گلگت بلتستان میں طبی سہولیات ۔ لمحہ فکریہ

گلگت بلتستان میں طبی سہولیات ۔ لمحہ فکریہ

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کو بحیثیت ایک متنازعہ قوم اور خطے کے جس طرح زندگی کے تمام شعبہ جات میں مشکلات کا سامنا ہے ان میں سے ایک شعبہ صحت کا بھی ہے ۔ صحت کی بہتری انسان کی بقاء سے جُڑی ہوئی ہوتی ہے لہذا یہ مسلہ ذیادہ پیچیدہ ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے خطے میں اسطرح کے اہم مسائل ہمیشہ غیرمتوجہ رہے ہیںآج ہم کوشش کریں گے کہ اس اہم قومی ایشو پر کچھ بحث کریں شائد اقتدار کی ایوانوں تک ہماری بات پونچ جائے۔گزشتہ کئی مہینوں سے وزیر صحت صاحب کا اخباری بیانات نظر سے گزر رہا تھا وزیر موصوف ہر وقت فرماتے ہیں کہ محکمہ صحت فلاحی اداروں کے ساتھ ملکر صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں اسی حوالے سے مختلف اوقات میں ورکشاب کے تصاویر اور خبریں بھی گاہے بگاہے مقامی اخبارات میں دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں مگر صحت کے حوالے سے جس مسائل کی حل کیلئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے اس پر آج تک جامع منصوبہ بندی نظر نہیں آیا۔

my Logoپچھلے پانچ سالوں کے دوران عوام میں یہی ارمان میں رہ گئے کہ حکومت خطے میں کو ئی ایسا میڈیل سنٹرز قائم کرے جہاں ہر قسم کی پیچیدہ ا مراض کا علاج ہو مگر عوام کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکایوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس حکومت کا طب کے شعبے میں کارکردگی زیرو کی ریٹ پر رہا جس کے سبب گلگت بلتستان کے عوام اس وقت پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے تربیتیڈاکٹروں کیلئے ایک بہترین تجربہ گاہ بن چکی ہے جو مئی کے شروع سے لیکر جولائی کے آخر تک سیرسپاٹے کے ساتھ گلگت بلتستان کے عوام پر کئی قسم کے تجربے کرکے چلے جاتے ہیں ساتھ ہی یہ خطہ ان میڈیکل لیبارٹریوں کیلئے بھی ایک پریکٹیکل لیب کا خدمات بھی سرانجام دے رہے ہیں چاہئے نجی ہو یا سرکاری جو بھی داوئی مارکیٹ میں نیا لایا جاتا ہے جس کا تجرباتی عمل بھی گلگت بلتستان کے عوام سے شروع ہوتا ہے ۔لیکن سردیاں شروع ہوتے ہی تجرباتی مسیحا غائب ہوجاتے ہیں حالانکہ اُس وقت گلگت بلتستان کے موسمی اثرات کی تبدیلی کے باعث عوام بیماریوں کا ذیادہ شکار رہتے ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق تجرباتی دوائیوں کے استعمال کے بعد اکثر مریض جسے کوئی معمولی بیماری لاحق ہوتی ہے لیکن سردیوں کے موسم میں دوائیوں کی عدم دستیابی کے باعث وہ مرض مضر بن جاتی ہے اور لوگ دیسی ٹوٹکوں کے ذریعے علاج شروع کرتے ہیں جو کہ بعد میں موذی مرض میں تبدیل ہو کرخطے میں عدم سہولیات کے باعث علاج کیلئے پاکستان کے شہروں کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے۔یوں گلگت بلتستان کے عوام کیلئے صحت بھی زندگی کے ایک جدوجہد میں شامل ہے کیونکہ آج کی اس ترقی یافتہ دور میں جہاں دنیا نے ہیلتھ کے شعبے ترقی کے کئی منازل طے کر چکے ہیں لیکن یہ خطے آج بھی ایک تجربہ گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں اس خطے میں آذادی کے 66سال بعد بھی بین الاقوامی معیار کا میڈیکل سنٹر قائم نہیں ہوسکا ۔آج کے دور میں بھی جب دنیا نے چاند پر قدم رکھا لیکن اگر گلگت بلتستان میں اب تک دانتوں کی سرجری گردے کا آپریشن اور دل کی تکلیف جیسے موذی اور تکلیف دہ بیماریوں کیلئے مقامی طور پر علاج ممکن نہیں ۔ حالانکہ گلگت بلتستان کے نامی گرامی سرکاری ہسپتالوں میں بڑے بڑے سرجن موجود ہیں  جو صرف سکیل کے حساب سے بڑی تنخواہ لینے کا ہی کام کرتے ہیں۔خطے کی تمام سرکاری ہسپتالوں میں دیکھنے کو تمام شعبہ جات کے بورڈ بھی لگے ہوئے ملتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام شعبہ جات ہاتھی کے دانت کے مصداق ہے ان شعبہ جات سے عوام آج تک مستفید نہیں ہو سکے کیونکہیہاں وسائل کا فقدان ہے۔آنکھوں کے حوالے سے اگر بات کریں تو بھی یہی مسلہ ہے شعبہ تو موجود ہے لیکن نہ کوئی سپیشل سرجن نہ بیماری کی تشخیص کیلئے کوئی لیبارٹری قائم ہے۔اسی طرح اگر کبھی کسی ناگہانی حادثے کا سامنا کرنا پڑا تو گلگت بلتستان میں اب تک ایک آئرایمبولینس بھی موجود نہیں جو کسی بھی ناگہانی صورت حال میں امداد ی کام آسکے اسی طرح ایمبولینس کی بات کریں تو یہ سہولت بھی صرف شہری علاقوں تک محدود ہے مگر گلگت بلتستان کی آبادی کا تقریبا 70فیصدحصہبالائی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں کے عوام آج بھی حفضان صحت کے بنیادی اصولوں سے ناآشنا ہے۔ اگر فرض کریں سکردو سٹی سے صرف 60کیلومیٹر پر بھی کوئی ایسا حادثہ پیش آئے تو اکثر اوقات دیکھنے کو ملا ہے کہ ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں.

راقم اگر صرف اپنے آبائی گاوں غاسنگ منٹھوکھا کی بات کریں تو گزشتہ سالوں میں کئی افراد حادثات اور قدرتی آفات کے بعد صرف طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں مگر ہمارے نام نہاد لیڈران  ٹس سے مس تک بھی نہیں ہوتے اسی علاقے میں اس وقت ایک سول ڈسپنسری اور ایک نجی دواخانہ موجود ہے لیکن سرکاری ڈسپنسری کوئی کارساز نہیں بلکہ ایک مقامی بیٹھک کا کام سرانجام دے رہے ہیں بلکل یہی صورت حال گلگت بلتستان کے ہر گاوں دیہات کا ہے جہاں پر قائم سرکاری ڈسپنسریاں کبھی بیٹھک تو کبھی گیسٹ ہاوس کام سرانجام دیتے ہیں۔ اسطرح کے مسائل کے سبب گلگت بلتستان کے دیہاتی آبادی کے لوگوں کو معمولی بخار کیلئے بھی ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے مگر وہاں بھی کوئی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت گلگت بلتستان کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر صاحبان ذاتی شفاخانے کھول بیٹھے ہیںیوں مریض کو سرکاری خرچے پر تشخیص کرنے کے بجاے ذاتی دواخانوں کیلئے ریفر کرتے ہیں جہاں دور دراز سے آئے ہوئے غریب مریضوں کا علاج کے نام پر کھال اُتار دیا جاتا ہے لیکن مرض کی تشخیص پھر بھی نہیں کرپاتے کیونکہ وہاں بھی وسائل دستیاب نہیں ہوتے۔ لیکن یہاں پر ان تمام مسائل کیلئے ہم صرف ہسپتال کے عملے کو ذمہ دار نہیں ٹھر انا یقیناً ناانصافی ہو گی کیونکہ یہاں پر کو تاہی حکومت کی طرف سے ہے ریجن کے تمام سرکاری ہسپتالوں کیلئے عصر حاضر کی ضرورت کے مطابق میڈیکل ایکوپمنٹ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمی سے اس طرف نہ محکمہ صحت کی توجہ جاری ہے نہ مقامی نام نہاد سیاست دانوں کی کیونکہ درحقیقت اُنہیں عوام کے مسائل اور صحت سے کوئی سروکار نہیں انہیں جب کوئی مرض لاحق ہوتی ہے تو گلگت بلتستان سے لوٹی ہوئی دولت کو خرچہ کرکے اسلام آباد کے اچھے ہسپتالوں میں علاج کراتے ہیں۔

سرکاری اعداد شمار کے مطابق حکومت ہر سال صحت کے سیکٹر کی بہتری کیلئے مخصوص بجٹ بھی رکھتے ہیں لیکن وہ بجٹ کہاں لگتی ہے کس کے جیب میں جا کر گرتا ہے عوام سمجھنے سے قاصر ہے اسی لئے یہاں کے لوگ اپنے خطے میں سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث اسلام آباد راولپنڈی لاہور اور کراچی جاکر علاج کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو کہ گلگت بلتستان کی محکمہ صحت کیلئے ایک لمحہ فکر ہے۔ کیونکہ ایک عام آدمی کا یہاں سے علاج کی غرض سے جانا اور علاج کے اخراجات برداشت کرنا یقیناًایک کمر توڑ مسلہ ہے لہذا ان تمام مسائل کے پیش نظر ضروری ہے کہ ہیلتھ کے سیکٹر کی بہتری کیلئے ذیادہ سے ذیادہ کام کریں اور ڈاکٹر حضرات اگر مطالبات ذات کیلئے کرنے کے بجائے محکمے کی صورت حال کوبہتر کرنے کیلئے کریں تو یقیناًسارے پیکج بھی مل جائے گا ساتھ میں ایک صحت معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے میں صحت کا بہت اہم رول ہوتا ہے اور جب تک معاشرے کے لوگ صحت مند نہ ہونگے اور جب تک انہیں اس حوالے سے بنیادی تعلیم نہیں دی جاتی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا لہذا اس ریجن کی پرنٹ میڈیا کو بھی چاہئے کہ وفاق پاکستان کا اس مسلے کی طرف توجہ دلانے کیلئے کوئی پیش رفت کریں کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام ان نام نہاد لیڈران کی جھوٹے وعدوں سے دلبرداشتہ ہوچکے ہیں انکا کام ہر پانچ سال بعد ووٹ کیلئے آنا اور کامیابی پر چند رفقاء کو غیرقانونی نوکریوں پر بھرتی کرانا اور مقامی مداریوں کے ذریعے سرکاری فنڈز کو عوام کے نام پر ہڑپ کرنے کے سوا عوامی فلاح سے کوئی سروکار نہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔