قراقرم ہائے وے کھل گیا، خیبر پختونخواہ کے علاقے میں کانوائے سسٹم ختم کرنے کی تجویز

قراقرم ہائے وے کھل گیا، خیبر پختونخواہ کے علاقے میں کانوائے سسٹم ختم کرنے کی تجویز

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
کانوائے سسٹم دہشتگردی کے واقعات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ مسافر گاڑیوں کے ساتھ دہشتگردی کے دو واقعات خیبر پختونخواہ کے حدود میں جبکہ ایک گلگت بلتستان کے حدود میں رونما ہوے تھے

کانوائے سسٹم دہشتگردی کے واقعات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ مسافر گاڑیوں کے ساتھ دہشتگردی کے دو واقعات خیبر پختونخواہ کے حدود میں جبکہ ایک گلگت بلتستان کے حدود میں رونما ہوے تھے

چلاس(ایس ایچ غوری سے) ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کوہستان کا ضلعی انتظامیہ کوہستان سے کامیاب مذاکرات ،خیبر پختونخواہ ایریا میں کانوائے ختم ،ٹرانسپوٹرز گلگت بلتستان انتظامیہ سے مذاکرات کے کئے داسو کوہستان سے گلگت روانہ۔تفصیلات کے مطابق شاہراہ قراقرم پر کانوائے ختم کرنے کے حوالے سے کوہستان میں جاری احتجاج ٹرانسپوٹرز کاکوہستان کے ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کامیاب ہوئے اور شاہراہ قراقرم کو ہر قسم کے ٹریفک کے کھول دیا گیا.

کوہستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی یشن کے صدر حاجی گلزار نے صحافیوں کو بتایا کہ کوہستان کے ڈپٹی کمشنر سے ٹرانسپورٹرز کے طویل ترین مذاکرات ہوئے جس میں ڈپٹی کمشنر کوہستان نے کمشنر ہزارہ و دیگر اعلیٰ حکام سے باقاعدہ میٹنگ کی اور فیصلہ کیا کہ کے پی کے ایریا میں کانوائے ختم ہوگی انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے گلگت بلتستان انتظامیہ سے مذاکرات کے لئے کوہستان اور گلگت بلتستان ٹرانسپوٹرز ایسوسی ایشن آج بدھ کو مذاکرات کرے گی اور انتظامیہ کو باور کرایا جائیگا کہ کانوائے کو فوری ختم کیا جائے اور شاہراہ قراقرم پر پولیس اور جی بی سکاؤٹس کی پیٹرولنگ میں اضافہ کیا جائے تاکہ دہشتگردی کا کوئی واقعہ رونماء نہ ہو سکے انہوں نے کہا کہ شاہراہ قراقرم پر اب تک جتنے بھی دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئے ہیں وہ کانوائے کے دوران ہوئے ہیں.

انہوں نے کہا کہ اب گلگت بلتستان کے عوام ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں انشاء اللہ حالات بہتر ہونگے عوام ٹرانسپورٹرز کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ کانوائے کے نام پر مسافروں اور ٹرانسپورٹرز جس ذلت سے گزررہے ہیں اس سے نجات مل سکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments