ایس، ایم ایس اور فیس بک پوسٹس

ایس، ایم ایس اور فیس بک پوسٹس

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلامی تعلیمات میں یہ بات صراحت سے بیان کی گئی ہے کہ جب بھی کوئی بات آپ تک پہنچ جائے تو بغیر تصدیق وتحقیق کے اس بات کو آگے نہ پہنچائے۔من گھڑت باتوں کو پھیلانے اور اپنی طرف سے باتیں وضع کرکے دوسروں کے ریفرنس سے آگے پہنچانے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ محدثین کرام نے ایسے لوگوں کو وضاع اور کذاب جیسے الفا ظ سے تعبیر کیا ہے۔

بہر صورت آج کی محفل میں ہم آپ سے کچھ باتیں شیئر کریں گے جو دانستہ طورپر ہم سب سے صادر ہورہی ہیں۔اکیسوی صدی کے اوائل ہی سے مواصلاتی نظام میں بے حد ترقی ہوئی ہے۔میڈیا کی بے مہا آزادی نے وہ گُل کھلائے ہیں کہ انسان کانپ ہی جاتا ہے۔امن کی آشا کے نام پر بد امنی کی تبلیغ عام ہوچکی ہے۔ موبائل کے عام ہونے سے بھی اطلاعات کی فراہمی میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ آج سیکنڈوں میں پیغام موبائل کے ذریعے لاکھوں میل دور پہنچ جاتا ہے۔ایک اور نئی روایت سوشل میڈیا کی شکل میں پیدا ہوئی ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے جو جھوٹ اور من گھڑت کہانیاں لمحوں میں سینکڑوں لوگوں تک پہنچائی جاتی ہیں اس کا آج سے دس سال پہلا سوچا بھی نہیں جاسکتاتھا۔ ایک ہی آدمی مختلف ناموں سے ایک ہی وقت کئی قسم کی باتیں ہزاروں ناظرین و قارئین تک پہنچاتا ہے۔ نام کی تبدیلی سے جنس میں تبدیلی آجاتی ہے۔لڑکا لڑکی بن گیا پھر ایک جھوٹ پر مسلسل لاکھ جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور جھوٹ کا بازار گرم رہتا ہے۔اس گرمیِ بازار میں جاہلوں اور ٹھگوں کے ساتھ اہل علم و قلم بھی دانستہ و نادانستہ طور پر جھوٹ پھیلانے میں برابر کا شریک رہتا ہے۔

ہمارے ہاں ایک روایت رہی ہے کہ ہمارے پاس جو بھی مسیج سیل فون میں آتا ہے وہ دوستوں کی انجوائی کے لیے فوراً آگے فاروڈ کیا جاتا ہے۔ آج تک یہ دیکھنے اور سمجھنے کی جسارت نہیں کی جاتی ہے کہ جو بات مجھ تک پہنچائی گئی ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ۔ کچھ SMS ہنسی مزاق کے ہوتے ہیں۔ کچھ انتہائی فحش و نازیبا ہوتے ہیں۔ اور کچھ SMS پر تو کسی کے اوپر بہتان تراشی کی گئی ہوتی ہے۔ پھر خاص کار سکھوں اور پٹھانوں کو بدنام کرنے کے لیے باقاعدہ SMS فیکٹریاں کھولی گئی ہیں۔ اس قسم کے SMS ہر انسان فوراً آگے سینڈ کردیتا ہے۔ تاکہ اگلا انسان محظوظ ہو۔ تاہم ان SMSکی وجہ سے بعض دفعہ انتہائی یاس پھیلتی ہے۔ بدگمانیاں پیدا ہوجاتیں ہیں۔ ہم بھی اس فعل بد میں کسی سے کم نہیں۔ ہماری تعلیم برائے فحاشی پر مبنی SMS اصحاب علم اور قلم دوستوں کی INBOX کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں جس سے بعض دفعہ اچھی خاصی رسوائی ہوتی ہے۔

ہمارے ایک بزرگ پروفیسر جلال صاحب ہیں۔ اللہ نے انہیں طبعِ لطیف سے نوازا ہے۔اگر متلون کہوں تو وہ ناراض ہونگے۔ قوی حافظے کے مالک انسان ہیں۔ہمارے یہ SMS روزانہ کی بنیاد پر انہیں موصول ہوتے ہیں۔ ان SMS کا فاروڈ کرنے کا ایک مقصد ہمارا یہ بھی ہوتا ہے کہ دکھ، پریشانی، ٹینشن اور مصائب کے دور میں اکابر اوراصاغر دوستوں کو وقتی طور پر ہنسایا جائے یا کم از کم کھلکھلانے پر تو مجبور کیا جائے۔ اب کی بار جب جلال صاحب کےINBOXمیں ایسے SMS کی تعداد کافی زیادہ ہوگئی تو انہوں نے سب کو زبانی ازبر کیا اور ساتھ ہی حوالہ جات کو بھی۔ مزید تشریح اور حاشیہ خود سے چڑھا کر سویرے کالج وین میں ہماری موجودگی میں یارانِ محفل سے شیئر کیا تو سب کے ساتھ ہم بھی قہقہے لگانے پر مجبور ہوئے اور دل سے انہیں کوستے بھی رہے کہ آخر ان واہیات SMS کا بیان کرنے کا یہ کونسا موقع محل ہے۔ مگر پھر بھی پروفیسر جلال کی جلالی طبیعت کو داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ بہتان تراشی پر مبنی ایک SMS پر معروف کالم نگار جاوید چودھری نے فون کرکے ہمیں منع کیا کہ ایسا کرنا کسی کی عزت کے ساتھ کھیلنا والا معاملہ ہے لہذا آئندہ کے لیے احتیاط ہی بہتر ہے۔ ایسا ہی ایک SMS ہم نے تمام پروفیسر ز اور اصحاب علم کو سینڈ کیا جس میں آپ ﷺ کے متعلق ایک خوبصورت بات کہی گئی تھی۔ اکثر نے تو سبحان اللہ، ماشاء اللہ سے ہمیں Replyدیا جبکہ ایک محقق لیکچرر جناب احتشام صاحب نے اس ’’موضوع حدیث‘‘ کا پول کھول کر رکھ دیا۔ہمیں فوری ہدایات جاری کی کہ اس قسم کے مسیج من گھڑت ، اور جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔ دین اسلام چونکہ توہمات، موضاعات اور من گھڑت باتوں سے پاک ہے ۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو دین کے نام پر خرافات کی تبلیغ عام ہوگی۔احتشام صاحب نہ صرف محقق لیکچرر ہیں بلکہ ایک جید عالم دین بھی ہیں اور M.Phil کے اسکالر بھی ہیں ۔ اس لیے فوراً ہمیں ان کی ہدایات کی تعمیل کرنی پڑی۔ایک مصیبت فیس بک اور ٹیوٹر کے نام سے متعارف ہوئی ہے۔ ہمیں بھی یہ لَت بری طرح لگی ہوئی ہے کہ ہم اپنے قیمتی اوقات میں سے کئی گھنٹے اس میں ضائع کردیتے ہیں۔ فیس بک میں بے شمار اچھائیاں ہیں لیکن ہم میں اجتماعی طور پر ابھی و ہ ذہنی بلوغت پیداہی نہیں ہوئی ہے کہ ہم خوبیوں اور خامیوں کے انتخاب میں خوبیوں کا پلہ بھاری رکھ سکیں۔فیس بک میں روزانہ کی بنیاد پر کئی ایسی تصاویر موصول ہوتی ہیں جن کا حقیقت کی دنیا سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا ہے۔گزشتہ ایک سال سے ہم بھی ایسی کئی بے ہودہ تصاویر اپنے دوستوں کو پوسٹ کرچکے ہیں ۔ ہمارے ایک لکھاری دوست سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے وہاں سے فون کرکے اس طرف ہماری توجہ مبذول کروائی۔یقیناًانہوں نے درست رہنمائی کرکے اپنا فریضہ انجام دیا اور ہمیں موضوع اور من گھڑت باتون کی تشہیر سے روکا ۔ سو ان کی بے حد مہربانی۔سوشل میڈیا پر شخصیات کی تصاویر جس طرح بگاڑ کر پیش کی جاتیں ہیں وہ ایک المیہ سے کم نہیں۔حالیہ انتخابات میں نونہالانِ انقلاب نے فیس بک میں ہی انقلاب بپا کیا تھا یعنی مشرق کی خوبصورت روایات کا جنازہ نکل کر۔کورل ڈرا اور فوٹو شاپ کی مدد سے ملک و ملت کئی عظیم شخصیات کی وہ نازیبا تصاویرایڈٹ کرکے فیس بک میں پوسٹ کی گئی کہ مشرق تو مشرق مغرب بھی کانپ اٹھا۔مغرب میں مادر پدر آزادی ہے مگر اس میں اب بھی وہ ہم سے کئی گناہ پیچھے ہیں۔ تاہم دوستوں کی یہ غلط فہمی دور ہونی چاہیے کہ آج کی تحریر کے بعد ہمارے SMS اور فیس بک پر بے ہودہ پوسٹس انہیں موصول نہیں ہونگیں۔ وہ سلسلہ آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گا۔ آپ دل بڑا رکھیں۔ اتنی جلدی ہم ہتھیار ڈالنے والے نہیں۔ ویسے بھی ہم تو ہتھیار اٹھانے والوں میں شمارہوتے ہیں اگرچہ فی الواقع ہمیں ہتھیار پر تیل وپالش بھی نہیں کرنا آتا۔

فیس بک اور موبائل فون کے غلط اور بے جااستعمال کے نتیجے میں جو نقصانات وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں وہ بے حد مضر ہوتے ہیں۔ ان میں اخلاقی بے راہ وری اور بد کاری کو بھی فروغ ملتا ہے۔ نہایت ہی بے ہودہ اور نازیبا و فحش قسم کے SMS اور POSTsکے تبادلے نے نوجوانوں کو مخربِ اخلاق بنایا ہے ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ فیس بک اور موبائل فون کے غلط استعمال نے ہماری معاشرت کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔کلاس رومز میں ہمارے طلبہ و طالبات گیمز میں مصروف رہتے ہیں او رSMS تو معمول کی بات ہے۔ انتہائی معذرت سے عرض ہے کہ طلبہ میںSMS کے تبادلہ تو بڑی دینی درسگاہوں میں بھی رواج عام پکڑ چکا ہے‘ یقیناًیہ کوئی مثبت اوراچھی صورت حال نہیں ہے۔اک فعل بد فیس بک کی دنیا میں یہ بھی صادر ہوتاہے کہ خواتین بالخصوص نوجوان لڑکیوں کی تصاویر شیئر کی جاتیں ہیں۔کیا ہمیں اچھا لگے گا کہ ہماری بہن، بیٹی یا بیوی کی تصویر کوئی پوسٹ کریں اور وہ شیئر کے ذریعے ہر گندی نگاہ کے پاس پہنچ جائے اور وہ Comentsبھی کرے۔ اس سے بھی گریز ہی بہتر ہے۔

SMSکا روگ بھی عجیب روگ ہے،جس کو لگ جائے اسکی جان نہیں چھوڑتا، اور پھر اگر انسان غیر شادی شدہ ہو تو اس کی تو راتوں کی نیند اُڑ جاتی ہے، بعض دفعہ یہی SMS انسان کے لئے بڑے مضر ثابت ہوتے ہیں۔ میرے بعض دوستوں نے تو SMS چینل کھول رکھے ہیں جو تمام باتیں SMSکے ذریعے ہی پو چھتے ہیں۔ کھبی کھبار تو یہSMS اتنے مضحکہ خیز ہوتے ہیں کہ الامان والحفیظ، ایک اور فعل بذریعہ SMSسرزد ہوتا ہے وہ یہ کہ بعض اسلام بیزار لوگ قرآن کریم اوراحادیث مبارکہ کے ترجمے اور مفاہیم اپنی طرف سے نقل کرکے آگے فاروڈ کرتے ہیں اور اس سے مزید آگے فاروڈ نہ کرنے کی صورت میں سخت نتائج کا مژدہ سناتے ہیں۔درالاصل اس قسم کے SMS من گھڑت اور واہیات ہوتے ہیں۔انہی غلط SMS کی انفار میشن پر مجھے اپنے نیٹ ورک سے ہاتھ دھونا پڑا اورکئی دن نمبر بند پڑا رہا اور تما م احباب سے رابط منقطع۔ 

بہر صورت احباب اور دوستوں سے اپیل ہے کہ وہ SMS کے سینڈ کرنے اور فیس بک میں بے ہودہ اور جھوٹ پر مبنی پوسٹس شیئر کرنے سے مکمل گریز کریں۔کہی ایسانہ ہو کہ آپ کی غلط اطلاع سے کسی کا جان لے لی جائے۔گزشتہ سالوں میں ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ ایک SMS کی وجہ سے کئی فسادات وقوع پذیر ہوئے ہیں۔کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔اب کی بار سانحہ روالپنڈی کے بعد مجھے ایسے ایسے SMS اور Postsموصول ہوئیں کہ میں ان کی زبان تحریر میں نہیں لاسکتا۔ ایک دوسروں کو اتنے غلیظ الفا ظ سے یاد کیا جانے لگا کہ ایک مہذب انسان تو سوچ بھی نہیں سکتا۔تو فیس بک اور سیل فون کی اچھائیوں کو لے لی جائے اور خامیوں کو ’’دریائے جہنم‘‘ میں پھینک دی جائے۔کوئی یہ سوال نہ کرنا کہ دریائے جہنم کہاں ہے۔آدمی جہلم کی جگہ غلطی سے جہنم بھی تو لکھ سکتا ہے نا۔اور یہ غلطی کمپوزر سے بھی تو صادر ہوسکتی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔