اپنے بھی خفا ،غیر بھی نا خوش

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

طویل عرصے کی گوشہ نشینی میں ایک بات کا ادراک ہوا کہ ہم انسانی نفسیات کے بے معنی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہمارا تسلسل یک دم ٹوٹ جاتا ہے ، معاشرے میں پہلے سے موجود عدم برداشت ، پسند نا پسند اور نا قابل عمل ترجیحات کی وجہ سے یہاں کسی مسیحا کی آمد تو درکنار اصلاح و احوال بھی ممکن نہیں رہا،کچھ عرصہ قبل گلگت شہر میں بگڑتی صورت حال پر جب راقم نے لب کشائی کرنے کی جسارت کی تو نہ جانے کیوں ایک بے لگام اور بے معنی قسم کی بحث کا آغاز ہو گیا ، ایسے میں اس بات کا احساس ہوا کہ ہمارے لوگ تحریروں کو کس انداز میں پڑھتے ہیں اور اس سے کیا نتیجہ آخذ کرتے ہیں ، قصہ مختصر کچھ ہمدرد قلم قبیلہ کے دوستوں کے علاوہ کچھ سیاسی و مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے راقم کو کچھ عرصے کیلئے آرٹیکلز لکھنے سے منع کر دیا ، خیر ہم نے یہ بھی کر کے دیکھ لیا ،مگر اپنے جذبات ، احساسات اوربے ہنگم خیالات کو الفاظ کا روپ دئیے بغیر رہ نہیں سکے۔ ایک صحافی جو معاشرے کی آنکھ ،کان اور زبان تصور کیا جاتا ہے وہ کیسے چپ رہ سکتا ہے،ہاں ایک بات تو حقیقت ہے کہ لوگوں کا سوچنے اور سمجھنے کاانداز مختلف ہے، ایک قلم کار کو چاہئے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں حقائق کو عوام کے سامنے رکھے اور ایسے میں اسکا غیر ضروری جھکاو کسی خاص کی طرف نہ ہو، دنیا کے حالات آج کے دور میں بہت بدل گئے ہیں ہر کسی کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے لیکن ایک ضابطے کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے، تاہم آواز کو دبانا اور مختلف طریقوں سے پریشر ڈالنا مہذب معاشروں کا وطیرہ نہیں ہوتا۔

امیر وقت کی یہ ضد ہے قلم خاموش ہوجائے
میری ضد ہے زمانے میں ستم خاموش ہوجائے

جب ہم نے اس شعبے میں کام کا آغاز کیا تھا اس وقت ایک فیصلہ بھی کیا تھا کہ قلم کی حرمت کو برقرار رکھیں گے ، جھکنے اور بکنے کے بجائے حقیقی معنوں میں قوم و ملت کو درپیش مسائل اور مشکلات کے لئے آواز بلند کرتے رہینگے ، خیر یہ اور بات ہے کہ کسی کوآپکا کام پسند آئے یا نہ آئے ، اپنی ذمہ داری کا ہمیں خود احساس ہونا چاہئے ، آج گلگت بلتستان میں جہاں لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق دستیاب نہیں وہاں ہم آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں ، ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں دور دور تک امید کی کرن نظر نہیں آتی ، حکمرانوں کو اپنی عیاشیوں سے فرصت نہیں ملتی تو دوسری طرف لوگ اپنے ہی ہاتھوں اس نشیمن کو آگ لگانے پر تلے ہوئے ہیں ، ایک بے مقصد لڑائی نے یہاں کے لوگوں کو ہر میدان میں پیچھے دھکیل دیا ہے،یہاں کا ہر شعبہ مختلف قسم کی مصلحتوں کا شکار ہو چکا ہے ، میری طویل خاموشی کے دوران کئی دوستوں کے پیغامات موصول ہوئے جن میں انہوں نے میری خیریت دریافت کی تھی لیکن انہیں میں بتاتا چلوں کہ میری طبیعت کو کچھ نہیں ہوا ہاں البتہ میرے جذبات ضرور مجروح ہوئے ، جن لوگوں کے لئے آپ ہمدردی کا جذبہ رکھیں اور انہی کی طرف سے آپکو دکھ پہنچے تو ایسے میں گوشہ نشینی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا ، خیر جو بھی ہمیں اپنا کام کرتے رہنا ہے، ایک نہ ایک دن تو خوشگوار تبدیلی آئیگی ، ہم رہیں نہ رہیں آنے والی نسلیں ضرور اس تبدیلی سے استفادہ حاصل کر سکیں گی۔

ہمارے ذہن میں چھائے نہیں ہیں ہرس کے سائے
جو ہم محسوس کرتے ہیں وہی تحریر کرتے ہیں 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔