خزاں کے رنگ

خزاں کے رنگ

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 ملک کے باقی حصوں  کی طرح گلگت شہر  میں بھی ربیع اور خریف کی فصلیں کاشت ہوتی ہیں ۔ بس اتنا فرق ہے کہ گلگت  کے سوا  بالائی علاقوں کی زمینیں  یک فصلی ہیں ۔۔گلگت میں  مکئی کی کٹائی اکتوبر کے مہینے میں مکمل  ہوجاتی  ہے  ۔ اس کے بعد یہاں کی زمین   فروری کے وسط تک  بچوں کے لئے  کھیل کا میدان  اور مال مویشیوں  کے لئے چراگا  ہ   کا کا م دیتی ہے ۔۔اکتوبر کے وسط سے  یہاں   کی دنیا ایک عجیب  اور   دل فریب  منظر پیش کرتی ہے ۔۔    گھر سے باہر نکلتے ہی   حد نظر مویشیوں بھیڑبکریاں اور  گاوٗں کے بچے   ہر کھیت میں نظر آتے ہیں ۔۔۔۔ اور یوں لگتا ہے کہ  جیسے ہم کسی قدرتی  چراگاہ میں گھوم رہے ہیں ۔۔۔حیران ہونے والی بات نہیں   یہ منظر اس لئے ہوتا ہے کہ  مکئی کی کٹائی کے بعد   یہاں  کے رواج کے مطابق لوگ   اپنے مال مویشیوں کو  گھاس چرائی کے لئے کھلا چھوڑ دیتے  ہیں ۔۔۔۔ اور یہ خزاں کا موسم ہے  اور گلگت بلتستان میں خزاں کا اپنا ایک رنگ ہے.

خزاں کے یہ چند دن جو پندرہ نومبر تک ہوتے ہیں  بڑے ہی حسین اور منفرد ہ ہیں۔۔  پتوں کا جھڑنا اور  پھر  ان کا گرنا ہمیں ایک نئی زندگی   کی نوید  کے ساتھ  یہ پیغام بھی   دیتا ہے کہ  اپنے لئے تو سبھی جیتے ہیں    لیکن مزہ اور اصل زندگی کا مقصد یہ ہے کہ  یہ زندگی دوسروں کے کام آئے جیسے یہ پتے کل تک  درختوں میں تھے تو انسانوں کے لئے سائےکا کام دیتے رہے اور آج یہ فنا  ہو کے بھی دوسروں کے  فائدے  میں آرہے ہیں ۔۔یعنی جانوروں کی خوراک ۔۔۔۔

خزاں کے اس موسم کو مقامی لوگ  (ہیٹو کھین  یا ہیٹی  کہتے ہیں  )شینا  میں  ہیٹ  کا لفظ   آورہ      یا کھلا اور آزاد کے زمرے میں استعمال ہوتا ہے لیکن   یہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ    فرصت اور   مال مویشیوں  کی کھلی چرائی ۔۔۔۔۔۔یہ رواج یہاں عرصہ دراز سے چلا آرہا  ہے   لیکن آج کل  کچھ علاقوں میں  دور جدید  کے کاشت کاری کے تحت    اس موسم میں بھی  سبزیاں اور دیگر     فصلوں  کے اگانے   کے تجربات    ہو رہے ہیں  جس کے کے باعث ان  علاقوں میں   ویشیوں کی کھلی چرائی پر  پابندی  لگانے  کی کوشش  کی  گئی ہے  لیکن     یہ ناکا م  ثابت  ہو رہی ہے  ۔۔۔۔۔

پابندی سے یاد آیا   گلگت میں اسی کے دھائی تک  گلگت پولیس سٹیشن  کے  عقب میں  مہارجہ  کے وقتوں  کا ایک  پھاٹک  ہوا کرتا تھا ۔۔۔۔زمین حکومت کی ملکیت تھی   اب یہاں پھاٹک شاٹک    نام کی کوئی چیزنہیں ہے. ہو سکتا ہے کہ یہ زمین کسی کو الاٹ کی گئی  ہے یا پھر پولیس نے اسے اپنے تصرف میں لایا ہو! اللہ ہی جانے ۔۔  اس پھاٹک کا بنیادی مقصد یہ تھا  کہ  فصلوں کے وقت   اگر  کوئی اپنے مال مویشیوں کو باہر کھلا چھوڑ  دیتا تو اس کو پھاٹک میں  رکھا جاتا تھا اور جرمانہ ادا کرنے کے بعد  مالک کے حوالے کیا جاتا ۔۔دوسرا مقصد اس کا یہ تھا کہ  سرقہ  کی گائیں بیل اور بکریوں کی بازیابی کے بعد  ان کو پھاٹک میں    تحقیقات مکمل ہونے تک رکھا جاتا تھا ۔۔۔۔آج کل  یہاں انسان  بازیاب نہیں ہوتے تو مال مویشی کی بات  دور کی ہے  شائد اس لئے اس پھاٹک کو ہمیشہ ہمیشہ کے  نیست  نابود کر دیا   گیا ہو ۔۔۔

نہ رہے بانس نہ بجے بانسری!!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔