اتحاد امت و آزادی گلگت بلتستان کانفرنس کا انعقاد، سینیٹر لیاقت بلوچ اور عبدالرشید ترابی کا خطاب

اتحاد امت و آزادی گلگت بلتستان کانفرنس کا انعقاد، سینیٹر لیاقت بلوچ اور عبدالرشید ترابی کا خطاب

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
گلگت (تنویر احمد اور مون شیرین سے) اتحاد امت و آزادی گلگت بلتستان کے عنوان سے منعقدہ کانفرس سے خطاب کرتے ہوے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام آئینی حقوق سے محروم  اور مایوسی کا شکار ہیں. انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمران اگر مسلہ کشمیر کے سلسلے میں آگے نہیں بڑھ پا رہے ہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ ان دو علاقوں کو آئینی حقوق سے محروم رکھا جائے. اس صورتحال کے لیے پالیسی ساز اداروں کی غفلت کو مورد الزام ٹہراتے ہوے انہوں نے کہا کہ حقوق سے محرومی کی وجہ سے لوگوں کو آئینی عدالتی انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے.
نائن الیون اور پاکستان میں دہشتگردی 
لیاقت بلوچ نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سابق فوجی صدر جنرل مشرف نے امریکہ کی ایک فون کال پر ہتھیار ڈال دیا اور امریکہ کی جنگ کو اپنے اوپر مسلط کر کے قوم سے یہ کہا کہ امریکہ کے زریعے مسئلہ کشمیر حل کرونگااور بھارت کو دنیا میں تنہا کرونگا،کچھ لبرل قوتوں نے مشرف کو صحیح سمجھالیکن اس کا نتیجہ آج قوم کے سامنے ہے ،مشرف نے پاکستان میں ڈرون حملے کرائے تخریب کاری اور دہشتگردی کے ذریعے50ہزار بے گناہ افراد کو شہید کر کے ملک کو پچاس ہزار ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا،ملک میں غربت اور بے روز گاری،مہنگائی کو بڑھایا ایک غلط پالیسی نے قوم کو تقسیم کرکے مصلحتوں کا شکار کردیا،انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اب یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ حکیم اللہ محسود شہید ہے کہ نہیں جس کا اصل مقصد ڈرون حملوں کیخلاف اٹھنے والی آواز سے توجہ ہٹانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سلامتی کی ایک ایسی پالیسی بنانی ہوگی جو اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرے اس وقت پاکستا ن کو سکیولر ریاست بنانے کی کوشش ہورہی ہے لیکن ہم ان عناصر کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب تک جماعت اسلامی اس ملک میں ہے کوئی اس کو سیکیولر ریاست نہیں بنا سکتا ،اللہ کا دین ان قوتوں پر غالب آئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم گلگت والوں کو جوڑنے کیلئے آئے ہیں اور ہماری ترقی کا راز اتحاد ،برداشت اور باہمی احترام میں ہی مضمر ہے،اتحاد کے بغیر نہ ہم ترقی کرسکتے ہیں اور نہ ہی ملک مستحکم ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ او ر اسرائیل عالم اسلام کو ٹکرے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں کشمیر ،فلسطین ،شام اور عراق کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اس کے باوجود امریکہ اور یورپ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں،اس لیے کہ ان کا نظام ناکام ہے اور امریکہ اور یورپ کے پاس مسلمانوں کی قیادت کی صلاحیت نہیں ہے اس لئے کہ مسلمانوں کے درمیان صحابہ اور اہلبیت کی محبت موجود ہے اور قرآن و سنت مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز ہے،لیاقت بلوچ نے کہا کہ چار مسلم ممالک سعودی عرب،ترکی،ایران اور پاکستان اپنے اختلافات بھلا کر مسلمانوں کی ترقی کا سوچیں تو امت مسلمہ مسائل سے نجات پاسکتی ہے،انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں منظم سازش کے تحت سنی ،شیعہ ،دیوبندی،بریلوی،مقلد اور غیر مقلدکے اختلافات کھڑے کیے جاتے ہیں اور تقسیم کرو اور حکومت کرو کے تحت حکمران ہمیں چلا رہے ہیں،دولت کے نام پر سیاست کرنے والے ہمارے اندر نفاق پیدا کرکے اپنے اقتدار کا الو سیدھا رکھنے کی کوشش کررہے ہیں،انہوں نے مساجد بورڈ گلگت کے امن و امان کے حوالے سے کئے گئے اقدامات اور کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اتحاد امت کیلئے مساجد بورڈ کی کاوشیں قابل ستائش ہیں،لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ دشمن ہم سے ہماری نئی نسل چھین رہا ہے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم حسینی جذبے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں ۔
اس موقعے پر خطاب کرتے ہوے

امیر جماعت اسلامی کشمیر و گلگت بلتستان عبدالرشید ترابی نے کہا کہ اس وقت پاکستان بہت سارے مسائل  سے دو چار ہے اور ان مشکلات سے نکلنے کے لئے امت مسلمہ کو متحد ہونے اور اپنے صفوں میں یکجتی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کے عزائم یہ ہیں کہ مسلمان آپس میں دست گربیاں ہوں اور وہ ہمارے وسائل پر قبضہ کر سکے۔
اُنہوں نے کہا کہ جب تک آیئنی حقوق حاصل نہیں ہوتے گلگت بلتستان کی آزادی مکمل نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لداخ آپ کا حصہ ہے، کشمیر آپ کا ہے.  1945 ء کی  قراراد اور مجاہدین کا مشن ابھی تشنہ تکیمل ہے۔ جب تک پوری ریاست جموں کشمیر آزادی کے بعد پاکستان کا حصہ نہیں بنتی اُس وقت تک نہ پاکستان کی آزدای مکمل ہے، نہ گلگت بلتستان کی آزادی مکمل ہے اور نہ ہی آزاد جموں کشمیر کی آزادی۔ ہماری آزادی تشنہ تکیمل ہے کشمیر کی آزادی اور کشمیر سے پاکستان کے الحاق کے نیتجے میں نظریاتی و جغرفیائی اعتبار سے مکمل ہو گا اور وہ مشن کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا.
صحابہ کرام اور اہلبیت کا احترام 
 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جامع موتی مسجد گلگت کے خطیب مولانا خلیل احمد قاسمی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پائیدار امن کے قیام اور اتحاد امت کیلئے ہمیں صحابہ کرام اوراہل بیت کی سیرت پرعمل کرناچاہیے تب جاکر ہم کامیاب ہوسکتے ہیں لڑنے جھگڑنے سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا ،انہوں نے کہا کہ اہل سنت کے لوگوں کیلئے حضرت امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ بالکل اسی طرح ان کے ایمان کا حصہ ہیں جس طرح حضرت ابوبکرؓ اورحضرت عمرؓ ہیں او رحسین ابن علیؓ کے غلام ہونے پراہلسنت فخرمحسوس کرتے ہیں انہو ں نے کہاکہ سیدنا حسینؓ اور سید ناحسنؓ خانوادہ نبوت کے چشم وچراغ ہیں حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے جگر گوشے ہیں ان کی شہادت (امام حسینؓ ) کومیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،انہوں نے کہا کہ اتحاد امت وقت کی ضرورت ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ جس مشن کیلئے رسولؐ آئے اور 23برس اسلام کے پھیلانے کیلئے محنت کی اور سوالاکھ رضا کار پیدا کئے اور انہیں ایسی تعلیم دی کہ وہ جہاں کہیں گئے اپنے کردار سے فتوحات حاصل کیں لوگوں نے ان کے کردار کو دیکھ کر ہتھیا ڈال دیئے اور دائر ہ اسلام میں داخل ہوگئے ،آج ہمیں اتحاد اور کردار کی ضرورت ہے ،مولانا خلیل احمد قاسمی کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان آکر اتحاد کے نام پر انتشار پھیلانے والوں کو حکومت روکے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے کردار اور قول سے امن قائم کرنا ہوگا ،انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ سینیٹر لیاقت بلوچ گلگت بلتستان کے حقوق کے حوالے سے سینیٹ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے .
کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے اہل تشیع مسجد بورڈ کے ممبر محمد علی شاہ نے کہا کہ دیگر اضلاع کے لوگوں کی یہ شکایت ہے کہ ضلع گلگت میں صرف چا رکلومیٹر کے علاقے میں پیدا ہونیوالے حالات سے تمام اضلاع کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے انہوں نے کہا کہ ضلع گلگت میں تمام اضلاع کے لوگ آباد ہیں اور یہاں پر بسنے والے تمام لوگوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ امن کے قیام کیلئے اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کریں ،گزشتہ دس سالوں سے یہاں پر قیمتی لوگوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں ،اور اس سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے اور ہم سب کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ ا ہے ،مساجدبورڈ کے ممبران نے امن کا جھنڈا اٹھا کر میدان میں آئے ہیں اور ہم نے امن و امان کے قیام اتحاد بین المسلمین کے فروغ ،رشوت اور ناانصافی کے خاتمے کا تہیہ کررکھا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ گلگت بلتستان کے عوام کیساتھ ہونے والی زیادتیوں کیخلاف اعلیٰ ایوانوں میںآواز بلندکریں گے ،
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہلسنت مسجد بورڈ کے ممبر متولی خان نے کہاکہ 2005ء دلخراش واقعات کے بعد امن جرگہ نے علاقے میں امن کے قیام کیلئے متفقہ طور پر ایک امن معاہدہ کیا اور اس معاہدے سے کافی حدتک امن کے قیام پراثرات مرتب ہوئے تھے اور اب مساجد بورڈ کے قیام عمل میں لایاگیا ہے تاکہ امن کے قیام اور اتحاد بین المسلمین کوفروغ دیاجائے ،کچھ سال قبل یہاں پر حالات اتنے خراب ہوئے تھے کہ ایک شخص گھر سے صبح نکلتا تھا اس کو یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ شام کو زندہ گھر آسکے یا نہیں ،اور ساتھ ساتھ قتل کرنیوالے کواس بات کا علم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کیوں کسی کو قتل کررہا ہے ،اور مرنے والے کو یہ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کیوں مارا گیا ،تاہم گزشتہ ڈیڑھ سال سے علاقے میں امن ہے اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور امن کے قیام کیلئے فورس کمانڈر ،آئی جی پی اور چیف سیکرٹری ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں متولی خان نے کہا کہ گوادر پورٹ کو چائنہ کے حوالے کرنے اور پاک چائنہ ریلوے ٹریک بنانے کے معاہدے کے بعد عالمی طاقتوں کی نظر میں گلگت بلتستان پرہے امریکہ اسرائیل اور بھارت اس علاقے میں بلوچستان جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں.
جماعت اسلامی کا گلگت بلتستان بارے سیاسی موقف 
جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے امیر عبد السمیع نے کہا کہ جماعت اسلامی گلگت بلتستان کو کشمیر کاحصہ کسی بھی مذہبی تعصب کی بنیاد پر قرار نہیں دیتی ہے بلکہ زمینی اور تاریخی حقائق کو مدنظر رکھ کر جی بی کوجموں و کشمیر کا حصہ قراردیتی ہے ،گلگت بلتستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے نظریے ہیں اور اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی حقیقت ہوگی ،ہماری جماعت زمینی حقائق کے مطابق تکمیل پاکستان ہے انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کے حقیقی ثمرات اس وقت ملیں گے جب ہم مسلمان حضرت حسینؓ کے نقش قد پر چلیں گے حضرت حسینؓ عالی مقام نے اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ نظام کیلئے یزید کیخلاف علم بغاوت بلند کیا ،اور اپنی قیمتی جان کی بھی قربانی سے گریز نہیں کیا آج حضرت امام حسینؓ اورحسینی جذبے سے ہی ہماری کامیابی ممکن ہے ہماری محرومیوں کے ازالے اور حقوق کے حصول کیلئے ہمارے قائدین جدوجہدکررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم بلتستان کے علما کرام بالخصوص شیخ حسن جعفری کا شکریہ اداکرتے ہیں کہ انہوں نے ہماراساتھ دیا اس کے علاوہ دیامر،استور اور گلگت کے عوام کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں ،دشمنوں کے عزائم کو ناکام کرنے کیلئے عوام کے احساس محرومیوں کاخاتمہ اور یہاں کے عوام میں اتحاد اوراتفاق لازمی ہے ، ہمیں نہ مکمل پاکستانی بنایا جارہا ہے اور نہ ہی کشمیر کے ساتھ ملاکر ایک یونٹ بنایاگیا ہے ،انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہے شیعہ علما کونسل کے صدر شیخؒ شہادت حسین نے کہا کہ جب تک امن قائم نہیں ہوگا نہ تو ہمیں حقوق مل سکتے ہیں اور نہ ہی جی بی کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے تمام مسلمانوں کااللہ ،قرآن اور رسول ایک ہے آج مسلمانوں میں اتحاد اور اتفاق کی اتنی ضرورت ہے جتنی کہ گلگت بلتستان کو آزاد کرانے اور پاکستان کو بنانے میں بھی ضرورت نہیں تھی چونکہ آج ہمارا دشمن زیادہ طاقتور ہے ۔
کانفرنس میں گلگت بلتستان کے ممتاز شاعر جمشید خان دکھی نے اپنا کلام بھی پیش کیا جسے شرکا نے بہت سراہا ،کانفر نس میں مختلف مکاتب فکر کے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی.
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔