فارسی اور کھوار میں لکھی گئی سترھویں صدی کی کتاب کی تقریب رونمائی

فارسی اور کھوار میں لکھی گئی سترھویں صدی کی کتاب کی تقریب رونمائی

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شاعر اتالیق محمد شکور غریب کا فارسی اور کھوار (چترالی) زبان میں سترھویں صدی (١٦٩٠ اور ١٧٦١کے درمیان) لکھی گئی کتاب “مشک ختن”  کی تقریب رونمائی آج چترال میں ہوئی. مجموعے کا پروفیسر نقیب اللہ رازی نے اردو میں ترجمہ کیا ہے جبکہ اسکی اشاعت کا اہتمام اتالیق شکور غریب کے پڑ پوتے منیر احمد نے کیا ہے۔
کتاب کی تقریب رونمائی گورنمنٹ سینٹینل ماڈل ہائی سکول چترال کے ہال میں منعقد ہوئی جس کی صدارت پروفیسر رحمت کریم بیگ نے کی جبکہ اس موقع پر شہزادہ امیر حسنات الدین شہزادہ گل مہمان حصوصی تھے۔ مقررین نے کتاب کے محتلف پہلو پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ اتالیق محمد شکور غریب جو آج سے تین سو سال پہلے گزرا ہے وہ نہایت تاریحی شحصیت کے مالک تھے وہ بیک وقت صاحت قلم اور صاحب سیف و شمشیر بھی تھے۔ انہوں نے محتلف جنگوں میں حصہ لیا اور فاتح کی حیثیت سے واپس لوٹا۔ انہوں نے سنگین علی ثانی، محمد غلام، شاہ عالم، محمد شفیع، شاہ فرامداد، شاہ مردان قلی بیگ، شاہ عبد القادر، شاہ افضل، اور دیگر حکمرانوں کا زمانہ دیکھا ان نو ریاستی حکمرانوں کا دور نہایت پر آشوب تھا خانہ جنگیوں کا زمانہ تھا کٹور اور رئیس خاندان میں رسہ کشی تھی اور کٹور و خوشوقت خاندان میں بھی چپقلش تھی۔
محمد شکور غریب اس زمانے میں نہایت لکھا پڑا آدمی تھا اور بیک وقت صاحب سیف و صاحب قلم بھی۔ انہوں نے اس زمانے میں ہندوستان کا بھی دورہ کیا جو چترال کے حکمرانوں کے ساتھ شاہی مہمان کے طور پر گیا اور وہاں ایک صوفی بزرگ سے ملا جس سے وہ بہت متاثر ہوا اور اس کا ذکر بار بار اپنے کلام میں کرتا رہتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ شکور غریب کے کلام میں صوفی ازم کی چاشنی ملتی ہے وہ خود داری، بہادری، سخاوت اور نام پیدا کرنے پر زور دیتا ہے۔ پروفیسر نقیب اللہ راضی کہتا ہے کہ وہ اپنے دور کا اعلےٰ پائے کا شاعر تھا۔ تقریب سے پرنسپل مولا نگاہ نگاہ، گل نواز خاکی، حیدر حسین، انصار الہی، پروفیسر نقیب اللہ رازی، پروفیسر رحمت کریم بیگ، امیر حسنات الدین شہزادہ گل، قادر شاہ ، مولانا خلیق الزمان خلیق خطیب شاہی مسجد چترال اور منیر احمد نے اظہار حیال کیا جبکہ اسٹیج کی خدمات جاوید حیات نے انجام دی۔ تقری میں کثیر تعداد میں اساتذہ، شعراء، دانشور اور طلباء نے شرکت کی۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔