پاٹا اور قبائلی علاقہ جات کے صحافیوں کیلئے منعقدہ تین روزہ ورکشاپ اختتام پذیر

پاٹا اور قبائلی علاقہ جات کے صحافیوں کیلئے منعقدہ تین روزہ ورکشاپ اختتام پذیر

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

untitled

چترال (محکم الدین محکم ) سابق وزیر اطلاعات صوبہ خیبر پختونخوا میاں افتخار حسین نے کہا ہے ۔ کہ پاکستان کے ایک بڑے حصے کو شورش زدہ علاقہ قرار دے کر بین الاقوامی سطح پر دہشت گردوں کیلئے ایک ایسی ریاست قائم کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ جس کے ذریعے مستقبل میں اسرائیل کی طرز پر اپنے مقاصد پورے کئے جا سکیں ۔ اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے ۔ کہ پاکستان کے حکمران بشمول امریکہ مخصوص مفادات کے حصول کیلئے ایک ہو گئے ہیں ۔ اورملک کے اندر دہشت گردوں کو دفاتر کھولنے کی پیش کش اور حکومتی رٹ کو چیلینج کرنے والوں کے ساتھ بات چیت اس سلسلے کی اہم کڑی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں ساؤ تھ ایشاء پارٹنر شپ کے زیر انتظام سٹیزن ایکشن پیس اینڈ ڈویلپمنٹ (CAPD)کے تعاون سے پاٹا اور قبائلی علاقہ جات کے صحافیوں کیلئے منعقدہ تین روزہ ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

جس میں چترال ، دیر اپر ، دیر لوئر ، باجوڑ ایجنسی ، خیبر ایجنسی ،مہمند ایجنسی اورکرم ایجنسی کے صحافیوں نے شرکت کی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم مذاکرات کے حامی ہیں ۔ لیکن ملکی آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔اور موجودہ مذاکرات سے انہیں مستقبل میں مزید کشیدگی اور خانہ جنگی کی بو آرہی ہے ۔ اس لئے ہمیں خطے اور ملک کو بچانے کیلئے تمام تر باہمی ا ختلافات کو پس پشت ڈال کر نہ صرف ان مذاکرات پر کڑی نظر رکھنی چاہیے ۔بلکہ اتفاق واتحاد قائم کرکے حالات کے مقابلے کیلئے خود کو تیار رکھنا چاہیے ۔ اور قومی اتحاد کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے میڈیا سب سے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ موجودہ وقت میں میڈیا کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ اور بحیثیت سابق صوبائی وزیر اطلاعات انہیں تمام مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ۔ اس لئے صحافیوں کو اپنی جان خطرے میں ڈال کر رپورٹنگ کی بجائے حکمت عملی کے تحت متبادل جدید ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سابقہ حکومت کو معلومات تک رسائی کے قانون کو اپنے دور میں اسمبلی سے پاس کرانے کا موقع نہیں ملا ۔کیونکہ اس بل پر حکومت اور بیوروکریسی کے بہت زیادہ تحفظات تھے ۔ اور ان تحفظات کو دور کرنے کیلئے ان کے پاس مناسب وقت دستیاب نہیں تھا ۔ تاہم انہیں خوشی ہے ۔ کہ موجودہ حکومت نے ان کے شروع کردہ بل کواسمبلی سے پاس کراکے اسے قانونی حیثیت فراہم کی ۔ ساؤ تھ ایشاء کے ریجنل ہیڈ سکندر زمان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ایس اے پی پی پاکستان ، بنگلہ دیش ،سری لنکا ،انڈیا ، نیپال وغیرہ ممالک میں امن ،اچھی نظم ونسق قائم کرنے اور سماجی خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں کوشان ہے ۔ اور ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے پاکستان کے چاروں صوبوں میں متذکرہ بالا شعبوں میں بہتری لانے کیلئے کام کر رہا ہے ۔

جس میں میڈیا ایک ایسا سٹیک ہولڈر ہے ۔ جس کے بغیر ہم امن ،اچھی حکمرانی اور سماجی خدمات کے اہداف حاصل نہیں کر سکتے ۔ تقریب سے سیپ کے دیگر ذمہ داران نعیم خٹک اور الہ نور نے بھی خطاب کیا ۔تین روزہ ورکشاپ میں سنیئر صحافی شمیم شاہد نے میڈیا ، اسکی اہمیت ، خطرات ، ذمہ داریاں ،امن کے قیام اور ترقی میں میڈیا کا کرادر معلو مات کی فراہمی اور ترویج علم میں مثبت صحافت سے معاشرے پر پڑنے والے اثرات سے متعلق علمی اور ذاتی مشاہدات سے صحافیوں کو اگاہ کیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔