کونوداس کچرے کا ڈھیر بنتا جارہا ہے، دریائے گلگت میں کچرہ پھینکنے سے آبی آلودگی میں اضافہ

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( مون شیرین) محکمہ بلدیہ کے پاس کوڑا کٹرکٹ ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے گلگت شہر سے اکٹھا ہوںے والا کچرا  کونوداس میں یونیورسٹی روڈ  پر پی ڈی سی این کے سامنے دریائے گلگت میں پھینک دیا جاتا ہے جس سے اردگرد کا ماحول آلودہ ہو جاتا ہے۔ کچرے کے ڈھیروں پر کتوں کی بھرمار کی وجہ سے انسانی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماضی میں اس علاقے میں کتے راہگیروں اور سایکل سواروں پر حملہ آور بھی ہوتے رہے ہیں۔

یونیورسٹی روڈ پر کچرے کی بہتات کی وجہ سے وہاں سے گرزنے والے ریگروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ دریائے گلگت کا پانی بھی زہریلا ہو تا جارہاہے. جسکی وجہ سے آبی حیات اور انسانی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں. یاد رہے کہ دریا کا پانی ذوالفقار آباد، سونیکوٹ، دنیور اور دیگر علاقوں میں کاشکاری کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے ، جبکہ اسی پانی کو مختلف مقامات پر بجلی کے پمپس کی مدد سے کاشتکاری اور اب پاشی کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے.
اس شدید ماحولیاتی مسلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ماحول کی حفاظت کے ساتھ ساتھ صحت کے مسائل کا تدارک بھی ممکن ہو سکے. 
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔