گلگت بلتستان، مظلومیت اور محکومیت کی داستان

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

14اگست 1948کو جب مملکت پاکستان وجود میں آیا اُس وقت گلگت بلتستان بشمول کشمیر ڈوگرہ حکومت کے قبضے میں تھا ایک اسلامی مملکت کی وجود میں آنے کے بعد یہاں کے عوام میں اپنے خطے کی آذادی کا جذبہ تیزی سے اُبھر رہا تھا ۔کیونکہ یہاں کے عوام ڈوگرہ حکومت کی غلامی سے تنگ آچکے تھے۔ اسی بناء پر یہاں کے عوام نے غلامی کی زنجیر کو توڑنے کا عہد کیا اور آزادی کی خواب میں مگن ہو کر نہتیاور بہت کم وقت میں گلگت بلتستان کو ڈوگرہ حکومت سے آزاد کرا کے آزاد جمہوریہ گلگت بلتستان معرض وجود میں لایا۔یوں اس دیوملائی پہاڑوں عظیم سر سبز وادیوں والے سرزمین کے بسنے والوں کیلئے ابھی اگلا امتحان شروع ہونا باقی تھا۔کیونکہ ڈوگرہ راج سے آزادی کے بعد یہاں کے عوام یقیناًآزادی سے جینا چاہتے تھے جسکیلئے یہاں کے عوام کو فیصلہ کرنا تھا کہ مستقبل کیلئے کیا لائحہ عمل طے کیا جائے کیونکہ آزادی کے بعد گلگت بلتستان میں یقینی طور پر انتظامی امور کو چلانا ایک مشکل عمل تھا ۔ساتھ یہاں کے عوام میں نظریہ پاکستان کی وجہ سے نومولود مملکت کی محبت بھی پروان چڑھ رہا تھا جس کے سبب شاید خطے کی اُس وقت کے رہنماوں نے بغیر کسی شرائط کے صرف اسلام اورپاکستان سے محبت کی بنا پر اچھے مستقبل کااُمید لئے ارض گلگت بلتستان کا بغیر کسی شرائط کے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا او ریوں66 سال بعد آج یہاں کے عوام چار صوبوں والے پاکستان کے پانچواں آئینی وزیر ا علیٰ اور گورنر کو حاصل محنت سمجھ کر اپنے اُوپر مرثیہ پڑھ ر ہے ہیں۔ آج اگر ہم ڈوگرہ اوروفاقی ماتحت حکومت کاموازنہ کریں تو کچھ خاص فرق نظر نہیں آتاکیونکہ اُس وقت بھی سارے احکامات ڈوگرہ حکومت کا پولیٹیکل ایجنٹ جاری کرتا تھا،اور آج بھی ایک غیر منتخب وزیرکا فرمان حرف آخر سمجھا جاتا ہے بدقسمتی سے اسے جمہوریت کا نام دے کر گلگت بلتستان پر لاگو کیا ہوا ہے۔ اس خطے کے ساتھ پاکستان میں آج تک کے ہر آنے والے حکمرانوں نے اپنی حکومت کے رٹ کی خاطر ہمارے نا م نہاد عوامی لیڈران کے ساتھ مل کرکھیل کھیلتے رہے۔کیونکہ یہ خطہ پاکستان کیلئے دفاعی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے جس کے سبب مختلف ادوار میں مختلف نام دے کر یہاں حکومتی رٹ کو اُن کے مطابق جاری رکھنے کی کوشش میں ایک فورسز زون بنا ہوا ہے یہاں پر آج بھی ضرورت سے کہیں ذیادہ ملٹری عملہ تعین ہے پھر بھی عوام کی جان مال کا تحفظ نہیں ۔ یہاں کے عوام اپنے ساتھ ہونے والے تمام تر زیادتیوں کے باوجود سرحد پرپاکستان کی حفاظت کیلے انفرادی اور اجتماعی طور پر ہمیشہ کی طرح آج بھی سبز ہلالی پرچم کی حفاظت پر معمور ہے۔ حالانکہاس خطے کو اب بھی پاکستان کے آئین میں کوئی جگہ نہیں سینٹ اور صوبائی اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہیں۔آج انتظامی حوالے سے خطے پر بلاواسطہ تمام ٹیکسز لاگو ہے حالانکہ یہاں پر کسی قسم کا ٹیکسنہیں لگناچاہئے کیونکہ یہ خطہ آئینی طور پر آج بھی پاکستان کا حصہ نہیں۔اس طرح کے تمام تر ناانصافیوں کے باوجود یہاں کے عوام پاکستان کی حفاظت کیلئے کرگل کی پہاڑوں سے سیاچن کی بلندیوں تک خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ آج افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وفاقی کٹ پتلی ارکین اسمبلی کے ممبران بھی حقیقی طور پر آئینی صوبہ بنانے کیلئے کوشش کرنے کے بجائے جھوٹ کو سچ کے خول میں ڈال کر عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے لہذا یہاں کوئی قابض ضرور ہے لیکن جمہوری نظام کوئی نہیں کیونکہ جمہوری حاکمیت میں عوام کی جان مال عزت آبرو غربت تعلیم معاشرتی مسائل کا خاص خیال رکھا جاتا ہے مگر گلگت بلتستان کے عوام کو آج بھی شناختی کارڈ چیک کر کے چلتی روڈ پر صرف مذہبی تفرقہ کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے اور قاتل کو سزا دینے کے بجائے عدالتوں سے بری کی جاتی ہے۔ ۱۹۸۸ سے آج تک کے تمام واقعات میں ذیادہ ترایک ہی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کو قتل غارت گری جاری ہے اب تو حکمران اپنی کارکردگی کو درست کرنے کے بجائے یہاں کے عوام مختلف سٹلائٹ کی نشریات بند کرکے معلومات عامہ سے دور رکھنے کی سازشیں ہو رہی ہے ۔اب ہمارے قارئین ہی نتیجہ اخز کر لیں کہ کیا فرق ہے کل اور آج میں۔آج دیامر ڈیم کی تعمیر کا جا رہی ہے یوں آنے والے سالوں میں گلگت بلتستان کے کئی گاوں تقریبا مٹ جائے گا لیکن رائلٹی پختون خواہ کو دی جا رہی ہے۔خطے کی نظام تعلیم ایک کھیل بنا ہوا ہے ایک حکومت بھرتی کرتے ہیں تو دوسری حکومت غیرقانونی کہہ نکالنے میں لگے ہوئے ہیں جو کہ ذیادتی ہے میرے ایک دوست سے اس حوالے سے گفتگو ہوئی کہنے لگے اس چھانٹی میں بھی سیاسی اثررسوخ شامل ہے آج بھی یہاں کے پڑھے لکھوں کو دیوار سے لگانے کی بات ہورہی ہے محکمہ تعلیم اگر نظام کو درست کرنا چاہتا ہے تو انہیں چاہئے کہ بجائے لوگوں نوکریوں سے فارغ کرنے کے انکی ڈگریاں چیک کریں کہ اگر کسی بھی شخص نے نوکری کی حصول کے بعد پیشے کی ضرورت کے مطابق کسی غیرمستند تعلیمی اداروں سے سند لی ہے تو فارغ کیا جائے کیونکہ موجودہ حالات میں ایسا لگ رہا ہے کہ وفاق کی خواہش ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور میں بھرتی ہونے والے تمام اساتذہ کی برطرفی ہو جو کہ ایک سیاسی کھیل ہے نہ کہ شفافیت کی علامت ۔خطے میں کئی درجن لوگ ایسے ہیں جن میں کئی لوگوں ذاتی طور پر جانتا ہوں اور کئی قریبی دوستوں میں شامل ہے جنہوں نے پاکستا ن کے اعلیٰ جامعات سے تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ تعلیم ڈگریاں لی ہوئی ہے انہیں بڑی مشکلات کے بعد نوکریوں ملی ہے لیکن ایک بار پھر حکومت نے اسطرح کے ا علیٰ تعلیم یافتہ طبقے کو مشکلات میں ڈال دیا لہذا حکومت کو چاہئے
کہ گلگت بلتستان کے ان ا علیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی حقوق کا خیال رکھا جائے۔ آج تحقیق کے نام ایسے لوگوں کی تضحیک ہو رہی ہے جنکی کی معاشرتی تعلیم و تربیت میں ایک مثبت کردار ہے لہذا انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس حوالے سے تحقیق کرنے والوں پر کڑی نظر رکھنے ہوں گے ورنہ ہمارے عوام کو تو گندم کی قیمت میں اضافے پر احتجاج کرنے کا بھی حق نہیں رکھتے ۔ آج کے اس ترقیاتی دور میں جہاں دنیا ترقی کی طرف گامزن ہے لیکن اس خطے میں آج بھی افسر شاہی کے علاوہ کچھ نہیں آج گلگت بلتستان جو کہ معدنیات سے مالا مال ،سستا ترین بجلی پیدا کرنے کا سب سے زیادہ مواقع اور قدرتی حسن سے بے نظیر اس جنت نظیر اس خطے کو ضرورت ہے صرف آئینی خودمختاری کا اگرایسا ممکن ہوا تو یقیناًیہ خطہ پاکستان کی معشیت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتا ہے ۔ میں یہاں پورے گلگت بلتستان کے معدنیات اور زرخیزی پربحث کرنے کے بجاے صرف ایک لمحے کے لئے بلتستان کھرمنگ کے موضو ع غاسنگ اور منٹھوکھا کی بات کروں گاجہاں سے میرا تعلق ہے میرے تحقیق کے مطابق یہاں کے پہاڑوں سے ہزاروں ٹن چونا سلاجیت اور مختلف قیمتی پتھر بڑی آسانی کے ساتھ نکالا جا سکتا ہے لیکن جہاں سے اس خطے کو فائدہ پونچ سکتی ہے لیکن ہمارے حکومت کا نظر جاتا ہی نہیں۔چند سال قبل اس علاقے سے معدنیات نکالنے کیلئے کچھ غیر مقامی لوگوں نے مقامی مفاد پرست عناصر کے ساتھ مل کر کوشش کی تھی یہ عمل چونکہ غیر قانونی تھا اور علاقے کیلئے اجتماعی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا جس کے سبب علاقے کے لوگوں نے اس کام کو رکوایا دیا جو کہ تاحال بند ہی ہے،اگر حکومت غور کریں تو اس علاقے سے کافی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔اسی طرح پورے گلگت بلتستان میں ہر جگہ ایسے مواقع موجود ہے۔لیکن اس امر کی ضرورت ہے کہ اس خطے کی قانونی حیثیت تعین ہوجائے لہذا اس معاملے کو تمام قوم پرست رہنماوں سمیت موجودہ سیاسی حضرات مل کر کوشش کریں تو یقیناًگلگت بلتستان پاکستان کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا صوبہ بن سکتا ہے اس کے علاوہ پاکستان کی سول سوسائٹی کو گلگت بلتستان کی محرومیوں اور مظلومیوں کا ازالہ کرنے کیلئے آواز اُٹھائیں کیونکہ یہاں کی محرومیت پاکستان کی سا لمیت کیلئے بھی نیک شگون نہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔