عوامی ایکشن کمیٹی اور’’خفیہ ہاتھ‘‘

عوامی ایکشن کمیٹی اور’’خفیہ ہاتھ‘‘

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

قا رئین اتنے اہم ایشو پر ابھی تک نہ لکھنے پر معذرت!اصل میں ہر انسان اپنی عزت نفس کا بڑا خیال رکھتا ہے۔ میں بھی اب تلک صرف اس لیے خاموش رہا کہ ایکشن کمیٹی اور دھرنا گروپوں کے خلاف لکھنا ممکن نہیں تھا اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت پر لکھ کر خواہ مخواہ ’’خفیہ ہاتھ‘‘ کا الزام اپنے سر لینے کی ہمت نہیں تھی۔ میں سلام پیش کرتا ہوں اس گندم کے دانے کو جس نے امام غائب و امام حاضر کے ماننے والے اور نہ ماننے والوں کو ایک چٹائی پر بٹھایا دیا۔ہماری بھی عجب حالت ہے کہ نہ ہم اللہ کے نام پر ایک ہو سکے نہ کلام اللہ پر ، اور نہ محمدعربی جیسی عظیم شخصیت پر۔ مگر گندم اے گندم……..ہاں یاد آیا اسی گندم کی وجہ سے تو دنیائے انسانیت کی آفرینش شروع ہوئی تھی۔ باوا آدم گندم کا دانہ نہ کھاتے تو کیا اولاد آدم آج اتنی تعداد میں اس معمورِ بے آباد میں آبادہوتے؟

قارئین ! یہ کون نہیں جانتا کہ اشیائے خوردو نوش میں سبسڈی (یعنی فوجی تعاون کے بدلے امداد) گلگت بلتستان کے عوام کا آئینی حق ہے۔ یہ حق عالمی قانون بھی دیتا ہے۔ یاد رہے کہ 13اگست 1948 ء کو اقوام متحدہ نے تاتصفیہ قضیہ کشمیر، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور جموں کشمیر کی اس حق کو تسلیم کیا تھا۔ جب تمام اقوام کا یہ فورم ایک حق کو تسلیم کرے اور پھر اپنے اس حق کو چھین لیں تو پھر اس دکھ کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو مبتلا ہوجاتا ہے۔گزشتہ چند دنوں سے پورا گلگت بلتستان حالت احتجاج میں ہے مگر کسی کچھ اثر ہوتا نہیں۔

haqqani-logo-and-pictureاس راز سے ہم سب واقف ہیں کہ گلگت بلتستان کا علاقہ ایک کالونی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہوں نے اپنے نوآبادیات میں ہمیشہ گڈ گورننس سے عوام کا دل جیتا ہے۔ گلگتی عوام بھی پاکستانیوں سے صرف یہی چاہتے ہیں کہ گڈگورننس سے ہمارا دل جیتو، باقی کل بھی آپ آقا تھے آج بھی آپ آقا ہیں۔ مگر یہ آقا بھی ظالم قسم کے ہیں کہ خون بھی چوستے ہیں اور آزاد بھی نہیں چھوڑتے۔ یہاں تک خفیہ ہاتھ کی بات ہے تو اس راز سے ہم سب واقف ہیں کہ جب بھی کسی نے حقوق کی بات کی ہے اس پر خفیہ ہاتھ کا الزام لگتا رہا ہے۔ بلوچوں پر خفیہ ہاتھ کا الزام اور پھر ان کی حق میں لکھنے والوں کو بھی سی آئی اے اور را کا ایجنٹ کہا جاتا ہے جیسے جنگ گروپ و حامد میر، طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرنے والے بھی خفیہ ایجنسیوں کے گماشتے کہلاتے ہیں اور پھر طالبان پر تو پوری قوم بالخصوص مغربی برانڈڈ صحافیوں، دانشوروں اور اینکر پرسنوں اور پرسنیوں کا اجماع ہے کہ وہ ہر حال میں ملک و ملت کے دشمن ہیں، بیرونی ایجنٹ ہیں بلکہ باقاعدہ تنخواہ خوار ہیں۔ اب اگر یہ الزام عوامی ایکشن کمیٹی والوں پر لگے تو شاید ان کو دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ ہی ان لوگوں کو جو ان کی خاموش حمایت کرتے ہیں۔بڑے مقاصد کے حصول کے لیے کچھ برداشت بھی کیا جانا چاہیے۔ کیا ہم سب نہیں جانتے کہ گلگت بلتستان میں قتل و غارت کا بازار گرم کرنے والے لوگ کون ہیں اور بڑے بڑے حادثات کرواکر ہاتھوں سے دستانے اتار کر ہمارے درمیان کون لوگ موجود ہیں بلکہ ہمارے مصلح بھی ہیں۔خون مسلم سے ہاتھ رنگین کرنے والے یہ لوگ ایک مکمل آمرانہ سوچ رکھتے ہیں، ان کے اذہان کاملہ کے الٹ یا برعکس سوچنے والے یہودیوں ، عیسائیوں اور موساد و را اور سی آئی اے کے ایجنٹ کہلاتے ہیں، اور ان کا کمال دیکھیں کہ یہ لوگ اپنے پالتو جانوروں کو کھڑا کردیتے ہیں کہ عوامی مفاد اور قومی دائرے کی بات کرنے والوں کو لتاڑنے کے لیے، اور علی الاعلان کہا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ خفیہ ہاتھوں کی کارستانی ہے۔ حضور والا، آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کن ہاتھوں کی کارستانی ہے۔ آپ بھی تو کسی کے اشارے پر اس طرح کی راگ الاپتے ہیں۔ آپ بھی تو وہی ہے کہ دن میں کئی بار اپنے آقاؤں کے در پر حاضری دیتے ہیں۔اور اسی حاضری میں بعض دفعہ آپ کی سخت سرزنش بھی ہوتی ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر ایک سیکنڈ ہی سوچ لیں، کیا میں سچ نہیں کہہ رہا۔

یہ راز بھی اب راز نہیں رہا کہ گلگت بلتستان دھرتی عالم میں واحد خطہء ہے جس کی کوئی مسلمہ سیاسی و آئینی حیثیت نہیں۔اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلا یہ خوبصورت علاقہ دنیا کا وہ خطہ ہے جو آج تک پاکستان اور انڈیا کے مابین متنازعہ ہے اور نزع کے عالم میں ہے۔بالاور دیس کا یہ حسین خطہ ہے جو قانونی طور پر پاکستان میں داخل بھی ہے اور باہر بھی یعنی نہ داخل ہے نہ شامل،جی بی دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں ہر قسم کا پانی وافر مقدار میں ہے مگر اس کے باوجود یہاں کی عوام پانی اور بجلی سے محروم بھی۔کیا اب بھی یہ راز ہے کہ گلگت بلتستان کے ان کالے پہاڑوں ، بہتی ندیوں، آبشاروں، دریاؤں ،گھنے جنگلوں ،خوبصورت جھیلوں اور رس بھرے پھلوں میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ پیرس اور دیگر مغربی ممالک ان کی گرد تک نہیں پہنچ سکتے۔ مگر اے کاش اس میں وہ خوبصورت ماحول کب وجود میں آئیگا ۔طول دینے کے بجائے آج کی محفل میں آپ سے رخصت ہونا چاہتا ہوں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments