گلگت بلتستان میں کنٹریکٹ ملازمین کا فیصلہ نہیں ہو سکا، مستقبل خطرے میں

گلگت بلتستان میں کنٹریکٹ ملازمین کا فیصلہ نہیں ہو سکا، مستقبل خطرے میں

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (وجاہت علی) گریڈ 16 سے اوپر کے 98 ملازمین کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا۔وفاقی کینٹ نے جون 2011 میں فیصلہ کیا تھا کہ کنٹریکٹ اور عارضی تمام ملازمین کو مستقل کیا جائے۔اس فیصلے کی روشنی میں صوبہ سند ھ،پنجاب ازاد کشمیر کے اندر تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر دیا گیا۔جبکہ گلگت بلتستان میں کنٹریکٹ ملازمین کا ابھی تک فیصلہ نہ ہو سکا۔تفصیلات کے مطابق کیبنٹ کے فیصلے کے روشنی میں کمیٹی بنائی گئی تھی۔کہ جو ملازمین مسلسل تین سال سے کنٹریکٹ پر کام کر رہا ہے۔ان کو مستقل کیا جائے گلگت بلتستان میں 98 ایسے ملازمین موجود تھے جو پچھلے دس سالوں سے کنٹریکٹ پر کام کر رہے تھے۔اور یہ ملازمین ریگولر اسامیوں کے بدلے کنٹریکٹ پر باقاعدہ ٹیسٹ انٹر ویو اور D.P.C کے بعد لیا گیا تھا۔ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔میڈیا کو ملنے والے شواہد کے مطابق ان 98ملازمین کو لٹکا کر رکھا گیا ہے۔مستقل ہونے والے ملازمین میں محکمہ سیاحت کے چھ ملازمین محکمہ منرلز کے دو اور ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے دو ملازمین شامل ہے۔31اکتوبر 2012 کو ہوم سیکرٹری ڈاکٹر فیصل ظہور نے اسٹبشلمنٹ ڈویژن کو ایک لیٹر لکھا جس میں یہ کہا گیا کہ جی بی صوبائی حکومت ان ملازمین کو خود مستقل کر رہی ہیں۔17مئی 2011 کو صوبائی کیبنٹ کی چھٹی میٹنگ میں کئے گئے فیصلوں کے مطابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے گریڈ 16 سے اوپر کے ملازمین کو ریگولر کرنے کے لیے سمری بھجنے کو کہا۔جس پر ڈپٹی سیکرٹری سر وسز لکھتے ہیں۔کہ ان ملازمین کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن بھجوایا جائے گا۔جس پر وزیر اعلیٰ لیٹر لکھتے ہیں کہ آپ کو جو کہا ہے وہی کرے۔جو مانگا ہے وہی دے۔تاہم ابھی تک سمری وزیر اعلیٰ تک نہیں پہنچی۔اس حوالے سے اسٹبشلمنٹ ڈویژن نے کشمیر افیئر کے ذریعے چیف سیکریٹری کو چھ خطوط ارسال کر چکی ہے۔اور پوچھا گیا ہے کہ ان ملازمین کا ابھی تک فیصلہ کیوں نہیں ہوا۔اس پالیسی پر ابھی تک عمل در آمد ہو رہا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 20اگست 2013 کو گریڈ 16 سے اوپر کے ملازمین کو مستقلی کیلئے احکامات صادر کر دیے۔یاد رہے کہ کیبنٹ کے اس فیصلے کے مطابق GEC,NCHD,NHA میں سینکڑوں ملازمین مستقل ہوئے ہیں۔اس حوالے سے سپریم اپیلٹ کورٹ نے سو موٹو ایکشن بھی لیا ہے۔اور ملازمین نہ ہی چیف سیکرٹری اور نہ ہی وزیر اعلیٰ کوئی فیصلہ کر سکے۔ذرائع کے مطابق بیو رو کریسی کے افیسران نے ان تمام ملازمین کو FPSCبھجوانے کے لیے اسلام آباد میں سرکاری خرچے پر کیمپ آفس بنا کر ڈیرے ڈال چکے ہیں اس حوالے سے سیکرٹری سروسز اور ڈپٹی سیکرٹری سروسز سے بارہا دفعہ رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر با ور ثابت نہ ہو سکا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔