مذاکرات کے باوجود ایکشن کمیٹی کا دھرنا بلا جواز ہے: وزراء اور اراکین کونسل کا مشترکہ پریس کانفرنس

مذاکرات کے باوجود ایکشن کمیٹی کا دھرنا بلا جواز ہے: وزراء اور اراکین کونسل کا مشترکہ پریس کانفرنس

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

unnamed

گلگت (پ ر) صوبائی وزرا ، اراکین اسمبلی اور ممبر گلگت بلتستان کونسل نے ایک مشترکہ میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کامیاب مزاکرات کے باوجود ایکشن کمیٹی کا دھرنا بلا جواز اور حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی ایک گہری سازش ہے۔ عوام کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گلگت بلتستان کی عوام پر پیپلز پارٹی کے احسانات ہیں اور ہم عوام کا مینڈیٹ لے کر آتے ہیں اور ہم سے زیادہ عوامی مسائل کا احساس کسی اور فرد کو نہیں ہو سکتا۔ اسمبلی اور مختلف فورمز پر ہم ہی ان کے نمائندے ہیں اور وہی پلیٹ فارم مسائل کے حل کے لیئے استعمال کیا جانا چاہیئے۔ سڑکوں پر احتجاج کرنے کا واحد مقصد حالات کو بگاڑنے کے لیئے کوششیں کرنا ہے۔ ایکشن کمیٹی کے مطالبات مانتے ہوئے اسپتالوں میں فیسوں کی وصولی کو ختم کردیا گیا ہے۔ باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ وفاق سے خصوصی طور پر بات کرنے کے لیئے اسلام آباد گئے ہیں جہاں وہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان برجیس طاہر سے ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر پانی و برقیات کے وزیر دیدار علی ، وزیر ایکسائزا ینڈ ٹیکسیشن محمد نصیرخان ، وزیر زراعت و لائیو سٹاک شیخ نثار سرباز ، وزیر پلاننگ و ڈیولپمنٹ راجہ اعظم خان ، وزیر اطلاعات و مشیر ثقافت سعدیہ دانش ، مشیر جنگلات و جنگلی حیات آفتاب حیدر ایڈوکیٹ، رکن جی بی کونسل امجد ایڈوکیٹ، ممبران اسمبلی ایوب شاہ، رحمت خالق و دیگر عوامی نمائندے موجود تھے۔

صوبائی وزراء کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں تمام پارٹیوں کی نمائندگی موجود ہے اور بہتر تعلقات کے ساتھ عوامی مسائل کے حل کے لیئے ٹھوس اقدامات کیئے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی عوامی مسائل اور خطے کی تعمیر و ترقی کے لیئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی خصوصی ہدایت پر صوبائی وزراء ، مشیران اور اراکین اسمبلی مل بیٹھے ہیں اور معاملات کے دیرپا حل کے لیئے اقدامات کیئے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کے پاس جو بھی اختیارات ہیں ان کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے ثمرات عوام کو ملتے رہے ہیں۔ وفاقی اختیارات کے حوالے سے ہم مشاورت کے بعد سفارشات بھیج دی جائنگی۔ ایکشن کمیٹی کے 13 رکنی وفد سے کامیاب مزاکرات ہوئے ، جوتین نکات لے کر آئے تھے جن میں اسپتالوں میں فیس معافی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے بات ہو چکی ہے جس کے بعد فیسوں کو فورا ختم کر دیا گیا ہے جبکہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مسئلے کے حل کے لیئے فوری اقدامات کرے۔ جبکہ گندم پر سبسڈی وفاق کا سبجیکٹ ہے اور اس پر ان سے بات کریں گے۔ پر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور اس سے کسی کو بھی نہیں روکا جائے گا۔ میڈیا کو بھی چاہئے کہ وہ عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے رہیں۔

اس وقت گلگت بلتستان میں گندم فی کلو 14روپے میں ملتی ہے جو صوبائی حکومت کو 52روپے میں مل رہی ہے۔ اور اس پر 36روپے سبسڈی دی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ سیاسی مقاصد کے لیئے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ جھوٹ بول کر عوام کو بے وقوف بنانے کی بجائے عوامی ہمدردی کا مظاہرہ کیا جائے۔ یہ لوگ علاقے کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور نہ ہی ان کو عوام سے کوئی ہمدردی ہے۔ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیا ر میں میں جو کچھ بھی تھا ان مطالبات کی منظوری دی جا چکی ہے اسکے باوجود دھرنے اور احتجاج کرنا بے معنی ہے۔ اگر خدا نخواستہ کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی تمام تر زمہ داری عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد ہوگی۔ دھرنے اور احتجاج کے نام پر سڑکوں پر عوام کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومت ایک جمہوری حکومت ہے اور یہاں کی عوام کی آواز کو سننا ہماری اولین زمہ داری ہے۔ صوبائی وزراء کا مزید کہنا تھا کہ یہاں عوام پر کبھی بھی لاٹھی نہیں چلے گی ہمیں علاقہ اور یہاں کی عوام عزیز ہے اور مفاد عامہ کے لیئے ہر ممکن مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ہم نے کسی کے دباوء میں آئے بغیر گندم سمیت تمام دیگر مسائل کو اسمبلی اور دیگر تمام مناسب فورمز پر اجاگر کیا ہے۔ دھرنے میں موجود لوگ اس دھرتی کے سپوت ہیں اور انہیں کبھی بھی سازشوں کا شکار نہیں ہونا چاہیئے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزراء نے کہا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی قیادت میں تمام کابینہ اور ممبران عوامی مسائل کو ادراک رکھتے ہیں۔ اور ہم آپس میں متحد ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جتنے بھی مراعات عوام کو دیئے ہیں وہ کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔