وزیر اعظم خوش آمدید، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

میاں محمد نواز شریف حالیہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے وزیر اعظم پاکستان منتخب ہونے کے بعد گلگت کے ایک روزہ دورے پر تشریف لارہے ہیں( اگر موسم نے ساتھ دیا تو) طے شدہ پروگرام کے تحت آج گلگت ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ کے نئے ٹرمنیل کے افتتاح سے اپنے دورے کا آغاز کرنا ہے۔ بعد از گلگت بلتستان کونسل کے بجٹ اجلاس کی صدارت کرنیگے وزیراعظم پاکستان ضلع ہنزہ نگر اور دیامر کا بھی خصوصی دورہ کرنیگے اُن کی مصروفیات کا تفضیلی ذکر یہاں مقصود نہیں ہے۔ ہم ان سطور کے ذریعے وزیر اعظم کو سرزمین گلگت آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔

شروع میں ہمیں بتایا گیا کہ وزیر اعظم اپنے دروے کے دوران مقامی صحافیوں سے ملاقات بھی کرینگے لیکن اب یہ اطلاع ملی ہے کہ میاں صاحب صحافیوں سے ملاقات نہیں کرینگے اور نہ ہی ان کی مصروفیات کی مقامی صحافیوں کو کوریج کی اجازت ہو گی اس مقصد کے لئے اُن کی ہمراہ سرکاری میڈیا کی ٹیم آئیگی۔ ہم میاں صاحب سے متعد مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ اس بار اُن کی زیارت کرنے کا ہمیں کوئی شوق نہیں ہے۔ لیکن بحیثت وزیر اعظم اُن سے پوچھنے کے لئے بہت سے سوالات ہم نے تیار کر رکھے تھے جن سے گلگت بلتستان کے عوام کے اجتماعی مفادات وابستہ ہیں ان مسائل کے بارے میں حکومت کا موقف معلوم کرنا اور اس کو عوام تک پہنچانا چاہتے تھے لیکن صد افسوس کہ وزیر اعظم نے ہمیں وقت نہیں دیا …… خیر۔۔۔۔۔۔

میاں صاحب آج گلگت تشریف لارہے ہیں تو ہم آپ سے گزارش ضرور کر ینگے کہ گلگت بلتستان کے عوام 66 سالوں سے آئینی حقوق سے محروم ہیں. آئینی اداروں میں نمایئندگی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے 15 لاکھ عوام میں احساس محرومی بڑھتا جارہا ہے وطن عزیز کے لئے قربانیاں دینے اور مختلف شعبوں میں ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کرنے والے اس خطے کے عوام آئینی حقوق چاہتے ہیں. ان کو وہ تمام حقوق میسر ہونی چاہے جو پنجاب یاکسی دوسرے صوبے کے عوام کو حاصل ہے قومی اسمبلی وسینٹ میں نمایئندگی دینے کے لئے اب آپ کو کھلے دل سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے اقتدار کے ہر دور میں گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق اور سہولیات دینے میں کنجوسی سے کام نہیں لیا یہاں سیاسی اصلاحات سے لے کر سلف گورننس آرڈر کے ذریعے صوبائی طرز کا سیٹ اپ دینے کا اعزاز پیپلز پارٹی کا حاصل ہے اب بال آپ کے کورٹ میں ہے جناب وزیراعظم ہم توقع رکھتے ہیں کہ آپ آئینی محرومیوں کو ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات اُٹھائینگے۔گلگت بلتستان میں غربت، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی کرپشن کے خاتمے کے لئے بھی آپ کو عملی بنیادوں پر کام کرنا ہوگاگلگت بلتستان کے عوام کا دل جیتنے کے لئے آپ کے پاس اچھا موقع ہے۔ اورآنے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی بھی اُس وقت ممکن ہو سکتی ہے۔ جب آپ یہاں کے باسیوں کو حقوق اور سہولیات فراہم کرینگے۔

گلگت بلتستان درحقیقت پاکستان کا شہہ رگ ہے اس خطے میں پائے جانے والے وسائل کو بروئے کار لا کر نہ صرف اس خطے کی بلکہ ملک کی معاشی تقدیر بدلی جاسکتی ہے۔ ملک میں جاری توانائی کے بحران کو ختم کرنے میں بھی گلگت بلتستان کے آبی وسائل کار آمد ہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ وفاق اس جنت نظیر خطے کو بلوچستان بنانے کے بجائے یہاں کے عوام کو ان کے جائز حقوق فراہم کر کے اس خطے کے وسائل سے استفادہ حاصل کرکے ملک کو خوشحال بنائے وزیر اعظم یقیناًخالی ہاتھ لے کر گلگت نہیں آئیں گے اور جاتے جاتے ضرور وہ دینگے جس کی توقع یہاں کے باسی کرتے ہیں. ایسا نہ کرنے کی صورت میں احساس محرومی بڑھے گی جو کسی صورت حکومت اور آپ کی جماعت کے سمیت ملک عزیر کے مفاد میں نہ ہو گی۔

سابق اداور میں حکمرانوں نے گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے کی جو پالیسی اختیار کئے رکھی اس سے یہاں کے عوام نے گزرتے وقت کے ساتھ احساس محرومی میں اضافہ ہوتا رہا اب ہم آ پ سے توقع رکھتے ہیں کہ محرومیوں ، پسماندگی ، غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے عملی بنیادوں پر اقدامات اُٹھاینگے۔ اگر میاں صاحب خالی ہاتھ لوٹ گئے تو گلگت بلتستان کے عوام یہ سمجھنے گے کہ وزیراعظم صرف سیر سپاٹے کے لئے آئے تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments