شیشی بجلی گھر چترال سے ٹیکنیکل سٹاف غائب، کروڑوں روپے کی مشین چوکیدار کے رحم و کرم پر

شیشی بجلی گھر چترال سے ٹیکنیکل سٹاف غائب، کروڑوں روپے کی مشین چوکیدار کے رحم و کرم پر

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے پہلے قصبے دروش کے صارفین کو بجلی فراہم کرنے کیلئے SHYDO نے کروڑوں روپے مالیت سے 1.8 میگا واٹ پن بجلی گھر تعمیر کیا ۔ بجلی گھر بھی کافی تاحیر سے مکمل ہوا مگر عملہ کی غفلت کی وجہ سے یہ قیمتی بجلی گھر کئی بار حراب ہوا۔

اب ایک بار پھر یہ بجلی گھر گزشتہ ماہ سے حراب ہے اور صارفین بجلی سے محروم ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی رہنماء حاجی سلطان محمود اور دیگر عمائدین نے بجلی گھر کا دورہ کیا ۔ وہاں اس بات کا انکشاف ہوا کہ بجلی گھر کو انجنئیر یا کوئی تیکنیکی ماہر کی بجائے صرف چوکیدار چلاتا ہے۔ جبکہ اسسٹنٹ ریذیڈنٹ انجنئیر قمر ضیا ء بھی موجود نہیں تھے۔ ان کو جب دوپہر کے وقت ا پنے رہائش گاہ سے بلایا گیا کہ بجلی گھر کو چلانے کیلئے کسی ماہر شحص کی ضرورت ہوتی ہے مگر اسے صرف ایک چوکیدار چلاتا ہے تو وہ کوئی معقول جوا ب نہ دے سکے۔

downloadبجلی گھر کا ایک مشین چلتا رہتا ہے جو تقریباً چار سو کے وی۔ بجلی فراہم کرتی ہے مگر وہ صرف اپنے لئے اور بجلی گھر کے آس پاس رہنے والے اس کے عملہ کے گھروں کو بجلی فراہم کرتی ہے جبکہ عوام اس بجلی سے محروم ہیں۔

قمر ضیاء سے جب پوچھا گیا کہ بجلی گھر بلا وجہ چلایا جاتا ہے اس سے اس کی لائف حتم نہیں ہوتی اور لوگوں کو بجلی دئے بناء اسے کیوں چلایا جاتا ہے تو ان کا کہنا ہے کہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے ہمیں روشنی کی ضرورت پڑتی ہے حالانکہ دن کے وقت بجلی کی روشنی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

پاکستان تحریک انصاف کے حاجی سلطان نے اس بات پر نہایت دکھ کا اظہار کیا کہ ساٹ کروڑ روپے مالیت کی اس قیمتی مشنری کو صرف ایک چوکیدار چلاتا ہے اور اس کا اسسٹنٹ ریذیڈنٹ انجنئیر گھر بیٹھا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجلی گھر صرف اسی وجہ سے حراب ہوتا ہے کہ اسے ایک نان ٹیکنیکل شحص چلاتا ہے۔ 

قمر ضیاء سے جب پوچھا گیا کہ یہ بجلی گھر جرمنی کا بنا ہوا ہے مگراس میں اب تمام پرزے مقامی لگائے گئے ہیں جس سے کی پیداوار اور کارکردگی پر برا اثر پڑتا ہے تو ا ن کا کہنا تھا کہ جرمنی کے پرزے بہت مہنگے ہیں اور حکومت ہمیں ان کی ادائگی نہیں کرتی اسلئے اس میں سستے پرزے استعمال کرتے ہیں جو پشاور وغیرہ میں بنتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اب بجلی گھر کی انٹیک یعنی پانی کی ذحائر پر کام جاری ہے جس کیلئے ڈیڑھ کروڑ روپے منظور ہوئے ہیں اور اس کی تکمیل کے بعد بجلی گھر کو چلایا جائے گا ۔

دروش سے تعلق رکھنے والے بجلی کے ایک ماہر بہرام سید نے کہا کہ یہاں غیر فنی اور غیر تیکنیکی عملہ کی وجہ سے یہ بجلی گھر بار بار حراب ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی گھر بار بار ٹرپ ہوجاتا ہے جس کیلئے الیکٹریکل انجنئیر بلانا چاہئے تھا مگر ریذیڈنٹ انجنئیر نے ایک مقامی ٹیکنیکل انجنئیر کو بلایا ہے جس سے خدشہ ہے کہ بجلی گھر کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ 

دروش کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی گھر کے لئے جرمنی پرزے منگوائے جائے اور اس کے عملہ کو پابند کیا جائے کہ وہ بجلی گھر کو صرف ایک چوکیدار کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے جو اس کی مشنری کو سمجھتا ہی نہیں ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔