’’خود آگہی‘‘

’’خود آگہی‘‘

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 انسانی زندگی میں ’’وقت کا پچھتاوا ‘‘سب سے افسوس ناک ہے۔ آپ نے بے شمار لوگوں کو حسرت ویاس کے عالم میں یہ کہتے ہوئے ضرور سنا ہوگا کہ’’ اے کاش !کہ مجھ تھوڑا سا اور وقت مل جاتا تو میں مزید کچھ اہم امور نمٹا لیتا‘‘۔ وقت انسانی زندگی کا سب سے قیمتی شئی ہے مگر ہم مسلمان آج کے اس تیز ترین دور میں سب سے بے دریغ جو چیز ضائع کرتے ہیں وہ وقت ہے۔میں نے کہی سنا ہے کہ امریکہ میں لوگوں کی زندگی وقت سے دو سیکنڈ آگے چلتی ہے۔کاش ہم آگے نہ بھی چلتے مگر وقت کے ساتھ ساتھ تو چلتے۔ وقت اور زمانے نے ہمیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس موضوع پر پہلے بھی میرے دو کالم شائع ہوچکے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے یہ موضوع قلیل کے بجائے کثیر کامتقاضی ہے۔وقت دو دھاری تلوار ہے ، آپ اس تلور کو کاٹ نہیں سکتے بلکہ خود اس کا شکار ہوسکتے ہیں اور ہم مسلمان تو روزانہ کی بنیاد پر اس کا شکار ہورہے ہیں ۔وقت کو درست استعمال کرکے زندگی اور معاشرے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے سٹیفن آر ۔کووے نے ’’First things first ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس کا اردو ترجمہ پروفیسر اعجاز اے محمود نے ’’ضروری کام پہلے‘‘ کے نام سے کیا ہے۔سٹیفن آر۔ کووے ایک امریکی مصنف ہے۔اس کی دو مشہور کتابیں ’’پراثر لوگوں کی سات عادات اور ’’لیڈر شپ‘‘ نے دنیا میں دھوم مچارکھی ہیں ۔مغربی دنیا میں کووے کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ کووے کو پوری دنیا میں لیڈر شپ،خاندانی معاملات ،درس و تدریس اورانسٹیٹیوٹ کی کامیابی و عروج اور ترقی کے ماہر کی حیثیت سے بے پناہ احترام واکرام کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔ وقت کی قدر و قیمت پر میں نے اردو اور عربی میں کافی مطالعہ کیا ہے۔علامہ ابوفتاح ابوغدہ کی کتاب ’’قیمۃ الزمن عندالعلماء‘‘ علمی دنیا میں ایک معروف کتا ب ہے۔ میرے استاد گرامی ابن الحسن عباسی کی کتاب ’’متاع وقت اور کاروان علم‘‘ نے میری زندگی کی ترجیحات بدل کرکے رکھ دی ہیں۔زما نہ طالب علمی میں اس کتاب کو بالاستیعاب پانچ دفعہ پڑھی ہے۔ اب بھی گاہے گاہے پڑھتا رہتا ہوں۔ محمد بشیر جمعہ کی کتاب ’’شاہراہ زندگی پر ترقی کاسفر‘‘ ایک وقیع اور دلچسپ کتا ب ہے۔میں اپنے دوستوں اور طلبہ کو بھی تاکید کرتا ہوں کہ یہ کتابیں ضرور پڑھ لی جائے۔�آج اپنے قارئین کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ مندرجہ بالا کتابوں کو کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھیں۔ یہ کتا بیں آپ کا تھوڑا وقت لے کر آپ کو بہت کچھ دیں گی۔

haqqani-logo-and-pictureاس میں دو رائے نہیں کہ انسان ایک کامیاب زندگی گزارنا چاہتا ہے۔کامیاب زندگی اور خوشحال زندگی کس سے کہا جاتا ہے ، وہ کیا چیزیں ہیں جن سے ایک زندگی کو کامیاب اور خوشحال کہا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ہم پروفیسر کووے کے نظریہ کو اپنے الفاظ کا جامہ پہناتے ہیں ۔انسان کی زندگی کے بنیادی ضروریات اور تقاضے چار ہیں۔ان چار ضروریات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔جب تک ایک انسان کو یہ چار بنیادی ضروریات حاصل نہیں ہوتی تب تک وہ اپنے آپ کو نامکمل محسوس کرتا ہے۔انسان طبعی طور پر خوش رہنا چاہتا ہے۔یعنی وہ ایک کامیاب اور پرکشش زندگی گزارنا چاہتا ہے، یہ طبعی تقاضہ ہے۔انسان معاشرتی طور پر بھی خوش رہنا چاہتا ہے، یعنی چاہتا ہے کہ وہ لوگوں سے محبت کریں اور لوگ اس سے بے انتہا محبت کریں۔انسان ذہنی طور پر خوش رہنا چاہتاہے۔اور یہ خوشی اور سکون اسے علم و عمل اور تربیت کے ذریعے ہی مل سکتی ہے۔ انسان روحانی طور پر خوش رہنا چاہتا ہے، روحانی خوشی کیسے مل سکتی ہے اس کی کئی صورتیں ہوسکتیں کہ، مثلا انسان کا روح متقاضی رہتا ہے کہ وہ ایک کامیاب اور خوشگوار زندگی گزارے اور لوگ آئندہ کے دنوں میں جب بھی کامیاب اور پرعزم زندگی کا ذکر کریں تو لامحالہ اس کا نام لیں۔یعنی وہ دوسروں کے لیے مثال بننا چاہتا ہے۔اگر آپ انگلش میں اس تفصیل کو سمجھنا چاہیے تو آپ اس محاورے کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں۔ ’’ve, to love, to learn, to leave a legacy To li‘‘

آ ج کی تحریر میں ان لوگوں کو مخاطب کیا جائے گا جو طبعاً، جسماً، ذہناً، عقلاً،روحاً اور معاشرتی و سماجی اعتبار سے نوجوان ور فکر مند ہوں۔اور ایک کامیاب معاشرتی،سماجی اور ذاتی زندگی گزارنے کے خواہش مند ہوں۔ جو طبعی،معاشرتی،ذہنی اور روحانی کامیابی کی تمام لذتیں حاصل کرنا چاہتے ہوں۔لازمی نہیں کہ یہ جوانی،فکرمندی اور تندہی صرف کم عمر لوگوں کو حاصل ہو بلکہ بعض بوڑھے اور ضیعف العمر لوگ بھی نوجوانوں سے زیادہ پرعزم اور فعال ہوتے ہیں۔ہمارے استاد محترم شیخ سلیم اللہ خان مدظلہ فرمایا کرتے تھے کہ میں بظاہر ضعیف ہوا ہوں مگر عزم وجزم اور حوصلے میں آپ سے جوان ہوں، وہ واقعی جوان تھے۔ آج گلگت بلتستان کی سطح پرتعلیم یافتہ نوجوانوں اورپرعزم ضعیف العمر ویل ایجوکیٹڈ اور ویل ایکسپیرینسڈ احباب پر مشتمل ایک فورم تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔آپ اس فورم کو کوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ آپ گلگت بلتستان یوتھ تھنکر فورم ہی کہہ لیں۔ یا اشتراک رائے سے کوئی بھی نام تجویز کرلیں۔ یہ فورم غیر سیاسی، مذہبی و مسلکی اور غیر منافع بخش بنیادوں پر قائم ہو۔اس فورم کے دیگر اغراض و مقاصد کے ساتھ چار چیزیں ترجیحی بنیادوں پر شامل ہوں۔یہ فورم معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص نوعمر طلبہ و طالبات میں چار چیزیں اُجاگر کریں۔۱۔خودآگہی(Self awareness) یعنی اپنی ذات سے آگاہی کا شعور، کہ رب العزت نے ہمیں کس مقصد و غایت کے لیے پیدا کیا ہے۔مقصد تخلیق انسانی کیا ہے۔ خودآگہی میں معرفت الہی اور تخلیق انسانی دونوں چیزیں آجاتی ہیں۔خودآگہی ہماری آنکھوں سے دبیز پردوں کو ہٹا دیتی ہے اور یہی خود�آگہی سے ہی ایک انسان کی تمام ظاہری وباطنی خوبیاں اور خامیاں عمیق مطالعے کے بعد روزروشن کی طرح عیاں کی جاسکتی ہیں۔دوسراضمیر کی آواز( Conscience)، ضمیر کی آواز بہت اہم چیز ہے۔انسان اپنی عملی زندگی میں جو بھی کام کرتا ہے۔ ضمیر اس کو اچھے کام پر تحسین کے پھول نچھاور کرتا ہے اورغلط اور برے کام پر ملامت کے پتھر برساتا ہے۔ ضمیر ایک خفیہ طاقت ہے جو کسی بھی باضمیر انسان کو ایک اچھے کام کی اجازت دیتا ہے اور تحسین بھی کرتا ہے جبکہ بے اصول، لایعنی اور غیر منفعت اور بے ہودہ کاموں سے روکتا ہے اورملامت بھی کرتا ہے۔ یہ انسانی ضمیر ہی ہے جو اپنی مخصوص صلاحیتوں پر منعم حقیقی کا شکرکرنے اور مقصد، ہدف اور ٹارگٹ کا تعین، ادراک اور فہم عطاکرتا ہے۔دنیا میں وہی لوگ، معاشرے اور ممالک کامیاب ہیں جو باضمیر ہیں۔آج ضمیر سازی کی اشد ضرورت ہے۔ تیسرا خودمختار مرضی،( Independent Will)،انسانی زندگی میں خودمختار مرضی بھی بہت اہم چیز ہے۔یہ ایک عظیم ودیعت ہے جو اللہ رب العزت کے فضل سے عطا کی جاتی ہے۔اس صلاحیت و دیعت سے ہم میں انقلابی کام کو انجام دینی کی آمادگی ظاہر ہوتی ہے۔اس خود مختار مرضی کی وجہ سے ہی ہم اپنے اردگرد کے رستے ہوئے مسائل کاآزادانہ جائزہ لے سکتے ہیں اور اپنے مروجہ لائحہ عمل اور انداز فکر میں نئے اصول اور جدید ضروریات اور مقتضائے حال کے مطابق تصحیح، تبدیلی اور تجدید کرسکتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی اچھی صفت ہے کہ اسے ہم وقتی اور دائمی جذبات و حالات کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔یہ صلاحیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہم صرف ماضی کی پیداوار نہیں بلکہ حال اور ایک بہترین مستقبل کا نمائندہ بھی ہیں۔یہی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے ہم اپنے مزاج ، طبع، رجحان،علم وحلم اور فکر کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین مواقع اور پروفیشن کا انتخاب کرسکتے ہیں۔چوتھا تخلیقی تصور (Creative imagination)، تخلیقی سوچ و تصور کوآپ قوت متخیلہ کا نام بھی دے سکتے ہیں۔قرآن کریم میں اس کاذکر کئی قسم کے صیغوں کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً، یعقلون، تعقلون، تفہمون، تتفکرون،تعلمون،یسخرون، تسخرون، تتخیلو ن ۔یہ بھی خالق کونین کی طرف سے بہت ہی کم لوگوں کو تحفۃً عطاء کی جاتی ہے۔ مذکورہ بالا چار صفات سے انسان اور دیگر مخلوقات میں تمیز کی گئی ہے۔ ہر انسان میں کم اور زیادہ کی بنیاد پر یہ صفات موجود ہوتیں ہیں مگر بات صحیح سمجھنے اور استعمال کرنے کی ہے۔ قوت متخیلہ ہی کے ذریعے ہم اپنے مستقبل کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ کسی بھی عمل کے وجود میں لانے سے پہلے ہم قوت متخیلہ کے ذریعے اس کام کے تدریجی مراحل، اس عمل کا انجام، اس کے نقصانات و فوائد کو دیکھ سکتے ہیں اور اپنی تمام صلاحیتوں اور قابلیتوں کو خوبصورت طریقے سے منیج(manage) کرکے مجوزہ کام کو مکمل تکنیک اور خوبصورت طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔ اسی تخلیقی صلاحیت ہی کے ذریعے ہم دوسرے انسانوں سے اپنے آپ کو ممتاز بنا سکتے ہیں۔ یہی وہ عظیم صلاحیت ہے کہ ہم اعلیٰ مقاصدپر مبنی ایک جاندار لائحہ عمل تشکیل دے سکتے ہیں۔ اور اسی قوت متخیلہ کی ہی مدد سے ہم اپنے تشکیل کردہ پروگراموں کا تفصیلی جائزہ لے سکتے ہیں اور خود احتسابی کی اہلیت بھی پیدا کرسکتے ہیں۔تخلیقی سوچ کے حامل فرد کسی بھی ادارے کو عروج تک پہنچا سکتا ہے۔

ہم واضح طو ر پر اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ مذکورہ بالا چار صفات کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے سے ہی زندگی کے اعلیٰ مقاصد کی تکمیل ہوجاتی ہے۔اس فو رم کے ذریعے ہی سے ہم نے اپنے اندر یہ صلاحتیں پیداکرنا ہے کہ ہم خود کو شک کی نگاہوں سے نہ دیکھیں اور نہ ہی دوسروں پر الزام تراشی کا خوگر ہوں۔اہداف کے مکمل تعین کے بغیر کوئی کام سرانجام نہ دیں، فوری ا ور ضروری نوعیت کے کاموں کو پہلی فرصت میں کریں۔ اور یہ سوچ جو ہمارے معاشرے میں بری طرح رچ بس گئی ہے کہ ہم خوف زدہ ہوکر زندہ رہ رہے ہیں۔انسان پریشانی اور خوف کے سائے میں لازمی طور پر بہتری اور اعلیٰ مقاصد سے کنارہ کش ہوتا ہے۔اس کی بیخ کنی کرنی ہے۔ہم خود کو قصور وار نہ سمجھیں اور نہ ہی دنیا کے مسائل سے ڈر کر مصالحت اور فرار کی راہ اختیار کریں بلکہ ہمیں پوری تندہی اور ہمت وعزم سے اپنے وسائل کو یکجا کرکے مسائل کابہتر انداز میں مقابلہ کرنا ہے۔ دباؤ ا ور بحرانوں کی کیفیت سے نکل کر رہنمائی اور لیڈر شپ کی راہ لینا ہے۔ہر انسان اپنے گھر میں، اپنے خاندان میں، فیکٹری اور دفتر میں، کمپنی میں اور پھر ریاست میں ایک سربراہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اپنی حیثیت کے مطابق اصول طے کرنے ہیں۔پھر ان اصولو ں پر کاربند رہ کر کامیابی سے ہمکنار ہونا ہے۔قل ربی اللہ ثم استقم، سے ہمیں یہی درس ملتا ہے۔زندگی کے تمام شعبوں میں لیڈری اور رہنمائی اپنا وجود اور اثر دونوں دکھاتی ہے۔ہرا نسان کے اندر سے لیڈری چیخ چیخ کر اس کو پکار رہی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اس پکار کو سمجھنا ہے ۔اگر آپ سمجھے تو آپ ایک کامیاب سربراہ گھر، سربراہ ادارہ اور سربراہ ملک ہیں۔

ایک انسان کی کامیاب زندگی، ایک کامیاب معاشرہ اور ایک کامیاب ریاست کے شہریوں کے لیے ان مقاصد کا حصول بدون تعلیم کے ممکن ہی نہیں۔یہ ہم پر عیاں ہے کہ ہم ایک ایسی دین کے داعی ہیں کہ اس کا اولین موٹو ہی تعلیم ہے۔تعلیم ہی ہمارا ورثہ ہے۔ ہم نے صدیوں تعلیم ہی کو بدولت پوری دنیا پر حکمرانی کی ہے۔ اگر آج ہم زوال پذیر ہیں تو بھی اس کا واحد سبب ہمارا تنزلِ تعلیم ہے۔ہم نے علم کو اتنے خانوں میں تقسیم کیا ہے کہ اب ہم خود حیرت میں مبتلا ہیں۔ اور ہم جس ریاست میں رہتے ہیں وہ ریاست بھی علم کا مدعی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم مدعی بھی ہیں اور اپنے دعویٰ کے خلاف دلیلیں بھی اپنے قول و عمل سے دے رہے ہیں۔ہم ریاستی طور پر علم کے مدعی کیسے ہیں تو آئے ہم ریاستی آئین کی ایک لائن پڑھتے ہیں۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ کسی بھی ریاست کو نظامِ عمل آئین دیتا ہے۔تعلیم کے بارے میں آئین پاکستان کیا کہتا ہے ملاحظہ کیجیے۔

\”The state of Pakistan shall remove illiteracy and provide free and compulsory secondary education within minimum possible period.\”

میں اس حقیقت سے خوب واقف ہوں کہ تعلیم میں ثنویت نہیں ہے۔ مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں تقسیم کی لکیر کھینچ لی گئی ہے۔قدیم اور جدید کا تصور نے مضبوطی سے جڑیں پکڑ لی ہیں مگر اس قدیم اور جدید کے حسین امتزاج پر میں اکابر اہل علم کے سینکڑوں دلائل پیش کرسکتا ہوں۔علامہ اقبال، سید قطب اور حکیم الامت اشرف علی تھانوی کی تعلیمات اور حسین احمد مدنی کا مجوزہ تعلیمی خاکہ اورشیخ الہند کی تعلیمی فکر میرئے سامنے ہے۔ انہوں نے قدیم اور جدید تعلیم کے حوالے سے 1920 ء کو جامعہ اسلاملیہ اسلامی دہلی کے تاسیسی جلسے میں جو تقریر فرما ئی تھی وہ میرے کانوں میں رس گھولنے کے لیے کافی ہے۔ اس وقت ان کے مخاطب صرف اور صرف تعلیم یافتہ لوگ تھے۔

ہمیں تلخ حقائق کا ادراک کرنا ہی ہوگا اور اعتراف بھی۔ ہم سب سمجھتے ہیں کہ آج ہمارے معاشرے میں سینکڑوں نوجوان بڑ ی بڑی ڈگری لیے پھرتے ہیں۔ اس میں تخصیص نہیں کہ انہوں نے جدید تعلیم حاصل کی ہے یا قدیم۔ دونوں کے حاملین سرگرداں پھر رہے ہیں۔ کیوں؟ اس کیوں کا جواب صرف یہ ہے کہ ہم نے جو تعلیم حاصل کی ہے اس نے ہمیں وہ راہ ہی نہیں دکھائی جو دکھانی تھی۔ہماری تعلیم نے ہمیں خود آگاہی نہیں سکھائی ہے۔ ہماری تعلیم ہمارے ضمیر کو نہیں جھنجوڑ رہی ہے۔ ہماری تعلیم نے ہمیں کبھی بھی خودمختاری کا سبق نہیں پڑھایا۔اور نہ ہی ہماری تعلیم نے ہمیں تخلیقی تصور دیا ہے۔ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کون ہیں اور کس مقصد کے لیے اس دنیا میں موجود ہیں۔ ہماری مروجہ تعلیم ان جیسے بے شمار سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔میں جب بھی ڈگری کلاسز میں اپنے طلبہ سے یہیں باتیں کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس طرح توکوئی نہیں بتاتا ، ہمیں تو صرف نصابی کتابوں سے چند باتیں بتلا کر فارغ کردیا جاتا ہے۔آج تک ہمارے تعلیمی اداروں میں ہمیں مثال بننے کی ترغیب نہیں دی ہے اور نہ ہی ہمیں جدید دور کے ضروری تعلقات ا ور کمیونیکیشن کے ذریعے اور نہ مشاورت و ہدایت کے ذریعے اپنے آپ کو باکمال بنانے کا گُر سکھایا ہے۔ ہم مشینی طور پر تعلیم یافتہ ہوگئے ہیں۔ ایک مخصوص پیریڈ کے بعد ہمیں ڈگریا ں تھمادی گئی ہیں اوربس …..۔کوئی میری بات تسلیم کرے یا نہ کرے مگر یہ تلخ حقیقت ہمیں ماننا پڑھے گا کہ ہم نے بار ہا یقینی طور پر غفلت، سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کیا ہے۔اگر کبھی ہمارے ضمیر نے ہمیں جھنجوڑا بھی ہے تو ہم نے آن سنی کردیا اور اس کی صدا فراموش کردی ہے۔ہماری زندگی میں بیسویں دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ہم نے انسانی سیرت و کردار کے برعکس کام کیا۔اور دیسویں دفعہ ہم نے حکمت و بصیرت اور تصور و تخیل اور فکر و نظر کو نظرانداز کرکے عاقب نااندیشی کا واضح مظاہرہ کیا ہوتاہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ان صورتوں سے نکلنے کہ لیے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔کوئی تو ہو جو ہمیں خود آگاہی سے متعارف کروائے۔ہمارے ضمیروں کو زور سے جھنجھوڑے اور ہمیں اچھے اور برے ، صحیح اور غلط اور حق اور باطل میں تمیز کا سبق سکھائے۔ لازمی طور پر کوئی نہ کوئی ہمارے اندر قوت متخیلہ اور خودمختار مرضی کی صلاحیت پیدا کریں اور ان میں زنگ لگا ہوا ہے تو پالش کریں۔طول و عرض میں نظریں دوڑائیں تو بھی کوئی طبقہ درست معنوں میں یہ کام کرتا نظر نہیں آتا۔حکومت اور منافع بخش اداروں سے بھی اس کام کی توقع عبث ہے۔اگر کوئی صاحب دل آدمی اس کردار سازی کا بیڑہ اٹھائے تو شاید کوئی تبدیلی آجائے۔ میں واضح طور پر بتلانا چاہتا ہوں کہ اس کے بغیر کوئی سی بڑی تبدیلی بھی ہمارا مقدر نہیں بدل سکتی۔کوئی سا انقلاب ہمارے زخموں کا مرہم نہیں ہوسکتا۔خدا کی قسم ہمیں فرد اور معاشرے کی مکمل اصلاح کرنی ہوگی اور وہ اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔آپ قرانی تعلیمات اور قرن اول کے مسلمانوں کی زندگیوں کا عمیق مطالعہ کرو تو ان میں یہ تمام چیزیں بدرجہ اتم موجود ہونگی۔آج نئے سرے سے، جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اسلاف کے ان روایات کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔میرے دل و دماغ میں جو خاکہ بن رہا ہے شاید درست انداز میں میرے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔اگر آپ کو سمجھ نہیں آرہا ہے یا میں آپ کو مکمل سمجھانے سے قاصرہوں تو آپ اس کو میری تحریر میں جھول کا نام دے سکتے ہیں۔اگر آپ پھر بھی سمجھنے کے لیے مصر ہیں تو جن کتابوں کا حوالہ پہلے پیرگراف میں دیا ہے ان کے مطالعہ ٹھنڈے دل و دماغ سے ضرور کیجیے گا۔اور مصر کے جید اسکالر سید قطب کی کتاب معالم الطریق(عربی) جس کا اردو ترجمہ ’’جادہ ومنزل ‘‘کے نام سے ہوئی ہے اور ہندوستان کے علامہ ابولحسن علی ندوی ؒ کی کتاب’’ ماذا خسرالعالم بانحطاط المسلمین‘‘(عربی) جس کا اردو ترجمہ ’’انسانی دنیا میں مسلمانوں کا عروف و زوال‘‘ کے نام سے ہوئی ہیں بھی ملاحظہ کیجیے۔

جو معاشرے اور افراد خودآگہی کی صفت سے محروم ہوں، ضمیر کی آزادی ان کے نصیب میں نہ ہو۔ خودمختار ی کے بجائے غلامی کے خوگر ہوں،تخلیقی تصورات کے بجائے انجماد کا شکار ہوں ایسے معاشروں اور افراد سے خیر کی توقع عبث ہے۔ زوال لازمی ہے۔ ایسے معاشروں میں ضیاع وقت، معاشرتی بگاڑ، سماجی ناانصافی ،کرپشن ، میرٹ کی پامالی، بدامنی، قتل و قتال،قیل و قال،لڑائے جھگڑے، چوری چکاری، کساد بازاری، قول و فعل میں تضاد، ظلم و جبر، غفلت و سستی، کاہلی و کسالت پسندی، خود غرضی و لالچ، افراتفری،فکری بے راہ روی،غیروں کی خوشامد، اپنوں سے دشمنی،تعلیمی افلاس،زنا، شرب الخمر، کذب ،ابن الوقتی اور ان جیسی بے شمار بری صفات خود رو پودوں کی طرح اُگ آتی ہیں۔ ان بری صفات کو اصول فقہ کی اصطلاح میں افعال حسیہ کیا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان افعال سے مطلق نہی وارد ہوئی ہے۔ان افعال کی برائی کا سمجھنا شریعت پر موقوف نہیں۔ ہر آدمی سنتے ہی ان افعال کی برائی سے آگاہ ہوتا ہے۔ یہ انسانی دنیا کے آفاقی اور مسلمہ اصول ہیں ۔دنیا کا کوئی مذہب، کوئی اصول، کوئی قانون، کوئی روحانی تعلیمات، کوئی پیشوا اور کوئی معاہدہ ان برے کام کی حمایت نہیں کرتا، بلکہ شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ تمام برائیاں خودرو سبزہ کی طرح روز بڑھ رہی ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے ہمیں کردار ادا کرنا ہوگا۔ وہ بھی ہنگامی بنیادوں پر۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments