سنبھلنا آئینہ خانوں ، کہ ہم پتھر اٹھاتے ہیں

سنبھلنا آئینہ خانوں ، کہ ہم پتھر اٹھاتے ہیں

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ٓ انہیں فرقہ پرستی مت سکھا دینا کہ یہ بچے
زمیں سے چوم کر تتلی کے ٹوٹے پر اٹھاتے ہیں
برے چہروں کی جانب دیکھنے کی حد بھی ہوتی ہے
سنبھلنا آئینہ خانوں ، کہ ہم پتھر اٹھاتے ہیں

1971ء کی عوامی تحریک جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان کے عوام نے بلاتعصب عدیم المثال قومی ہم آہنگی کا مظا ہرہ کرتے ہوئے گلگت جیل توڑ کر خطے کی محرومیوں اوربنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی کے خلاف جدوجہد کر نیوالے رہنماؤں کو آزاد کر وایا تھا،اب خطے میں پھر وہی درخشاں تاریخ دہرائی جارہی ہے۔گلگت بلتستان کے دوبڑے شہروں گلگت اور سکردو میں اس وقت تمام اضلاع سے عوام کا جم غفیر 15اپریل سے 9 نکاتی مطالبات کے حق میں پر امن دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دھرنے میں جہاں خطے کے محروم و مقہور عوام نے نہ صرف فرقہ ورانہ ،لسانی اور علاقائی عصبیت کے بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک پر لبیک کہہ کر بے سروسامانی کی حالت میں گھڑی باغ گلگت اور یادگار شہداء سکردو میں پر امن دھرنا دیکر ان طاقتوں کے اندازوں کو غلط ثابت کیا ہے جن کا ایقان تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کبھی مشترکہ پلیٹ فارم پر یکتا ہو کر اپنے حقوق کیلئے جدوجہد نہیں کر سکتے بلکہ عوام نے مسلح جدوجہد کی بجائے جمہوری طریقے سے حقوق کی بازیابی کا طریقہ اختیار کیا ان طاقتوں کے عزائم کو بھی ناکام بنایا ہے جو ایک بار پھر خطے میں امن وامان کی بحالی کے نام پر کرفیو نافذ کر کے خطے کو عدم استحکام کی جانب دھکیلنا چاہتے تھے۔ ۔گلگت بلتستان کے عوام کی متفقہ جدوجہد سے جہاں خطے کے عوام کی قومی یگانگت کو ایک نئی زندگی ملی ہے وہاں حکمران طبقے کی امیدوں پر اوس بھی پڑ گئی ہے جو برسوں سے لڑاؤ اور حکو مت کرو کی پالیسی اپناتے ہو ئے نہ صرف عوام کو باہم دست و گریباں کئے ہو ئے تھے بلکہ گلگت بلتستان کو چراگا ہ سمجھ کر مال مفت سے اپنی شکم گاہیں سیراب کر نے میں مصروف تھے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکمران گلگت بلتستان میں حقوق کی بازیابی کیلئے موجودہ تحریک کو محض گندم سبسڈی کی بحالی کی تحریک ثابت کرکے رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں حالانکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے گندم سبسڈی کے علاوہ دیگر نو نکاتی ایجنڈے پر قوم کو اعتماد میں لیا ہے جس میں دیامر بھاشا ڈیم کمیٹی کے مطالبات کی منظوری، ہسپتالوں میں جبری ٹیکس کے خاتمے،گلگت بلتستان میں میرٹ کی بالادستی،سرحدی تنازعات کا خاتمہ ، غیر قانونی ٹیکسز کی بندش اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام پچھلے دو ہفتوں سے دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن قومی میڈیا نے ان کی ترجمانی سے انکار کر کے در اصل اس امر کو تقویت بخشی ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں سمیت دیگر ادراے بھی اس خطے کو پسماندگی اور محرومیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلنے میں برابر کے شریک ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام نے پر امن جمہوری جدوجہد کا راستہ اپنایا ہے لیکن اب یہ حکمرانوں پر مصر ہے کہ وہ کون سی زبان سمجھتے ہیں۔

shamsوفاقی حکمرانوں کے علاوہ انکے طفیلی مقامی حکمران بھی اس نئی صورتحال پر چہ بہ جیں ہیں اور عوام کو احسان فراموشی کا درس دے رہے ہیں حالانکہ گلگت بلتستان کے عوام نے کبھی بھی کشمیریوں کے برعکس اپنی متنازعہ حیثیت کو کیش کرنے کی کو شش نہیں کی اور یہاں کے جفاکش نوجوانوں نے نہ صرف کارگل اور سیاچن کے برف پوش محاذوں میں پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے عزم و بہادری کی ناقابل فراموش داستانیں رقم کیں بلکہ سوات اور وزیرستان جیسے شورش زدہ علاقوں میں امن کی بحالی کیلئے کارہائے نمایاں سر انجام دےئے۔ جب کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف پختون، سندھی اور بلوچ سینہ تان کر اس منصوبے کی تکمیل کی صورت میں پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی ختم کر نے کی دھمکیاں دے رہے تو گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان کی سسکتی ہوئی معشیت کو نموفراہم کر نے کیلئے بھاشا دیامر ڈیم، بونجی ڈیم اور سد پارہ ڈیم جیسے منصوبوں کیلئے حامی بھری،حالانکہ ان منصوبوں کی تکمیل کی صورت میں خطے میں ماحولیاتی تغیرات کے خطرات کی ماہرین ارضیات برسوں قبل نشاندہی کر چکے ہیں۔آج جب بلوچستان ،سندھ اور فاٹا،جو کہ پاکستان کے آئینی دائرہ کار میں آتے ہیں،وفاق کے خلاف بر سر پیکار ہیں تو گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرناگوارا نہیں کیا،حالانکہ اگر سالوں سے محروم عوام اپنے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کیلئے یک زباں ہو کر میداں عمل میں اترتے تو خطے کی دفاعی اور جغرافیائی حسساسیت اور متنازعہ حیثیت کی وجہ دنیا بھر سے پذیرائی ملتی اور بھارت کو بھی اس خطے پر اپنے دعوے کو حقیقت میں بدلنے کی شہ ملتی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس بھارتی قوم پرست جماعت بی جے پی کے صدر راجناتھ سنگھ نے نیو یارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر حکومت پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بھارت کے چین اور وسطی ایشیا سمیت افغانستان کے ساتھ زمینی رابطہ قائم کر نے کیلئے گلگت بلتستان پر قبضے کو ناگزیر قرار دیا تھا۔

گلگت بلتستان کے عوام کو احسان فراموشی کا درس دینے والے کیا اس امر کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ دریائے سندھ کی رائیلٹی ،سوست بارڈر پر سالانہ اربو ں روپے کا ٹیکس،گلگت بلتستان سیجنگلات کی بے دریغ کٹائی اور لکڑی کی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سستے داموں ترسیل سے حاصل ہونیوالی رقم،معدنی وسائل غیر ملکی کمپنیوں کو کوڑیوں کے مول کمیشن لیکر لیز پر دینے اور سیاحت سے کروڑوں کی آمدنی آخر کس کے اکاؤنٹ میں جاتی ہے؟ اگر گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کی معشیت پر بوجھ ہیں تو اس بوجھ کو ڈھا کیوں نہیں دیتے؟ اگر حکمرانوں کو گلگت بلتستان کی زمیں عزیز اور عوام قابل نفرین ہیں تو وہ سن لیں کہ گلگت بلتستان کے عوام صدیوں سے اپنی وحدت کا تحفظ کرتے ہوئے آئے ہیں۔ان کی شرافت کو بزدلی پر محمول نہیں کیا جائے اور اس سے قبل کہ یہاں بلوچستان سے بدتر صورتحال پیدا ہو جائے، حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے عوام کے دکھوں کا درماں کریں،ورنہ وہ ظلم کی حکومت سے کفر کی حکومت کو ترجیح دینگے۔

گلگت بلتستان کونسل کے ایک رکن نے عوامی ایکشن کمیٹی کی برپا کردہ تحریک پر رد عمل کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ اگر عوام گندم سبسڈی کی بجائے آئینی حقوق کیلئے جدوجہد کر تے تو اب تک حقوق مل چکے ہوتے،کیا وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر ان کے اصل مسائل سے توجہ ہٹایا جائے،ان نام نہاد عوامی نمائندوں کو بھی اس حقیقت کا علم ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی حکومت پاکستان کے پاس گلگت بلتستان کو آئینی دائرہ کار میں لانے کا مینڈیٹ حاصل ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام اب اپنی متنازعہ حیثیت کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرینگے کیونکہ بلوچستان اور فاٹا کی بھی قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی ہے لیکن آئینی حقوق کی موجودگی کے باوجود ان علاقوں کے عوام حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ وہاں کے عوام کی تقدیر بھی اشرافیہ کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے اور وہ اس ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان کے نام نہاد منتخب نمائندے جن کا انتخاب بذات خود ایک سوالیہ نشان لئے ہوئے ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں خواندگی کی شرح تقریباً 80 فیصد ہے لیکن منتخب نمائندوں کی اکثریت ناخواندہ اور سیاسی شعور سے نابلد اور قومی مفاد کی بجائے وفاق کی جی حضوری کرنیوالے عناصر پر مشتمل ہے جو ان حکمرانوں کی شہ ہر اپنے گھر پر ڈاکہ ڈالنے سے بھی باز نہیں آئینگے۔اگر غیر جانبدار الیکشن کمیشن کی موجودگی میں انتخابات کا انعقاد کیا جائے تو ان قوم فروش عناصر کی ضمانت ضبط ہو جائے لیکن اسلا�آباد کی آشیر باد سے پروٹوکول کے مزے لوٹنے والے نام نہاد عوامی نمائندے گلگت بلتستان کا مقدمہ لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے بلکہ وقت پڑنے پر وہ عوام کو گروی رکھ کر اپنے سطحی مفادات کی تکمیل کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینگے۔اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کہ عوام نام نہاد آئینی حقوق کا مطالبہ کر کے ان کے عہدوں اور مراعات میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔اگر ان نام نہاد نمائندوں نے قوم فروشی کا سودا ترک نہ کیا اورعوام کو لعنت ملامت کرنے کاسلسلہ جاری رکھا تو جلد ہی عوام موجودہ نام نہاد نظام کو سرے سے اکھاڑنے کیلئے کمر بستہ ہو جائینگے اور تب انہیں اپنی اصل حیثیت کا اندازہ ہو جائیگا۔گلگت بلتستان کے اصل نمائندے عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ ارکان ہیں جو خطے میں امن کی بہار کے امکاں کے محرک بنے ہیں اور ان چاک گریباں رہنماؤں کو عوام کا اعتماد بھی حاصل ہے اور وہ انکی تحریک پر خطے میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں لیکن پاکستان میں داخلی شورش کا فائدہ اٹھانے کی بجائے پر امن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔

وفاقی حکمرانوں کی جانب سے ان دنوں پاک چین اقتصادی راہداری،بھاشا دیامر ڈیم کی تعمیر اورصنعتی مراکز کی تعمیرسے عوام کی تقدیریں بدلنے کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن جو حکمران گندم کی قیمت14 روپے 11روپے پر لانے کیلئے تیار نہیں،ان پر اعتماد کیونکر کیا جا سکتا ہے؟ اگر 1998سے 2012تک گندم کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا تو اب ایسی کیا آفت پڑی تھی کہ بتدریج گندم سبسڈی کا خاتمہ کر کے عوام کوحاصل واحد سہولیت کا بھی خاتمہ عمل میں لایا جائے۔وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان کے نام نہاد عوامی نمائندے آج عوام کو یہ باور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پنجاب میں گندم کی قیمت گلگت بلتستان سے کہیں زیادہ ہے لیکن کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ پنجاب میں عوام کو دیگر اشیائے خوردنوش اور زرعی اجناس گلگت بلتستان سے کہیں سستے داموں فراہم کی جاتی ہیں۔پنجاب میں موٹر وے کے بعد اب میٹرو ٹرین چلانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن گلگت بلتستان کے عوام کو کانوائے کے نام پر شاہراہ قراقرم میں ذلیل کیا جاتا ہے ۔

وفاقی حکمرانوں کو اب نوشتہ دیوار پڑھنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کی نئی نسل باشعور ہے اور اپنے خطے کی جغرافیائی اور دفاعی حیثیت سے آگاہ بھی، لہذا اب انہیں پیکیجز کے لالی پاپ تھما کر مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔

اور نہ ہی دھن، دھونس،دھاندلی سے انہیں رام کیا جا سکتا ہے۔گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان کے ساتھ وفاداری کی بھاری قیمت چکائی ہے اور اب حکمرانوں کو یہ امر ذہن نشین کرنا ہوگا کہ ان کا احتجاج محض چائے کی پیالی میں طوفان نہیں بلکہ اس کے پیچھے 67سالوں کی محروموں کی ان کہی داستان ہے اور عوام میں عدم تحفظ،بے چینی اور نا انصافی کا لاوا ابلنے کو تیار ہے اور جب ہمالیہ،قراقرم اور ہندوکش کا آتش فشاں پھٹ پڑے گا تو اپنے ساتھ جبر و استبداد اور نا انصافیوں کے خس و خاشاک کو بہا کر بحیرہ عرب کے گہرے پانیوں میں اتر جائیگا۔

جسے دشمن سمجھتا ہوں،وہی اپنا نکلتا ہے
ہر اک پتھر سے میرے سر کا کچھ رشتہ نکلتا ہے
ڈرا دھمکا کے تم ہم سے وفا کرنے کو کہتے ہو
کہیں تلوار سے بھی پاؤں کا کانٹا نکلتا ہے؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔