کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: آفیسرز ویلفیر ایسوسی ایشن

کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: آفیسرز ویلفیر ایسوسی ایشن

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
گلگت(پریس ریلیز) جب تک گلگت بلتستان میں گزشتہ کئی سالوں سے کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی ملازمین کو مستقل نہیں کیا جاتا ،کوشش جاری رہی گی۔ان خیالا ت اکا اظہار مقامی ہوٹل میں منعقد میٹنگ میں گلگت بلتستان آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں نے کیا۔گلگت بلتستان آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن کی یہ دوسری میٹنگ تھی جس میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مختلف ڈیپارمنٹ کے نمائندوں نے شرکت کی۔یہ میٹنگ ایسوسی ایشن کے صدر انجینئر عارف حسین کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں یہ بات بھی واضح طور پر ڈسکس ہوئی کہ گریڈ سولہ سے اٹھارہ تک کے وہ تمام ملازمین جو گزشتہ ایک سال سے اپنی سروس انجام دے رہے ہیں کو جب تک ریگولر نہیں کیا جاتا ایسوسی ایشن کوشش جاری رکھے گی۔اب آفسیران کی تعدا د 126 نہیں رہی بلکہ کافی زیادہ ہوگئی ہے جن میں بالخصو ص گلگت بلتستان کالجز کے لیکچرر بھی شامل ہیں۔آج کی میٹنگ میں دیگر محکموں کے آفیسران کے ساتھ لیکچررز کی ایک بڑی تعدا د نے بھی شرکت کی۔گلگت بلتستان آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدہ داران نے لیکچررز کو یقین دلایا کہ گلگت اسمبلی میں تشکیل دی جانے والی کمیٹی میں مستقل کیے جانے والے آفیسران میں لیکچررز کو بھی شامل کیا جائیگا کیونکہ پالیسی کے مطابق لیکچررز بھی پورے اتر رہے ہیں۔جو ریگولر بجٹ سے تنخواہ لے رہے ہیں اور ٹیسٹ انٹرویو کے شفاف پروسس سے گزر کر بھرتی ہوئے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شہزاد شگری نے کہا کہ گلگت بلتستان آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن کی کیبنٹ بہت جلد تمام لازمی ڈاکومنٹ تیار کرکے اسمبلی کیبنٹ میں تشکیل دی جانے والی کمیٹی کے سپرد کریگی ۔ صدر عارف حسین نے کہا کہ تمام محکموں کے متعلقہ افراد آج(پیر) دو بجے تک اپنے ڈاکومنٹ ایسوسی ایشن کے پاس جمع کروائے تاکہ ایک لیگل طریقے سے اسمبلی کی طرف سے قائم کردہ کمیٹی کے پاس بروقت جمع کروائے جاسکیں۔ صدر عارف حسین نے مزید کہا کہ یہ تمام ڈاکومنٹس اس لیے جمع کروائے جارہے ہیں تمام کنٹریکٹ آفیسران کے کاغذات کو سکروٹنی کے عمل سے گزار ا جائے۔ ہم اس چیز کے قطعا خلاف ہیں کہ کوئی چور دروازے سے داخل ہوئے۔ ان تمام آفیسران کی ریگولرائزیشن کے بارے میں ایسوسی ایشن کوشش کرے گی جو باقاعدہ اشتہار،ٹیسٹ انٹرویو کے ذریعے شفاف عمل سے گزر کربھرتی ہوئے ہیں۔ اور جو باقاعدہ ریگولر بجٹ سے تنخواہیں لے رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سات آٹھ سال ایک آفیسر سے خدمت لے کر اب اس کو آوٹ کیا جاتا ہے تو یہ سراسر زیادتی ہے۔ یہ قانون اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ورزی ہے۔ گلگت بلتستان آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر نے مزید کہا کہ ہم تمام ممبران اسمبلی اور بیوروکریسی کے مشکور ہیں جو ہمارے مسائل میں تعاون کررہے ہیں۔ بہت جلدگلگت بلتستان آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن کی چار رکنی ٹیم چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، گورنر گلگت بلتستان اور دیگر ممبران سے بھی ملاقات کریگی اور اپنے تمام مسائل ان سے ڈسکس کرے گی۔آئندہ میٹنگ کا اعلان گورنر گلگت بلتستان سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا۔میٹنگ میں شریک دیگر جنرل باڈی کے ممبران نے بھی اپنی خیالات کا اظہار کیا اور اس بات پر متفق ہوئے کہ جب تک ان کو مستقل نہیں کیا جاتا ہر ممکن کوشش جاری رہے گی۔ اگر 28فروری کو گلگت کابینہ اور بیوروکریسی کوئی مثبت فیصلہ نہیں کرے گی توباقاعدہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں سخت احتجاج کیا جائے گا۔ اور جو بھی قانونی اور آئینی راستہ ہے اس کو اپنا جائے گا۔ممبران نے آپس میں رابطے میں رہنے اور اتحاد عمل کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا اور میڈیا کے رول کو بھی سراہا۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔