پچیس فیصد خصوصی تنخواہ کے بقایا جات ادا نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے: آل ایمپلائیز ایسوسی ایشن گلگت

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
گلگت (پریس ریلیز) سپریم اپیلٹ کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود صوبائی حکومت خاص طور سے فنانس ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان کی جانب سے گلگت بلتستان کے سرکاری ملازمین کو25% خصوصی تنخواہ کے بقایاجات Arears))ادا نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے اور یہ ملازمین کے ساتھ انتہائی زیادتی و ناانصافی ہے۔25% خصوصی تنخواہ کے بقایاجات کا بروقت حصول ملازمین کا بنیادی حق ہے ۔لہذا وزیر اعلی ، وزیر خزانہ ،چیف سیکریٹری اور سیکریٹری فنانس سے درمندانہ اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرکے فوری طور پر بقایاجات ادا کرنے کے احکامات جاری کریں۔ان خیالات کا اظہار آل ایمپلائز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے صدر حاجی شاہد حسین ،سینئر نائب صدر پروفیسر محمد زمان،نائب صدر ڈاکٹر عبدا لرہبر، نائب صدر جوہر نفیس،نائب صدر محمد طاہر شاکر،پریس سیکریٹری اشتیاق احمد یادؔ اور دیگر عہدیداروں نے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وفاق کی طرف سے باقاعدہ فنڈز فراہم کیے گئے ہیں اور صوبائی حکومت نے اس کے لئے بجٹ بھی منظور کیا ہوا ہے۔اس کے باوجود اس مسئلے کو حل نہ کرنا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔