مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا، استور میں اساتذہ کا جلسہ

مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا، استور میں اساتذہ کا جلسہ

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

استور

استور (سبخان سہیل ) استور میں ٹیچرز ایسوسی ایشن کے اہتمام ایک جلسہ ہائی سکول استور کے گرونڈ میں منعقد ہوا۔ احتجاجی جلسے میں ضلع استور کے سینکڑوں استایذہ نے شرکت کی۔جلسے سے خطاب کرتے ہوے ۔ضلع استور ٹیچرز السوسی ایشن کے صدر محمد آزاد نے کہا کی ۔ہمارے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ابھی تک گلگت بلتستان حکومت اساتذہ کو صرف سبز باغ دیکھنے کے علاوہ عملی کوئی کام نہیں کیا ہے۔ہمارے حقوق کی بحالی جب تک نہیں ہوتی ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔اگر ہم روڈ پر اینگے تو پوری عوام ہمارے ساتھ روڈ پر ہوگی۔اس وقت عوام کو سنبھال لینا ممکن نہیں ہوگا۔مردہ جب اُٹھتا ہے تو کفن پھارڑکر اُٹھتا ہے ہماری مثال بھی ایسی ہے۔

ہم نے اب تک پر امن احتجاج کہ اور ہم نے اب تک تمام سکولوں میں بچوں کو تعلیم دیتے ہوے اپنا احتجاج ریکاڈ کرایا ہے۔ اب ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب ہماراامتحاں مت لیا جاے۔ ہم پورے گلگت بلتستان کے ٹیچرز یونین اساتذہ کے تعاون سے اپنا حق چھین کر لاینگے۔ہمارے کہیں  اساتذہ اس حسرت میں اس دنیا سے رخصت ہوے کہ وہ اپنی پرموشن کے خواب دیکھتے دیکھتے ۔ ایسے بھی اساتذہ ہیں جن کو 14سکیل میں بھرتی کیا گیا اور 22سال بعد اسی سکیل میں ہی ریٹائر ہوے ہیں ۔ گلگت بلتستان کے اساتذہ کیا پاکستان کے وفادر نہیں ہیں ۔ دیگر صوبوں کے اگر ملک کے سرحدوں کی حفظاظت میں معمور 4سپاہی شہید ہوتے ہیں تو گلگت بلتستان کے 10ہوتے ہیں اس خون کی پروریش کرنے والے اس کو اس کت قابل بنانے والے ان استایذہ کو کیوں روڈ پر لانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ملک پاکستان کے دیگر صوبوں کے اساتذہ کو سروس رول کے تحت مرعات دی جاتی ہیں تو گلگت بلتستان کے ان اساتذہ کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔ہماری اگلی کال گلگت بلتستان ٹیچرز ایسوسی ایشن کے دس تاریخ کے فصلے کے بعد کیا جاے گا۔

احتجاجی جلسے سے جنرل سیکرٹری ٹیچرز ایسو سی ایشن ضلع استور جمشید ۔نے کہا کہ ہم نے ابھی تک ہونے والے احتجاج مین نہ تو کسی روڈ پر کوئی ٹایر جلا کر احتجاج کیا ہے اور نہ کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی طریقہ استمال کیا ہے۔ہم مجبور ہو کر اپنے حقوق کی خاطر احتجاج کرنے پر مجبور ہوے ہیں۔ہمارے حقوق کو ہڑاپ کرنے والا ادرہ ہماے محکمہ ایجوکیشن گلگت بلتستان ڈیکٹریٹ ہے ۔ جس نے ہمشہ گلگت بلتستان کے استایذہ کے حقوق کو دفن کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اب ہم اپنے حقوق کو چھین کر لین گے۔ہمارے احتجاج میں سکول کے بچے جب روڈ پر نکل اینگے تو ان کے ساتھ تمام سوال سوساٹی بھی ہوگی اس وقت گلگت بلتستان حکومت کو ہمارے مسلے حل کرنے کے سوء اور کوئی حل نہیں ہوگا۔استایذہ کا ٹایم سکیل اور فورتھ سٹکچرز 25%الونس کی بحالی سمیت سروس رول اور دیگر تمام مطالبات حل کیے بغیر اب یہ احتجاج ختم نہیں ہوگا۔ احتجاجی جلسے سے نایب سنیر صدر ٹیچرز ایسوسی یشن ضیاء الحق لون۔ ہیڈماسٹر ہائی سکول استور حمیداللہ ،افتخار حسین، علی خان،علی محمد،اور دیگر استایذہ نے بھی خطاب کیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔