جمہوریت اور سول سوسائٹی

جمہوریت اور سول سوسائٹی

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جمہوریت اور سول سوسائٹی پچھلی صدی کے اہم انسانی سماجی پیشرفتوں میں سے ہیں۔ انسانی دنیا کی تاریخ میں گروہی زندگی اور نظام حکومت میں جمہوریت اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان کی عقلی شعور اورسماجی ضمیر کی اس جستجو نے جہاں دوسرے معالات زندگی میں دھوم مچادی وہاں نظام حکومت کے اس طرز فکر نے کئی اہم طاقتوں کو ہمیشہ کے لئے اوجھل کردیا۔ مصری فرعونوں ‘بابلی ‘ ایرانی ‘چینی‘ اورسندھ کی تہذیب تک خاندانی وراثتی نظام نے لوگوں سے اُن کا حق خوداختیاری چھین رکھا تھا۔قدیم یونانی فلاسفروں اور رومن شعور نے کئی نظام متعارف کروایا اُن سب سے زیادہ مضبوطی سے جمہوریت پرواں چڑھ سکی۔ جمہوریت کی موجودہ شکل صدیوں کی خونی ازمائشوں اورمصائب کے بعد تشکیل پاچکی ہے۔ اِس نظام کے تانے بانے پچھلی صدی کے دو اہم جنگوں سے بھی ملتے ہیں۔ عوامی رائے سے تشکیل پانے والی اِس حکومت کی تشکیلی بالیدگی میں کئی اسمانی ادیان‘ سیاسی شعور اور مختلف ثقافتوں کی کثیرالجہتی فکر نے کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فطری قوانین ( Natural Laws) کی استنباط سے انسانی حقوق تک کے کاؤشوں میں مغربی دانشوروں کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ اس کوشش باہم میں مسلمانوں نے اپنے حصے کا دِیا بہت پہلے ہی جلا دیا تھالیکن مسلمان لکھاریوں اورتایخ دانوں کی کوتاہ نظری کی وجہ سے ’وہ‘ شہرت نہیں پاسکے۔ اِس کی ایک وجہ ہر چیز کو مذہبی بنانے کی مسلم جستجونے بعض اوقات کئی ایک غلط فہمیاں پیدا کی حلانکہ عبدلرحمٰن ابن خلدون کی سیاسی و سماجی فکر نے عمرانی خدوخال میں تہلکہ مچادی تھی اُن کا ’مقدمہ‘ صدیوں تک سماجی ضمیر کے جگانے میں روح پرور ثابت ہوا تھا۔ بحرحال جمہوریت کی ترقی میں نمایاں دن اقوام متحدہ کے وجود کے بعد ہی میں آنے لگے۔ عوامی استحصواب رائے کی اہمیت روز اول سے اِس نظام میں اہم رہی ہے لیکن طاقتور حکمرانوں نے اِس نظام کو بھی اپنی مرضی سے الودہ کررکھاہے۔ جمہوریت کی روح میں انسانی آزادی اور حق رائے کو اس قدر مقام حاصل ہے کہ بادشاہ ‘ رعایا‘عالم‘جاہل امیر اور غریب سب کی رائے میں کوئی فرق نہیں رہی ووٹ کے لئے صرف بالغ ہونا ضروری تھا بلے شخصیت کچھ بھی ہو۔ اکثریتی رائے ہی عوامی تقدید سمجھی جاتی تھی لیکن طاقتور لوگوں کے ہجوم نے اپنی خاندانی رِٹ کو کسی نہ کسی طرح بعض علاقوں میں باقی رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

M Janبادشاہوں‘ سلطانوں‘ راجاؤں‘ چودھریوں‘ سرداروروں‘ وڈیروں اورفوجی سلطنتوں نے اِس فکر کواپنی بقا اوردوام کے لئے نامناسب استعمال بھی کیا جس کی وجہ سے اس کی روح متاثر ہوتی رہی۔ حق رائے دہی پر اثراندازی اور عقلی سوچ پر قدغن کی وجہ سے جمہوریت کا نظام اب تک دنیا کے بہت سے ملکوں میں رائج نہیں ہوسکا۔ بڑی تاریخی قربانیوں کے بعد ایتھنز روم کی جدیدجمہوری ملک modern Czech republic ‘ برطانوی غلامی سے آزادی کی جنگ ‘ Thomas Jefferson\’s کا علانیہ کے ساتھAndrei Sakharov\’s کی آخری تقریربہت شہرت پاگئی۔ جمہوریت آزادی اورآزادخیالی کے اصول پر مبنی ہے۔قدیم اتھینز میں براہ راست جمہوریت کی روایت شہرت پاچکی تھی جس میں جمہوریت اور جمہوری اختیار کے لئے کم از کم 5000کی آبادی ضروری تھی یوں جمہوریت کے دو اہم قسموں نے جنم لیا جن میں سے ایک براہ راست اور دوسری بلواسطہ شامل ہے۔ 

یونان‘ روم‘ عرب‘ چائنا‘ روس‘ افریقہ ‘ امریکہ سمیت دنیا بھر میں جمہوریت کی اگاہی تو دی گئی لیکن اب بھی دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیرملکوں میں جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ اعلیٰ درجہ اور شاہی حکمرانوں نے جمہوریت پر قدم جمائے رکھا۔ آج بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کی گوناگوں کوششوں کے باوجود دنیا میں جمہوری اقدارآہستہ آہستہ مضبوطی کی جا نب رواں دواں ہیں۔ جمہوریت‘ شخصی حکومت یا آمریت سے ادارہ جاتی اختیار کانام ہے۔ جس میں شخصیات کے بجائے ادارے کام کرتے ہیں اور ادارے ایک مشترکہ نصب العین کے تحت طے شدہ سرحدوں پر مشتمل عوامی یا قومی ریاست میں ممکن ہے۔ یہ سلسلہ ریاست کے علاوہ کسی کمیونٹی‘ قبیلہ‘ یاکونسل کے براہ راست عوامی رائے دہی سے منتخب اراکین کے ذریعے سے بھی چل سکتاہے۔ملکی سطح کی جمہوریت میں لوگوں کا تحفظ و استحکام‘اکثریتی رائے‘ اقلیتی تحفظ‘ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ‘شفاف اور آزادانہ رائے دہی پر مشتمل الیکشن‘ قانوں کے سامنے برابری و انصاف کے ساتھ ساتھ متعلقہ قانوں پر مرحلہ وار عمل بھی شامل ہیں۔ جمہوری عمل میں آئین کی پاسداری‘سماجی‘ معاشی اورسیاسی گوناگونی کا احترام کے ساتھ ساتھ تعاون اور سمجھوتے کا عمل بھی رہتا ہے۔ ریاست میں اِن تمام عوامل کی موجودگی میں ایک نظام تشکیل پاتا ہے اور اِس نظام میں دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی بھی اپنا اثر دکھا سکتی ہے۔ سول سوسائٹی عام طو ر پر حکومت اور ریاست کے عوام کے ہم خیال سماجی اور انسانیت خیزامور کی انجام دہی کے لئے کام کرتی ہے۔ جہاں حکومت اور اس کے ادارے نہیں پہنچ سکتے وہاں سے آگے سول سوسائٹی کا عمل زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔سول سوسائٹی کے لوگ حکومت اور اداروں کی استحکام میں ممدومعاون ہوتے ہیں۔ آج کل پوری دنیا میں سول سوسائٹی جمہوری ملکوں میں ہی فعال ہے۔ سول سوسائٹی انسانیت کے حدود میں بلا تفریق مدد‘ تعاون‘ اگاہی‘ تعلیم‘ بنیادی حقوق کے تحفظ‘ صحت اور اِس سے متعلقہ اگاہی اور فراہمی‘ اقلیتوں کے حقوق اورذہنی اور فکر کی آزادی جیسے اہم امور پر مددگار ثابت ہوتی ہے۔ آج جس علاقے میں سول سوسائٹی فعال ہے وہاں ریاستی ادارے بھی پنپتے ہیں۔ سول سوسائٹی میں سب سے اہم چیز شراکت داری اور اشتراک عمل ہے۔ نوجوانوں مرد و خواتین کی شراکت‘اُن کی رائے کا احترام‘ اُن تک معلومات کی فراہمی‘ بحث ومباحثہ‘ تبادلہ خیال کی آزادی اوربزرگوں کے حقوق جیسے اہم کام سرانجام پاتے ہیں۔ 

سول سوسائٹی آج کل کے جدید ترین موضوعات میں سے ایک ہے؛ جس میں جمہوریت‘ قانون پر عمل‘ انسانی حقوق‘ شہریت‘ انصاف اور آزاد تجارت شامل ہیں۔ڈینیل بل کہتے ہیں کہ ’سول سوسائٹی عزازی خدمت گاروں کی ایک گروہ یا تنظیم کا نام ہے جو مقامی سطح پر فیصلہ سازی میں کردار ادا کرتی ہے اور حکومت یا ریاستی بیروکریٹس کے زیرنگرانی نہیں ہوتی‘۔سول سوسائٹی سے مراد اداروں کا وہ سلسلہ جو نجی ‘ رضاکارانہ اور عوامی مقاصد سے لبریز ہو۔ پاکستان جیسے ملک میں سول سوسائٹی کی بہت ضرورت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نظریے کو بھی لوگ سمجھنے لگیں گے تب اس کے ثمرات معاشرے کو ملنا شروع ہوجائینگے۔ فی الحال بعض قوتیں سول سوسائٹی کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اُن کے خیال میں نجی ادارے اور سول سوسائٹی کوئی اور مخلوق سر انجام دیتے ہیں۔ یہی کام ہر معاشرے کے باشعور لوگ ہی اُسی معاشرے کے لئے سول سوسائٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض ’لوگ‘ خود نجی ادارے ‘سکول اور مدرسے مزے سے چلاتے ہیں لیکن اُن ہی میں سے کوئی ترقیاتی یاسماجی کام کریں تو وہ اُن کو اجنبی اور بیرونی ہاتھ لگتے ہیں ۔یہی جہالت اور سول سوسائٹی سے نابلد ہونے کی نشانی ہے اور جمہوریت اس وجہ سے پنپ نہیں سکتی۔ہماری اگلی نسلوں کو اپنی تعلیمی صلاحیتیں اور علمی ماحول بنانے کیلئے آگے آناچائیے تاکہ ہرمیدان میں اپنی مددآپ کااصول بھی ازمایاجاسکے۔ آپ کا کیا خیال ہے کیا سول سوسائٹی جمہوریت کی مضبوطی کے لئے اہم نہیں؟ کیا سول سوسائٹی صرف مغرب میں ہی ممکن ہے؟ کیاہمارے نجی سکول اور مدرسے سول سوسائٹی میں شامل نہیں؟ اللہ تعالیٰ ہمیں طرز حکمرانی اور ترقی کے نئے جہتوں سے اگاہ ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔