ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں مریضہ تڑپ تڑپ کر مرگئی، ڈاکٹر دیکھنے نہیں آیا

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال کو صوبائی حکومت کی طرف ہسپتال میں مریضوں کو مفت ادویات دینے کیلئے کروڑوں روپے کی گرانٹ کے باوجود مریضوں کو ڈسپرین کی گولی تک نہیں ملتی۔

ہسپتال کے زنانہ وارڈ میں داحل اکبر حسین کی بیوی کو دل کا عارضہ لاحق تھا۔ انہوں نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ میری بیوی شدید درد کی وجہ سے پانی کی لئے وارڈ سے باہر نکلی جہاں وہ دھڑام سے گر گئی اور دو گھنٹوں تک کسی کو پتہ بھی نہیں چلا جبکہ وارڈ اردلی بھی غیر حاضر تھا اسے دیگر لوگوں نے اٹھاکر وارڈ میں بیڈ پر لٹادی۔ تھوڑی دیر بعدوہ شدید درد سے تڑپ رہی تھی۔ ہم جب ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹر کو بلانے گئے تو ڈاکٹر صاحب آرام فر مارہے تھے جبکہ ایمرجنسی وارڈ کا اردلی بھی سو رہا تھا۔

اسے جب کہا گیا کہ ڈاکٹر کو اٹھالے مریض تشویش ناک حال میں ہے تو انہوں نے مشورہ دیا کہ ڈیوٹی روم کے سٹاف سے کسی کو بھیج دے۔

مگر وہاں کا سٹاف بھی سو رہا تھا بالآحر ڈاکٹر کو تو بلایا گیا مگر ڈاکٹر فوری طور پر کہ کہہ کر واپس جاکر سو گیا کہ مریض کی حالت حطرے سے باہر ہے۔ اور تھوڑی دیر بعد یہ مریض ایک بار پھر تڑپنے لگا۔ مریض ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے لگا مگر ڈاکٹر اور دیگر عملہ پھر غائب تھا۔ انہوں نے کہا کہ ستم بالائے ستم یہ کہ جب مریض انتقال کرگئی تو ایمبولنس کو بلانے کیلئے ڈرائیور کر فون کرنے لگے مگر ڈرائیور بھی دو گھنٹے بعد آیا۔

طارق علی شاہ نے کہا کہ وہ اپنے مریض کو ہسپتال لایا تھا جبکہ گائنی وارڈ کے لیبر روم میں دیگر حاملہ خواتین کو لائی گئی تھی انہوں نے کہا کہ لیبر روم میں صرف ایک دائی اور ایک نرس تھی جبکہ ڈاکٹر ڈیوٹی سے غائب تھی۔

مریضوں کے لواحقین نے شکایت کی کہ لیبر روم میں مریضوں کو ایک گولی تک ہسپتال کی سٹور سے نہیں دی جاتی اور ڈرپ وغیرہ بھی وہ بازار سے خرید کر لاتے ہیں حالانکہ صوبائی حکومت نے ہسپتال کو دو کروڑ روپے سے زائد فنڈ فراہم کی ہے تاکہ ہسپتال کے اندر ایمرجنسی اور لیبر روم میں داحل مریضوں کو مفت دوائی فراہم کی جائے مگر حیرانگی کی بات ہے کہ وہ دوائی اور اتنی بڑی رقم کہاں جاتی ہے۔

لواحقین نے یہ بھی شکایت کہ گائینی وارڈ کا وارڈ اردلی بھی رات کو غائب تھا اور مریضوں کے ساتھ ہاتھ بٹھانے کیلئے کوئی نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے زیادہ تر باتھ روم حراب پڑے ہیں اور حاص کر زنانہ مریضوں کے ساتھ آنے والے تیمارداروں اور ان کی معاونت کرنے والو کیلئے کوئی باتھ روم نہیں ہے۔

انعام الرحمان سکنہ سین گاؤں، شیر عالم اور طارق نے بتایا کہ ہسپتال ایک استبل (اسطبل) حانہ کی منظر پیش کرتا ہے اور رات کے وقت کوئی ڈیوٹی پر نہیں ہوتا صرف ایک ڈاکٹر وہ بھی جاکر کمرے میں سوتا ہے۔

ان لوگوں نے ہسپتال کے اندر پڑے ہوئے گندگی کی ڈھیر کا بھی نشاندہی کی جو پچھلے ایک ماہ سے ہسپتال کی تمام گندگی پڑی تھی۔جس کی بدبو سے مریضوں کی بیماری میں مزید اضافہ ہورہا تھا اور ان کے ساتھ آنے والے صحت مند افراد بھی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔

ہمارا نمائندہ بھی مریض کے ساتھ پوری رات ہسپتال میں رہا اور ہر وارڈ میں مریضوں کے لواحقین نے شکایت کی کہ رات کو ہسپتال ایک ویرانے کا منظر پیش کرتا ہے ۔

اس سلسلے میں جب ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نور الاسلام سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سولہ لیڈی ڈاکٹروں کی آسامیاں ہیں مگر فی الحال صرف چار ڈاکٹر ز ہیں اسلئے رات کو لیبر روم میں ڈیوٹی کیلئے لیڈی ڈاکٹر کا رہنا نہایت مشکل ہے۔انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ لیبر روم میں داحل مریضو کو مفت دائی کیوں نہیں ملتی تاہم انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس لواری ٹاپ کی بندش کی وجہ سے دوائی نہیں پہنچی ہے حالانکہ لواری ٹاپ پچھلے مہینے ہر قسم کے ٹریفک کیلئے کھل چکا ہے مگر ڈاکٹر موصوف نے نہایت خوش اسلوبی سے اسے ٹال دیا۔

انہوں نے تصدیق کی کہ ہمارے پاس دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ادویات سٹور میں موجود ہوں گے جنہیں ایمرجنسی اور لیبر روم میں داحل مریضوں کو مفت دیا جائے گا اور اب بھی ان مریضوں کو دستیاب دوائی مفت ملتی ہے حالانکہ لیبر روم میں تمام مریضوں کے لواحقین نے شکایت کی کہ انہیں ہسپتال سے کچھ بھی نہیں ملتا اور سیرنج تک بازار سے خریدتے ہیں۔

ایم ایس ڈاکٹر نور الاسلام نے کہا کہ یہ تحصیل میونسپل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ہسپتال کے اندر سے گندگی روزانہ اٹھائے مگر وہ ایک مہینے سے نہیں آتے اور اس گندگی سے بدبو آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے دوائی لانے کیلئے اپنا عملہ بھیجا ہوا ہے جس میں کچھ دوائی کراچی سے بھی آنی ہے اور چند دنوں بعد یہ دوائی پہنچ جائے گی۔

چترال کے عوام کو یہ عام شکایت رہی ہے کہ رات کے وقت ہسپتال میں اکثر عملہ غائب رہتا ہے اور غریب مریضوں کو ہسپتال سے کوئی دوائی نہیں ملتی۔ انہوں نے وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت کا انصاف کرنے کے دعویدار حکمرانوں کو چاہئے کہ چترال ہسپتال کا قبلہ درست کرے اور اس سلسلے میں تحیقیات کرے کہ اتنی بڑی رقم کہاں جاتی ہے جو غریب مریض زندگی بچانے والی دوائی بھی ہسپتال سے خریدتے ہیں۔

ڈاکٹر نور الاسلام نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس سلسلے انکوائری کریں گے جو پاکستانی افسران کی عام سی بات ہے اور اس کے بعد ہوتا کچھ بھی نہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔