ایک نیا  گلگت بلتستان   

ایک نیا  گلگت بلتستان  

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

HAK آج جب کالم لکھنے بیٹھا ہوں  تو دل میں خوشی کی ایک لہر جاری ہے  اور خوشی کیوں نہ ہو بڑے مدتوں بعد   ایسے بزرگوں بھائیوں اور یار دوستوں سے ملاقاتیں  ہوئیں ہیں جنہیں   ملنے کو آنکھیں ترس گیٗ تھی. وہ اس لیےٗ  نہیں کہ  وہ ہم سے یا ہم ان سے بچھڑے تھے   بلکہ  اس کی وجہ   پاس رہ کر بھی دوری والی بات  تھی.

 میں اس کی تفصیل میں جاکراپنے آپ اور آپ لوگوں کی خوشیوں کو     ماند کرنا نہیں چاہتا جو مجھے اور آپ کو  گندم سبسڈی کی احتجاجی تحریک  اور دھرنوں سے حاصل ہوئی ہے. میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس کالم میں    اس احتجاجی تحریک کی کو تاہیوں کا تذکرہ  کروں  اور نہ ہی نا اہل حکمرانوں    کی   گندم سیاست    کے گھناونے   کرتوت کا ذکر چھیڑو ں  جن کی وجہ سے  بے چارے عوام سڑکوں پر دھرنا دینے پر مجبور ہوے.

میں ان تمام    باتوں کو کسی اور دن اور کالم کے لیے چھوڑتے ہوےٗ   ایک نیا گلگت بلتستان کا تذکرہ کرنا   زیادہ پسند کرونگا.

جی ہاں ایک نیا اور بلکل   نرالا  گلگت بلتستان    کا  جو اچانک ہی ایک   نیےٗ روپ میں  ہمارے اور آپ کے  سامنے  آیا ہے۔۔ اس عوامی تحریک نے اگر  گلگت بلتستان  کی تاریخ نہیں  بدلی ہے تو    سیاسی تاریخ  کو ایک نئے نہج پر ضرور موڑا   ہے   جہاں ہمیں دورسےایک تابناک اور اچھے مستقبل    کی نہ صرف روشنی قریب  ہوتی  نظر آرہی ہیں بلکہ پیار اور چاہت کی خوشبو  بھی مہکتی ہوئی  ہماری ناک سے  ٹکراتی  ہوئی  محسوس ہو رہی ہے  اورہمارا دل بلیوں اچھل رہا ہے۔

گلگت کی حد تک تو راقم  خود ہی ان دھرنوں کا چشم شاہد ہے اور گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کے بارے میں یار دوستوں سےرابطہ اکثر رہا  اسکے علاوہ  سوشل میڈیا اور مقامی اخبارات  کی خبروں نے منادی دی کہ  گلگت بلتستان کے ساتوں   اضلاع  کے  لوگوں نے  استقامت اور صبر  کے ساتھ دھرنوں  میں  رہ کر    صبر و استقلال و استقامت کی مثال قایٗم کرتے ہوےٗ دنیا  پر  یہ  ثابت کر دیا کہ  گلگت بلتستان کے لوگ  دنیا کی مہذب ترین اور تہذیب یافتہ لوگ ہیں  ۔۔ایسے پُر امن احتجاج کی شاید  دنیا میں نظیر ملے جہاں  ایک علاقے کے پچانوے فیصد لوگ  دھرنے میں ہوں اور  ایک پانی کا گلاس بھی نہ ٹوٹے اور  نہ ہی  دھرنے کی جاہ میں  کوئی  خس و  خاشاک  ۔

جی ہاں  گلگت بلتستان  کے  غیور عوام نے یہ ثابت کر دکھا یا ۔۔۔۔گلگت  بلتستا ن جنہیں قدرت نے لازوال حسن سے نوازا ہے وہاں یہاں  کے لوگوں کے اندر بے پناہ    صلاحتیں  بھی دے رکھی ہیں  لیکن پچھلے    دہائیوں میں  اس  حسین جنت کے غیور  اور   محبت رکھنے والوں کے دل ایک دوسرے  کے لیےٗ اتنے میلے کر دیےٗ گیے  کہ  لوگ ایک دوسرے  کے خون کے پیاسے ہوگئے اور یہاں کے حالات دیکھ کر ہر کوئی یہ کہنے لگا کہ یہاں کے لوگوں کے لئے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت  نہیں    بلکہ یہ خود  اپنے دشمن ہیں ۔۔

لیکن ہمیں کوسنے والوں کی بھی آنکھیں  کھلی  کی کھلی رہ  گئیں جب انہوں نے دیکھا کہ  وہ لوگ جو ایک دوسرے کے لیےٗ نفرت د ل میں لئے  ہوےٗ تھے ایک دم سے شیروشکر ہوگئے ہیں  اور جب ایسی فضا اور اچھا ماحول میسٗر ہو جاےتو  یہ لازمی امر ہے کہ  دل فرط جذبات سے  خود بخود جھوم اٹھتا ہے. یقین جانئیں، راقم  کو یہ دھرنے اتنے اچھے اور  پیارے لگے   دل چاہتا ہے کہ  دھرنوں  کے سلسلے وقتاً فوقتاً   ضرور  ہوتے رہنے چاہے ۔۔ ۔۔ دودھ پینے والے مجنون    یہ کہینگے کہ  دیکھو احتجاج کو  یہ آدمی اچھا کہہ رہا ہے  ہاں جی احتجاج اور توڑ پھوڑ  اچھی نہیں پر اگر احتجاج پُر امن ہو اور  پھر   ایسے ا حتجاج سے   جو دوریاں  مٹانے  کا باعث بنے تو ایسا احتجاج  کسے اچھا    نہیں لگے گا ۔۔۔۔اس حوالے سے دیکھا جاےٗ تو گند م سبسیڈی دھرنوں اور احتجاج   کی بات  ہی کچھ اور ہے  ان دھرنوں کی وجہ سے    ہی تو فاصلے قربتوں میں تبدیل ہوےٗ اور ایک  نیےٗ گلگت بلتستان کا  منظرسامنے آیا ہے اس دھرنا احتجاج نے گلگت بلتستان کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا جو کردار ادا کیا ہے اسی نے اس کو تاریخی بنا دیا ہے جس نے گلگت بلتستان کے مسلمانوں کو ایک صف میں کھڑا کر دیا

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گے محمود ایاز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ کویٗ بندہ رہا نہ کویٗ بندہ نواز

ان دھرنوں نے گلگت بلتستان میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے  ۔۔ایسا انقلاب جس کی شایدکویٗ نظیر ملے۔۔۔۔جی ہاں ۔۔تبدیلی کا انقلاب، جی ہاں بھائی چارے کا انقلاب ،جی ہاں اتحاد ویگانگت کا انقلاب، جی ہاں محبت و چاہت کا انقلاب۔۔انقلاب کیا ہوتا ہے یہ انقلاب نہیں ہے تو پھر انقلاب کیسا ہوتا ہے ۔۔۔۔اب یہ  گندم سبسیڈی تحریک اوراحتجاجی دھرنے جزوی کامیابی کے بعد اپنے اختتام کو پہنچے ہیں لیکن اس تحریک نے یہاں کے عوام کے دلوں میں یہ باور کرا دیا ہے کہ مشترکہ جہد و جہد ہی انکی مشکلات کا حل ہے ۔۔ عوام کو سب سے بڑی سبسڈی مل چکی ہے۔۔ اب  وہ اپنی منزل کی صحیح سمت کی طرف گامزن ہیں ۔۔اب لوگوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنا نجات دہندہ سمجھا ہے۔۔۔۔اور  امید  یہی ہے کہ  عوامی ایکشن کمیٹی  گلگت بلتستان نے جس طرح گندم سبسیڈی کے مسلے پر عوام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے اسی طرح وہ  گلگت بلتستان کی نیٗی فضا کو برقرار رکھتتے ہوےٗ  گلگت بلتستان کے آیٗنی حقوق گلگت بلتستان کی شناخت سے متعلق ایک ہی مشترکہ ایجنڈے پر گلگت بلتستان کے عوام کو اعتماد میں لے کر کویٗ حکمت عملی تیار کریگی اور  یہ   قیاس بعید نہیں کہ یہ عوامی ایکشن کمیٹی   گلگت بلتستان ۔۔۔۔۔۔۔گلگت بلتستان عوامی لیگ  کا  سیاسی روپ دھارے .

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔