متنازعہ ایوارڈ بنانے سے گریز کیا جائے، ورنہ خرابئ حالات کی ذمہ دار دیامر انتظامیہ ہوگی

متنازعہ ایوارڈ بنانے سے گریز کیا جائے، ورنہ خرابئ حالات کی ذمہ دار دیامر انتظامیہ ہوگی

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(اسد اللہ سے) مالکان تھک نیاٹ کو مطمئن کئے بغیر تھک داس ایوارڈ بنایا گیاتو سخت احتجاج کیا جائے گا ضلعی انتظامیہ خفیہ اور متنازعہ ایوارڈ بنانے سے گریز کریں ورنہ حالات خراب ہوئے توتمام تر زمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی مقامی ہوٹل میں تھک نیاٹ یوتھ مومنٹ کے صدر ضیاء اللہ تھکوی ، حاجی شاہ خان، کالا خان،نور محمد،صوبیدار(ر) برکت شاہ،زیب عالم کے علاوہ نوجوانان تھک نیاٹ ،عمائدین تھک نیاٹ ،اور معززین تھک نیاٹ ودیگر نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ تھک داس مالکان تھک نیاٹ کی قدیمی اور پشتنی ملکیت ہے 1978 میں مالکان تھک نیاٹ نے تھک داس کو تین ہیٹی کی بنیاد پر تقسیم کر چکے تھے اب 2014 کے شروعات میں تھک داس کے لئے مالکان تھک نیاٹ نے حصہ رسیدی کے تحت چندہ اکھتا کرکے اور اپنی مدد اپ کے تحت نہر نکال کر تھک نالے سے اپنے ملکیتی پانی پہہنچاتے ہوئے فصلیں کاشت کرچکے ہیں اور تھک داس کی زمینوں کو چولھاوار تقسیم کر چکے ہیں اور تاحال آباد کاری کا عمل جاری ہے چونکہ مالکان تھک نیاٹ پہلے سے بابوسر روڈ،بابوسر ٹنل،برفباری ،اورسیلابوں کی وجہ سے متاثر ہیں لھذا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واپڈا ماڈل ولیجزکی تعمیر تھک داس کے علاوہ کسی اور جگہ منتقل کروائیں ،انہوں نے کہا کہ اگر ماڈل ویلجیز تھک داس میں تعمیر کرنا ضروری ہے تو حکومت وقت اور واپڈا حکام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ مالکان تھک نیاٹ کو مطمئین کئے بغیر تھک داس میں ماڈل ویلجیز کے لئے جو خفیہ اور متنازعہ ایوارڈ بنایا جارہاہے جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں اور مالکان تھک نیاٹ انتہائی شدید احتجاج پر مجبور ہونگے.

DBDانہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے سابقہ وفاقی دور حکومت میں ایک مخصوص طبقے نے اس وقت کے ایک وفاقی سیکرٹری سے ملی بھگت کرکے ہرپن داس کے نام تبدیل کرواکر شلکٹ کے نام سے منسوب کرواتے ہوئے متنازعہ اراضی کو ایک مخصوص قبیلے کی ملکیت قرار دلواکر تین ارب سے زائد کا ایوارڈ منظور کرواکر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے ۔اور چلاس شہر کے اصل با شندگان اور حقیقی متاثرین کی حق تلفی کی گئی ہے جو کہ آج بھی سراپا احتجاج ہیں ۔ ہم مو جو دہ وفا قی حکو مت سے مطالبہ کر تے ہیں کہ سا بقہ وفا قی حکو مت کے دور میں ہو نے والے ان بے ضا بطگیو ں اور گھپلو ں کے با رے میں غیر جا نبدارانہ تحقیقات کر وائی جائے۔چوں کہ ہم جملہ مالکان تھک نیاٹ حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ تھک داس میں متنازعہ اور خفیہ ایوارڈ کے تحت ماڈل ویلجیز کی کسی صورت میں تعمیر ہونے نہیں دینگے انہوں نے کہا کہ حکومت اور واپڈا حکام نامعلوم سازش کے تحت چلاس دیامر میں ہربن اور تھور جیسے حالات پیدا کرانا چاہتے ہیں اگر انتظامیہ اور واپڈا حکام اپنے رویہ سے باز نہ آئے تو اس قسم کے حالات پیدا ہونگے جسے حکومت کو سنبھالنا مشکل ہو جائیگا لھذا حکومت حالات کی سنجیدگی سے نوٹس لیں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو یہ حق نہیں پہنچتاہے کہ وہ مخصوص قبیلے کو نوازنے کے لئے تھک نیاٹ مالکان کو تباہ نہ کریں اور ہمیں ہمارا حق دیا جائے زیادتی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی. 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔