عوامی ایکشن کمیٹی اور مساجد بورڈ کا مشترکہ اجلاس، پندرہ اپریل سے قبل مسائل حل کرنے پر اتفاق

عوامی ایکشن کمیٹی اور مساجد بورڈ کا مشترکہ اجلاس، پندرہ اپریل سے قبل مسائل حل کرنے پر اتفاق

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

action

گلگت ( سپیشل رپورٹر) عوامی ایکشن کمیٹی نے وہ کام کر دکھا یا جو تاریخ گلگت بلتستان کمے کسی نے نہیں کیا ۔آج پوری قوم متحد ہو چکی ہے ۔عوام ایکشن کمیٹی کا چارٹر ڈ آف ڈیمانڈ جائز ہے ۔اور یہ عوام کے بنیادی مسائل ہے ان کا فوری حل ہونا چا ہیے اور ان مسائیل کے حل کے لیے دن رات کوشش کرئنگے ۔ان خیا لات کا اظہار ممبر مساجد بورڈ راجہ نثار ولی ،،عبدالواھد ،حاجی عابد علی ،مولانا سعود وزیر مظفر عباس ،سابق ڈے ایس پی شمشاد ڈی جی حسن ،حسین علی رانا نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ایگزیکٹیو باڈی کے اراکین سے باضابطہ پہلی میٹنگ کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ۔انہوں نے کہا کہ ایک تاریخی دن ہے وہ قوتیں ایک ٹیبل پر بیٹھی ہوئی ہے۔جن کو ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ کبھی ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے ہیں ہمارا ادھورا خواب آج پورا ہے ۔اور یقیناًیہ ایک خوش آئند بات ہے۔عوامی ایکشن کمیٹی نے جو مسائل اٹھا ئے ہیں وہ گلگت بلتستان کے عوامی مسائل ہے۔یقیناًیہ مسائل حل ہونے چاہیے اوران مسائل کو حل کرنے کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرینگے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے کنوینر احسان ایڈوکیٹ ایگزیکٹیو باڈی کے ممبر محمدنواز و شیخ شہادت حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مساجد بورڈ کے اراکین اس گلگت بلتستان کے ہیں اور یہ کوئی غیر آئین ہیں کہ ہمارے دروازے مزاکرات کے لیے کھلے ہوئے ہیں اور ان مزاکرت میں اگر مساجد بورڈ پل کا کردار ادا کررہے ہیں تو کوش آئند عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ فروری کے پہلے ہفتے سے گلگت بلتستان کے عوام روڈ وں پر ہیں مگر حکمران ٹس سے مس نہیں ہے۔عوام نے 10 مارچ کو ریفرنڈم کے ذریعے ثابت کردیا ہے۔کہ عوام کو سبسڈی بجلی اور ہسپتالوں میں ٹیکسز کے حوالے سے ایک زبان ہو چکے ہیں اب وت آیا ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کا مساجد بور دڈ کے اراکین اس حوالے سے اپنا رکردار ادا کر رہے ہیں تو وہ قا بل تعریف ہے۔حکمرانوں کے پاس 15 اپریل تک کا ٹائم ہے وہ ان مسائل کو حل کرائے اور چارٹر ڈ آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کرائے تاکہ عام سکھ کا سانس لے سکے ۔میٹنگ مین یہ طے ہوا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور مساجد بورڈ پر مشتمل کمیٹی بنائی جائیگی جو ان مسائل کے حل کے یے پل کا کردار ادا کریگا ۔عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے احسان علی ایڈوکیٹ ،محمد نواز ،شیخ شہادت حسین ،سابق ڈی سی حسن کریم خان،صفدر علی ،غلام عباس ،نظام الدین ،فدا حسین ،رحمت علی ،مولانا سلطان رےئس و کواڈینٹر وجاہت علی نے نمائندگی کی ۔متفقہ طور پر فیصلہ ہوا کہ 15 اپریل سے پلے مزاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرایا جائیے گا۔اور مساجد بورڈ حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان پل کا کرادا ادا کرینگے ۔

عمائدین کشروٹ کا 15 اپریل کے دھرنے میں شرکت کا اعلان 

10 مارچ کی طرح 15 اپریل کے دھرنوں میں کشروٹ کا بچہ بچہ شامل ہو گا۔اس وقت عوام 22 گھنٹے کے لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہے ۔اور عوام سبسڈی پانی و ہسپتالوں میں بھتوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں ۔جانی و مالی ہر طرح سے عوامی ایکشن کمیٹی کے ہر حکم پر لبیک کہتے ہیں آج امن و اتحاد و اتفاق کے لیے ایکشن کمیٹی نے جو کارنامہ سر انجام دیا ہے وہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ااتحاد و اتفاق کے ذریعے تمام مسئلے حل کراسکتے ہیں۔

ان خیا لات کا اظہار آج عمائدین کشروٹ ،ہونی کوٹ ،یاد گار ،محلہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کو دی گئی دعوت کے موقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ رابطہ کمیٹی کشروٹ کے ممبران قاری عطاء الحق ،محمد فاروق ،حاجی مشروف ،میر بہادر و دیگر کے علاوہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کنوینر احسان علی ایڈوکیٹ ،محمد نواز ،شیخ شہادت حسین ،غلام عباس ،سابق ڈی سی ،حسن و کوار ڈینٹر وجاہت علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آج تک لڑاو اور حکومت کرو کے پالیسی کے تحت دور رکھا گیا اور ہمارے حقوق نشے میں حکمرانوں نے غصب کیے اب عوامی ایکشن کمیٹی 20لاکھ عوام کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔جس طرح عوام نے 10 مارچ کو ثابت کیا ہے کہ وہ مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔15 اپریل کو اس وقت تک اپنے اہل وعیال کے ساتھ دھرنا دینگے جب تک مسائل حل نہیں ہوتے ہیں اس موقع پر رابطہ کشروٹ ،سونی کوٹ ،یادگار محلہ ،نے بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔