستان کے سب سے گھنے اور بڑے جنگلات ضلع دیامر میں واقع ہیں۔ قراقرام ہائی وے کا بڑا حصہ ضلع دیامر سے گزرتا ہے۔ دنیا کی سب سب سے لمبی عمر والا ڈیم بھی ضلع دیامر میں بن رہا ہے۔ضلع دیامروہ واحد ضلع ہے جس میں سو فیصد اہل سنت دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں۔ضلع دیامر کے لوگ انتہائی ملنسار،دیندار اور سادہ ہیں۔

نانگا پربت انسانی دنیا کا ایک عجوبہ ہے،نانگا پربت ضلع دیامر کے علاقے گوہرآباد رائیکوٹ میں واقع دنیا کا عظیم ترین خونی پہاڑ ہے۔نانگا پربت محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ ایک جادو ہے، طلسم ہے جو دنیا کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔گزشتہ ڈھائی سو سال سے پوری دنیا سے سیاح اور کوہ پیما اس کی طرف کھنچتے آرہے ہیں۔اب تک صرف دو دفعہ نانگا پر بت کی چوٹیوں کو ہاتھ لگایا جا سکا ہے۔ایک دفعہ 1953 اور دوسری دفعہ 1995کو۔ باقی جب بھی کوئی کوہ پیما اس کو سر کرنے نکلا ہے خو د اس کا شکار ہوکر رہ گیا ہے۔کوئی پارٹی آخری سرے تک پہنچنے، پاتی ہے کہ ہواؤں کے دوش اڑ جاتی ہے اور اس کی ہڈیاں برف بن کر رہ جاتی ہے۔نانگا پربت کی بلند چوٹیاں ہمیشہ بادلوں سے ڈھکی رہتی ہیں۔نانگا پربت کے قدموں میں ایک لمبی گلیشئر ہے جو دو رنگوں پر مشتمل ہے۔سفید اور براؤن، مقامی لوگوں کے مطابق یہ جوڑا ہے اور اس کے اتصال سے گلیشئر میں مزید اضافہ ہوجاتاہے۔یعنی میاں بیوی کے اتصال سے نسل میں اضافہ ہوتا ہے اس طرح یہ جوڑا بھی گلشیئر بڑھانے کا کام دیتا ہے۔خدا جانے۔

نانگا پربت پر چڑھنے کے بنیادی طور پر تین راستے ہیں۔ایک راستہ بذریعہ لنک روڈ رائیکوٹ فیری میڈو تک جاتا ہے جو سب سے دشوار ترین ہے ، ایک راستہ استور کی طرف سے بھی ہے اور تیسرا راستہ بونر نالہ سے جاتا ہے۔فیری میڈو اور نانگا پر بت کی سیر کے لیے جانے والے اکثر سیاح بذریعہ لنک روڈ رائیکوٹ پہنچ جاتے ہیں جبکہ کوہ پیمائی کے لئے اکثر بونر نالہ والا راستہ استعمال کیا جاتاہے۔

رائیکوٹ کی حسین ترین وادی ’’فیری میڈو‘‘ہے، جسے شینا زبان میں’’ فری‘‘ کہا جاتا ہے۔ 1953کو اسٹرین کے ایک کوہ پیما ہرمن بوہل نے اس کی خوبصورتی کو دیکھ کراسے فیری میڈو کا نام دیا ہے تب سے آ ج تک یہ فیری میڈو کے نام سے معروف ہے۔فیری میڈو کو اللہ تعالیٰ نے بے حد قدرتی حسن سے نوازا ہے۔ اس کو پریوں کا مسکن اور چراگاہ بھی کہا جاتاہے۔علاقائی کہاوت مشہور ہے کہ یہاں دیو پری رہتے ہیں۔جوبھی نانگا پربت کو سَر کرنے کے لیے جاتا ہے وہ اس کو غائب کردیتے ہیں۔

ہر سال موسم سرما میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ مقامی لوگ دو تین مہینوں میں کروڑوں کماتے ہیں۔نانگا پربت کی عظمت و بلندی کو اپروچ کرنے کے لیے چند کوہ پیماؤں نے بذریعہ بونر نالہ سفر شروع کیا۔راستے میں کیمپ لگایا،رات کو جی بی اسکاؤٹس کی وردی میں ملبوس سفاک قاتلوں نے انہوں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتاردیا۔ان میں تین چین،دو یوکرائن،ایک چینی نژاد امریکی،دوسلواکیہ اورایک ایک نیپال اور لھتوانیا کے باشندے ہیں اور دوپاکستانی۔

میری دانست کے مطابق یہ سانحہ ملک پاکستان اور گلگت بلتستان کے امیج کو خراب کرنے کی ایک اہم کڑی تو ہے ہی مگر ضلع دیامر کو بدنام کرنے کی اہم ترین سازش ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں،یہ بات تو ہم سب پر عیاں ہے کہ یہ واردت امریکی گریٹ گیم کا اہم حصہ ہے۔امریکہ مسلم دنیا کا تھوڑا سا مفاد بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔گوادر چین کے حوالہ کیا گیا ہے جو امریکہ کو ہضم نہیں ہو پارہا ہے۔گوادر بذر یعہ دیامر چین تک لنک کرتا ہے۔ اور دیامر بھاشا ڈیم بھی ضلع دیامر میں بن رہا ہے۔پاک چائنہ ریلوے ٹریک استعماری قوتوں کو ناقابل برداشت ہے ۔ کچھ نادیدہ قوتیں ایسی ہیں کہ جنہیں عالمی سطح پربالعموم گلگت بلتستان اور بالخصوص دیامر اور اس کے خوبصورت سیاحتی مقامات کی مقبولیت پسند نہیں، اس لیے تو اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ امریکی استعماری قوتوں کا ایک اہم ایجنڈا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں جہادی سرگرمیاں ہوں وہاں مداخلت کرتا ہے اور ایسے حالات پیدا کرتا ہے جو امت مسلمہ کے لیے تباہ کن ہو۔یا پھر جہاں سے جہادی سرگرمیاں پیدا ہونے کا امکان ہو وہاں بھی جان بوجھ کر ایسے واقعات کراتا ہے کہ مقامی حکومتیں وہاں کے عوام سے نبرد آزما ہو۔پھر افراتفری پیدا ہوجائے اور اندرونی خانہ جنگی ہو۔ضلع دیامر میں بھی دیندار اور اسلامی ذہن رکھنے والے لوگ ہیں۔ اب امریکی استعماری قوتیں ایسے حالات پیداکرارہے ہے کہ اپریشن کی راہ ہموار ہو ،حکومت پاکستان دہشت گردی کے نام پروہاں اپریشن کرے۔ جس سے علاقائی اور ملکی سخت نقصان ہوگا اور در پردہ امریکی مفادات تکمیل کو پہنچے۔جب ضلع دیامر میں اپریشن کیا جائے گا تو دیامر ڈیم کی تعمیر ناممکن ہوگی۔گوادر پورٹ کا منصوبہ خاک میں مل جائے گا۔ پاک چائنہ ریلوے ٹریک خواب بن کر رہ جائے گا۔گلگت بلتستان کی سیاحت بالخصوص نانگا پربت کی سیاحت تباہ ہوکر رہ جائے گی۔ اور یہی امریکی اور صیہونی خواہش ہے۔ اس واقعہ سے پہلے میں لولو سر،چلاس اور کھنبری کے سانحات ہوئے ہیں جن کے مرکزی مقاصد گلگت بلتستان میں مذہبی تفرقہ اور خانہ جنگی پیدا کرنا تھا مگر دیامر اور گلگت کے عمائدین، علماء کرام نے مکمل یکجہتی سے ان ناپاک عزائم کو بڑی حکمت عملی سے خاک میں ملا دیا۔ اب کی بار اس گریٹ گیم کو کامیاب بنانے کے لیے امریکیوں نے ایک اور چال چلی کہ غیر ملکی سیاح کو قتل کروادیا۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ عالمی لیول میں اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی،گورنمنٹ پاکستان اور اس کے حساس ادارے سخت دباؤ میں آجائیں گے اور یوں پاکستانی حکومت عالمی دنیا کو مطمئن یا خوش کرنے کے لیے ابتدائی طور پر ضلع دیامر پھر پورے گلگت بلتستان میں جنگ دہشت گردی کے نام سے اپریشن کرے گی، جس سے لازمی طور پر دیامر ڈیم منصوبہ، پاک چین تجارت، گوادر پورٹ پلان،گلگت بلتستان کی سیاحت اور کے کے ایچ اور دیگرمنصوبے زیر زمین چلے جائیں گے۔جس سے پاکستان اور گلگت بلتستان کو کھربوں کا نقصان ہوگا۔یہی ہے اس گریٹ گیم کا مرکزی ٹارگٹ۔ ارباب اختیار سے ہمارا ایک طالب علمانہ سوال ہے کہ کیا اپریشن سے بلوچستان، وزیرستان اور فاٹا میں امن قائم کیا جا سکا ہے اور دہشت گردوں کو نکیل ڈالا جاسکا ہے۔وہاں کے لوگوں نے تو ہاتھوں میں اسلحہ اٹھایا ہوا ہے جبکہ دیامر کے لوگ تو ہر مشکل میں حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑے ہیں،پھر بھی اگر قصور وار ٹھہرتے ہیں تو اللہ ہی جانے۔

ہماری دیامر کے علماء و عمائدین،جی بی حکومت،پاکستان آرمی اور حساس اداروں سے درمندانہ گزارش ہے کہ عالمی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ایسا کوئی لائحہ عمل تیار کرے کہ صیہونی اور استعماری مقاصد خاک میں مل جائے اور دجالی قوتیں امت مسلمہ کا شیرازہ بکھیرنے میں ناکام ہوجائے۔اگرنااہلی اور غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا گیا تو ضلع دیامر تو ہوگا ہی تباہ مگر پاکستان اور پورے گلگت بلتستان کا بھی نقصان عظیم ہوگا۔

ضلع دیامر کے تمام علماء کرام، عمائدین،طلباء اور عوام الناس نے اس بربریت پر مبنی واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ ہرطبقے کے لوگوں نے کھل کر مذمت کی ہے۔ مختلف جگہوں میں اس کے خلاف احتجاج ہوئے ہیں۔اسلا م ایسی بزدلانہ حرکتوں کی سخت مخالفت کرتا ہے کہ بے آسرا اور مسافر لوگوں کو یوں قتل کیا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس سانحہ کے پس منظر میں کوئی ایسی طاقت ہے جو پورے میں میں اس طرح کے واقعات کروارہی ہے۔اگر صاحبان اقتدار اور اصحاب بست و کشادنے کسی کے دباؤ میں آکر یا عجلت کا مظاہرہ کرکے کوئی ایسافیصلہ کیا جو دیامر کے لوگوں کے ساتھ ظلم پر مبنی ہوگا تو یاد رہے کہ پھر وزیرستان اور بلوچستان والے حالات پید ا ہونگے۔تب وہ سنبھالنا چاہیے تو بھی نہیں سنبھل پائیں گے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments