وفا ہی جفا؟

وفا ہی جفا؟

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کہا جاتا ہے کہ مجھ سے ایک نیا رشتہ7 194ء کو جوڑا گیا اور میرے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا گیا جو مشرقی عورتوں کے ساتھ ان کے نا خدا مرد کرتے ہیں۔ یہ بھی بارہا سن چکا ہوں کہ میری تاریخ اور میراماضی بہت شاندار رہا ہے۔ اپنی خوبصورتی بیان کر کے اپنے منہ میں مٹھو نہیں بننا چاہتی۔ میرے حُسن کوحسنِ یوسف سے تشبہ دی جاتی ہے۔ میری خوبصورتی دیکھ کر دیکھنے والوں کی آنکھیں ماند پڑجاتی ہیں۔ میرے برف پوش پہاڑوں کو دیکھ کر گورے ،کالے سب پروانوں کی طرح میرے ارد گرد منڈلاتے ہیں، طواف کرتے ہیں اور کچھ قربان بھی ہوجاتے ہیں۔ میری سر سبز وادیوں اور لہلہاتے کھیتوں کی دلکشی ہر شخص پہلی نظر میں دل دینے پر مجبور کرتی ہے۔ میرے شفاف پانی کے چشمے لوگوں کو اپنی طرف ایسے کھینچتے ہیں جیسے مے خوار کو مے، عاشق کو معشوق، لوہے کو مقناطیس، بھوکے کو روٹی ، اور عابد کو معبود ۔۔۔۔ صاف و شفاف پانی کے آبشاروں کو دیکھ کر لوگوں کو بہشت کے دودھ کی نہروں کا گماں ہوتا ہے۔

میرے پاس سب کچھ ہوکر بھی کچھ نہیں ہے۔ میں اب اس دوشیزہ کی مانندجی رہی ہوں جس کی خوبصورتی اس کے لئے بھیانک خواب بن جاتی ہے اور چاروں سمت سے ننگی نظریں اس کا جینا دو بھر کر دیتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی عجیب سلوک روا رکھا جاتا رہا ہے۔ مجھے ہر وفا کا صلہ جفا کی صورت ملا اور مل رہا ہے۔ کبھی مجھے جنرل کے جوتوں تلے روندا گیا اور کھی میرے بچوں کو شعیہ ، سنی کی ’’ہڈّی‘‘ پر لڑوایا گیا۔ میرے بچے، میرے سپوت ہر میدان میں کارنامے انجام دیتے ہے مگر افسوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Untitled (1)

علی احمد جان اطہرؔ

یہ کبھی لالک جان بن کراپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مخالف فوج کے پرخچے اڑاتے ہیں تو کبھی نظیر صابر، حسن سدپارہ ، ثمینہ بیگ اور مرزہ علی بن کر دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر فتح کے جھنڈے گاڑتے ہیں۔ کھیلوں کے میدانوں میں ڈیانہ بیگ، محمد کریم، عباس، آمنہ اورارفہ ولی بن کرشاہین کی طرح اونچی اُڑان بھرتے ہیں۔ امن اور علم کا عَلم تو میرے بچوں کی خاص نشانی ہے اور پہچان ہے جسے وہ نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں بلند کئے ہوئے ہیں۔ مگر صلے میں کیا ملتا ہے؟؟؟؟

پہلے جہاں میرے کانوں میں مینا و بلبل اور خوبصورت پرندوں کی چہچہاہٹ رس گھولتی تھی اب بم دھماکے اور بندوقوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ لال گلاب ، چنبیلی اور دیگر رنگ برنگ پھولوں کی خوشبو میرے بدن میں بسی رہتی تھی ، اس کی جگہ بارود کی بُو نے لے لی ہے۔ رنگینیوں میں ڈوبے میرے پیراہن اب میرے اپنے بچوں کے خون سے رنگین ہیں۔ وفاوؤں کا یہ صلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخر میرا قصور کیا ہے؟ میری خطا کیا ہے؟ کونسا جرم میں کرچکا ہوں؟؟ مجھ سے اور میرے بچوں سے ایسا کونسا گناہ سرزد ہوگیا تھا کہ اب ان کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا جاتا ہے؟ شاید ان کا لالک جان، نظیر صابر، ثمینہ بیگ، میرزہ بیگ، حسن سدپارہ، ڈیانہ بیگ، محمد کریم، عباس، آمنہ اور عارفہ ولی بننا غلطی ہے۔ میں آج یہ سوال پوچھنا چاہتی ہیں کہ کیا میری وفا ہی میری خطا ہے؟؟ اگر ہاں، تو پھر سزا دو مجھے۔۔۔ چھین لو میرے بچوں سے روٹی ۔۔۔ لڑادو انھیں۔۔۔ مٹادو مجھے۔۔۔ لُوٹ لو۔۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔