قربانی کا بکرا

قربانی کا بکرا

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بکر عید میں ابھی ایک ہفتہ باقی تھا .  میاں بیوی میں تکرار کا  سلسلہ پچھلے کئی روز سے جاری تھا ۔۔۔کبھی شریک حیات کا پلہ بھاری رہتا اور کبھی میاں کا۔ بچے روزانہ ان کی تکرار دیکھ اور سن بھی رہے تھے . زندگی کی ہمسفر چاہ رہی تھی کہ جیسا بھی ہو قربانی کا جانور گھر میں آنا  چاہئے جبکہ سرتاج ہوں ہاں کر کے اس کی بات کو ٹالتا رہتا کیونکہ اسے  اپنی جیب  پر پورا بھروسہ تھا جوعموما  مہینے کے شروع  ہوتے ہی جواب دے جاتی  تھی. ایسے میں قربانی کے بکرا کا مطلب تھا  اگلے سال تک خود کو قربانی کے لئے پیش کرنا۔

اس نے شریک حیات کو سمجھانے کی بہت کوشش کی قران و حدیث کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ بھلی مانس مریل اور کان کٹے جانور کی قربانی نہیں ہوتی.  لیکن بیوی کی ایک ہی ضد تھی  قربانی کا بکرا۔۔۔۔۔ ۔۔ بیوی کی جھنجھلاہٹ اور روز روز کی تکرار سے تنگ  میاں نے   سوچا  کہ ایک دفعہ ذرا بکرا منڈی کا چکر لگایا جائے. یہ سوچ کر وہ بکرا منڈی کی طرف چل پڑا  ابھی وہ بکرا منڈی سے  چند گز کے فاصلے پر ہی تھا کہ   سارے بکرے اس کی طرف دیکھ کے ہنسنے لگے ۔۔  اسے حیرانگی سی ہوئی کہ ان بکروں نے اسے کیسے پہچان لیا  کہیں کسی نے ان بکروں کو پہلے ہی تو نہیں بتایا کہ میں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟   یہ بکرے بھی بڑے ہوشیار ہوگئے ہیں.  شائد ان کے پاس  بھی کوئی بکرا موبائل موجود ہے  اور کئی سے کوئی ایس ایم ایس آیا ہوگا۔۔ جونہی وہ  بکروں کے قریب پہنچا تو بکروں نے اپنی مخصوص اواز میں اس کا استقبال کیا بکروں کا بادشاہ یعنی مالک  بڑے مزے سے ٹوپی کو ترچھا پہنے ہوئے  بڑے ٹھاٹ سے نوٹوں کی گنتی کررہا تھا  شائد ابھی ابھی اس نے کسی کو بڑی رعایتی نرخ میں۔۔  بس یہی  بیس ہزار پہ ایک بے ڈھول اور چھوٹے قد کا بکرا پکڑا دیا تھا بلکل اسی طرح جیسے میرے اور اپ کے بادشا  حکمران  اجکل میرٹ  کے نام پرتین چار لاکھ  روپے  میں ملازمت کا پروانہ جاری کرتے ہیں۔۔۔ اس نے کئی بکروں کے سر پر ہاتھ پھیر کر ان کو دعا دی اور  ان کے پر جوش استقبال کا شکریہ بھی ادا کیا ۔۔۔

اتنے میں ایک بکرے نے  ا سے کچھ بتانے کی کوشش کی جو اس کی سمجھ میں نہیں آیا  وہ اس کے قریب ہوا تو بکرا پھر سے  اس سے  مخاطب ہوا تب  بکرے کی بات اسے سجھ میں آئی   وہ کہہ رہا تھا کہ آجکل ہماری دنیا بھی آپ کی دنیا کی طرح ہوگئی ہے. کالے بکروں اور سفید بکروں کا جھگڑا اس شدت سے پھیلا ہے کہ بات ہی نہیں بنتی  اسی جھگڑے کی بدولت کئی بکرے زخمی اور قربان بھی ہوئے اب تو نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ ہم بکرے  جو سب کے سب مسلمان  ہیں وہ اس لئے کہ قربان تو مسلمان بکرے ہی ہوتے ہیں نا  لیکن اب ان مسلمان بکروں کے مالکان نے ٹھیکیداروں والا چکر یہاں بھی  چلایا ہے کہ کوئی ایک فرقہ والا دوسرے فرقہ کے علاقے میں ٹھیکہ نہ لے اور پھر جہاں وہ ٹھیکہ لے وہاں اپنی من مانی کرے اسی طرح بکرا منڈیاں بھی اب الگ الگ ہوئی ہیں جس کے باعث ہمیں چارہ پانی میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے جیسے اپ کی دنیا میں بے چارے غریب اور عام مسلمانوں کا ہے جو اپنی روزی کے لئے پریشان  ہے ۔۔۔بات تو بکرے نے بڑی پتے کی۔ پر وہ کیا کہتا .صرف اس نے بکرے سے  اتنا کہا کہ بکرے میاں  یہ وہی بات ہے کہ بکری کی تین ہی ٹانگیں ۔۔۔ یہ ساری باتیں فضول اور غلط ہیں. پر یہ باتیں ہم  پڑھے لکھے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں.

 بکرامنڈی میں بکروں کی گہماگہمی اور لوگوں  کی اپنی اوپر کی کمائی کے بے دریغ اور شاہانہ خرچ دیکھ کر اس کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی  کہ وہ کسی بکرے کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے کہ ہاں جی  یہ میرا ہوا کیونکہ پچھلے تین چار گھنٹوں سے اسے تقریبا سب بکروں کے دام معلوم ہو چکے تھے  بلکہ انکی قیمت کیا معلوم ہونی تھی. اسے  اپنی اوقات کا علم ہوچکا تھا .کہ متوسط طبقے کے لوگ جن کا صرف حلال روزی  پر ایمان ہوتا  ہے کس جان کنی کی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں.

ان سب باتوں کے باوجود  اس نے ڈرتے ڈرتے ایک مریل اور کمزور  بکرے کے نرخ پوچھ  ہی لئے تو مالک نے  فورا جواب دیا صرف پندرہ ہزار۔۔  جب اس نے اپنی جیب کے ساتھ اس دام کا   موازنہ کیا تو تقریبا نصف کا فرق تھا یعنی اس کے جیب میں ساڑھے سات ہزار روپے تھے اس نے مالک کے ساتھ  ادھر ادھر کے واسطے نکال کر  اس بکرے کی دام میں کسی حد تک کمی کروائی لیکن پھر بھی اسے اس بکرے کی خریداری میں  تین ہزار روپے  ادھار کسی دوست سے لینے پڑے۔۔۔ بے چارہ  قربانی کا بکرا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔