مصنوعی صوبے کےنام پر گلگت بلتستان کا استحصال کیا جارہاہے: مقررین

مصنوعی صوبے کےنام پر گلگت بلتستان کا استحصال کیا جارہاہے: مقررین

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (وجاہت علی ) جب بھی ہم متحد ہو کر اپنے حق کی بات کرتے ہیں ہمیں لڑایا جاتا ہے ۔گورننس آرڈینس میں وزیر اعلیٰ کو یہ حق نہیں دیا گیا ہے کہ وہ 22 لاکھ گلگت بلتستان کے عوام کا فیصلہ کرے ۔اگر پچھلا حکومت نے ایسا فیصلہ کر بھی لیا ہے تو اس وفاقی حکومت کو اس فیصلے کو کالعدم قرر دینا ہو گا ۔پہلی دفعہ جب یاسین سے ریلی و احتجاجی تحریک شروع ہوگی تو سانحہ کوہستان کرایا گیا ۔ہم جب بھی حقوق کی بات کرتے ہیں اور اپنا حق مانگے ہیں تو ہمیں غدار اور انڈیا کے ایجٹ کہا جاتا ہے ۔اس مصنوعی صوبے کے نام پر جی بی کے عوام کا استحصا ل کیا جارہا ہے۔

mapان خیالات کا اظہار ایڈوکیٹ احسان علی نائب خان و دیگر نے جوہر علی خان میموریل سوسائٹی کی جانب سے منعقد کر دہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔انہوں نے کہا کہ سبسڈی کو ئی بھیک نہیں ہیں ۔یہ ہمارا حق ہے ۔جو مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک حکومت پاکستان نے ہمیں دینا ہے جب تک ہمیں حقوق نہیں ملتے ہمارے اوپر کوئی فرائض نہیں ہے اور ایشاء خوردنی پر سبسڈی پہلے ختم کی جاچکی ہے ۔فورا اس کو بحال کیا جائے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب نھی ہم اپنے حق و حقوق کی بات کرتے ہیں ایک تیرا ہاتھ علاقے میں حالات خراب کرا کے ہمیں آپس میں لڑاتے ہے۔مگراب عوام باشعور ہو چکے ہیں ۔

ہمیں ملکر اپنے حقوق اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا ۔وفاق سالانہ 60 ارب روپے جی بی سے سیلز ٹیکس سوست پورٹ سیاحت اور جنگلات کے مد میں وصول کرتا ہیں اور ہمیں صرف 18 ارب روپے دیے جاتے ہیں گلگت جی بی کا دارالخلافہ ہے ۔اس لیے یہاں حالات خراب کروائے جاتے ہیں ۔تاکہ ہم لڑتے رہے اور حقوق کی بات نہ کر سکے ۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں نے سب سے زیاد ہ عوام کا استحصال کیا ہے۔اب مزید ان پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔مقررین نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر اہلیان دیامر کے تحفظات فورا دور کئے جائے اور معاوضہ رائلٹی اور ملازمتوں اور آمدنی پر وفاق تحفظات دور کرے اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ہم ڈیم نہیں بننے دینگے ۔مقررین نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے تمام پارٹیاں ملکر باقاعدہ طور پر کمیٹی بنا کر گندم سبسڈی دیامر بھا شاڈیم اور حقوق کے لیے جدو جہد کرنے کے لیے اب ہمیں ایک ہونا ہوگا۔اور اپنے حقوق لینے ہونگے ۔مشاورتی اجلاس میں باقاعدہ طور پر اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ کل کمیٹی بنائی جائیگی اور باقاعدہ طور پر تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔