صرف “جیو” نشانہ کیوں؟

صرف “جیو” نشانہ کیوں؟

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریرخاور حسین

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ ان دنوں مشکلات کا شکار ہے، صحافی حامد میر پر حملہ ہوا تو جیو ٹی وی نے فرشتوں پر الزامات لگائے اور اس کے بعد فرشتے حرکت میں آگئے، پھر جیو آہستہ آہستہ فرشتوں کے علاقوں میں بند ہونے لگا، پورے ملک میں پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کو پچھلے نمبروں پر ڈال دیا گیا، بات یہاں ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ کالعدم مذہبی جماعتیں اور فرشتوں کی پروردہ سیاسی ٹانگہ پارٹیاں بھی میدان میں آگئیں اور جیو کو بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔ کہانی میں ٹوئسٹ اس وقت آیا جب جیو انٹرٹینمنٹ پر شائستہ واحدی کے پروگرام میں ایک قوالی گائی گئی جسے فرشتوں نے خوب کیش کیا اور سادہ لو مسلمانوں کے جذبات کو بڑھاوا دے کر جیو کے خلاف فتوی جاری کروا دیا۔

خاور حسین

خاور حسین

شرم کی بات یہ ہے کہ کل کیبل آپریٹرز والے کہہ رہے تھے کہ جیو نے اسلام کا بیڑا غرق کر دیا ہے، بالکل ایسا لگ رہا تھا جیسے سنی لیون، وینا ملک پر الزام لگا رہی ہو، اگر بات کی جائے قوالی کی تو تمام ٹی وی چینلز کے مارننگ شوز میں یہ قوالی گائی جا چکی ہے، اور میں نے کئی شادیوں میں اس قوالی پر لوگوں کو دھمال ڈالتے ہوئے بھی دیکھا ہے، لیکن جیو کو ہی نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے، دیوبندی بھائیوں نے سبق سیکھ لیا کہ فرشتوں کی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی، کیسے جہاد افغانستان و کشمیر، دہشتگردی بن گیا کسی کو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا، اب بریلوی اور شیعہ بھائی دوستی میں پیش پیش ہیں، اللہ رحم کرے۔

جیو کی بہت سی باتوں سے اختلاف کے باوجود پاکستان کا سب سے بڑا اور واحد میڈیا گروپ ہے جو بے لگام اداروں کو بلاخوف لگام ڈالنے کی بات کرتا ہے، اگر جیو بند ہوا تو حق اور سچ کا قتل ہو جائے گا۔ کسی اور کے اشاروں پر جیو کو بند کرنے کا مطالبہ کرنے والے سوچیں کہ کیا جیو نے حقیقت میں کوئی ایسا جرم کیا ہے کہ جس پر پورے ادارے کو بند کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔؟

۔ ماضی میں اے آر وائے گروپ کے چینل Qtv پر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے کہا تھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ شراب پی کر نماز بڑھا دی تھی۔ تب Qtv بند کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا. 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔