حدیث دل

حدیث دل

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: اختر عباس (مدیر اردو ڈائجسٹ) 

بہت منع کیا مگر مجال ہے احمد سلیم سلیمی کی جبین پہ شکن اور استقلال میں کمی آئی ہو۔پہلے اشاروں میں پھر ڈھکے چھپے الفاظ میں ….اور آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مجھے کہنا پڑا ’’قبلہ ! خاندانی منصوبہ بندی کا دائرہ کار صرف بچوں تک محدود نہیں ،نئی نئی کتابیں بھی اسی ذیل میں آتی ہیں۔‘‘

وہ بھی اپنی ہٹ کے پکّے۔ان کے پاس ہر اعتراض کا جواب تھا اور وہ بھی گھڑا گھڑایا ۔نِک سک سے پورا ۔میں نے پھر کہا ۔۔’’ یہ انشائیوں کی کتاب ہے تو پھر اس میں رودادیں اور سفر نامے کیا کر رہے ہیں؟عشق نامہ ،آدمی نامہ ،ادب نامہ …چلیں دل پہ پتھر رکھ کر سیاست نامہ بھی قبول کئے لیتے ہیں،پتا چلا کہ more over کے طور پر مزاح نامہ بھی ہے۔بچپن سے ٹو ان ون تو سنا تھا،پھر نیسلے والوں کی کافی کا ساشے تھری ان ون آگیا۔مگر احمد سلیم سلیمی نے تو اللہ معاف کرے ’’ حدیثِ دل ‘‘ میں سیون ان ون میں جا کر اپنے آپ کو روکا ہے۔‘‘

1891273_631954430217204_605172289_nاس پر بھی ان کے پاس جواب موجود تھا۔۔۔وہ بھی اشفاق احمد اور سعادت حسن منٹو کی بعض کتب کے حوالے کے ساتھ۔اب انہوں نے اتنے بڑے حوالے دئے تو ان کا کہا ماننااور لکھا پڑھنا پڑا۔

’’حدیثِ دل ‘‘ بڑی خوبصورت کتاب ہے۔پہلا باب ’’عشق نامہ ‘‘ سے لے کر آخری باب ’’سفر نامہ‘‘ تک سات ابواب پر مشتمل اس کتاب میں لفظ بولتے ہوئے ،احساسات بیدار ہوتے ہوئے اور مایوسیاں دم توڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ان کی تحریر میں تازگی اور زندگی ہے۔ خیالات میں شگفتگی اور روانی ہے۔اسلوبِ بیاں میں ادبی چاشنی اور الفاظ کے چناؤ میں فطری بے ساختگی ہے۔ 

خوش شکل اور خوش ادا آدمی ہے۔مروّت میں بندہ اتنا تو درگزر کر لیتا ہے مگر مجھے اندیشہ ہے ایک بار اگر چھوٹ مل گئی اور ان کی یہ کتاب بھی آکر مقبول ہو گئی تو پھر رکنے کا نہیں ۔

کبھی کتاب پڑھنے کی لذت خوشی عطا کرتی تھی۔اب لوگوں نے وہ لذت کتابی چہرے پڑھنے میں ڈھونڈ لیں ۔کتابیں بے چاری کسی بیوہ کی طرح اپنے سہاگ کا انتظار کرتی ہی رہ جا تی ہیں ۔ایسے میں جن کوپڑھنے کا شوق باقی تھاانہوں نے باقی قوم سے بدلہ لینے کی خاطر تاک تاک کر نشانہ لینے والوں کی طرح کتابیں لکھنی ،بلکہ برسانی شروع کر دی ہیں۔شاید اس وجہ سے پبلشر زنے بھی انتقامی کارروائی کے طور پر رائلٹی دینے کے بجائے لینی شروع کر دی ہے۔

احمد سلیم سلیمی دیکھنے میں ہی نہیں بولنے میں بھی بھلے لگتے ہیں۔لکھتے ہوئے کیسے لگتے ہیں اس پر ہماری رائے تو اچھی ہے۔آپ پڑھ کر رائے بنا لیجئے۔کچھ کا م تو آخر آپ کو بھی کرنا چاہئے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ مجھے پاکستان کی پانچ بڑی اور نمایاں یونیورسٹیوں میں پڑھانے کا اتفاق ہوا۔جہاں ملک کا مستقبل ’’لانچنگ پیڈ‘‘ پر ہے۔میری دلی آرزو اور خواہش تھی اور ہے کہ بچے اور بڑے کتاب پڑھنے کو اپنا معمول بنائیں۔اس لئے کہ مہذب دنیا میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے ….اچھی کتاب پڑھے بِنا آپ کے تین دن گزر جائیں تو زبان سے چاشنی اور گفتگو سے خوب صورتی کم ہو جاتی ہے۔اور خیال کی زرخیزی ختم ہو جاتی ہے۔

یہ اتنا بڑا نقصان ہے کہ اس کے سہنے کا یارا ترقی یافتہ دنیا میں شاید کسی کو ہو….مگر ہم بہادر لوگ ہیں۔بڑے بڑے نقصان چپ چاپ یوں سہہ جاتے ہیں جیسے نقصان سہنے کی خصوصی تربیت اور ڈگری لی ہوئی ہے۔ایک یونیورسٹی کلاس میں ستّر طلبہ طالبات تھیں۔میں نے انہیں ایک اسائنمنٹ دی کہ بازار سے جا کر سب سے اچھی ،معروف اور مقبول کتاب خریدیں۔اسے پڑھیں اور پھر اس پر ایک عمدہ سی presentation دیں۔میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب پتا چلا قریبََا۹۰ فیصد طلبہ و طالبات نے زندگی میں کبھی کوئی کتاب نہیں خریدی ۔اور میرے کہنے پر یوں پہلی مرتبہ انہوں نے یہ زحمت اٹھائی ہے۔یہ تو خوب ہوا کہ ان سے پندرہ بیس فیصد ایسے بھی نکل آئے جنہیں کتاب پڑھنے کا مزہ آیا اور انہوں نے کچھ عرصے بعد دوبارہ بھی کتاب خریدی۔

یہ عادت زندگی کاحصہ بن جائے تو زندگی خوبصورت ،سوچ مدلّل اور گفتگو میں تازگی سی آ جاتی ہے۔اختلاف کرنے کا سلیقہ بھی کتاب ہی سکھاتی ہے۔آپ ا س مصنف کو بھی شوق سے پڑھ لیتے ہیں جس کے دلائل سے اتفاق نہیں ہوتا۔خود بھی بہتر زندگی جیتے ہیں دوسروں کو بھی زندگی کے حسن سے آشنا کراتے ہیں۔پھر کل کلاں جب آپ خود سوچنے ،لکھنے اور صاحبِ کتاب ہونے کی خوشی اور لذّت سے ہم کنار ہوتے ہیں تو آسانی سے اپنے قاری کو بھی اختلاف کاحق دے دیتے ہیں۔خود عادت نہ رہی ہو تو ایسے میں اختلاف کا حق دینے پر دل کبھی راضی نہیں ہوتا۔ 

’’حدیثِ دل ‘‘ سلیمی کی تیسری کتاب ہے۔ان کی پہلی کتاب ’’شکستِ آرزو ‘‘ اور دوسری کتاب ’’دشتِ آرزو ‘‘ کے بعد ’’حدیثِ دل ‘‘ کا مطالعہ اگر آپ کے دل پر اثر کر جائے تو چوتھی کتاب کا انتظار ضرور کیجئے۔

احمد سلیم سلیمی کی معصومیت پر مت جائیے۔یہ ہر صفحے پر لفظوں اور جملوں کے پیچھے چھپے بیٹھے ہیں۔اور صفحہ مکمل ہونے پر ،خاموشی سے کوئی نہ کوئی اچھی بات اور خیال آپ کے ساتھ کر دیتے ہیں۔

لکھنے کی اپنی عادت اور شوق کے ساتھ یہ بھی سلامت رہیں اور آپ بھی مطمئن رہئے کہ

’’حدیثِ دل ‘‘ کا مطالعہ آپ کے لئے گھاٹے کا سودا یقیناًنہیں۔

اختر عباس

ایڈیٹر اردو ڈائجسٹ لاہور 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔