کریم آباد چترال میں صحت اور زراعت کے حوالے سے ایک روزہ سمینار

کریم آباد چترال میں صحت اور زراعت کے حوالے سے ایک روزہ سمینار

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Untitled-2

چترال (سید نذیر حسین) کریم آبادی ویلی میں آغاخان ہیلتھ سروس کے زیراہتمام فرنج ایم ایف اے پروجیکٹ کے تعاون سے زراعت اور فصلوں کے سپرے کااستعمال اور علاج ومعالجے کے حوالے سے کمیونٹی کارویہ اورمعلومات حفاظتی ٹیکہ جات کی ا ہمیت ،خسرہ کی روک تھام،اضافی غذائی اجنرات کے ذریعے غذائی کمزوری کی روک تھام اورعلاج کے حوالے سے ایک روزہ سمینارمنعقد ہوا ۔پروگرام کی مہمان خصوصی ڈئرایکٹرAKHSPڈاکٹرسعد ملوک اورصدر محفل چیئرمین ریجن طریقہ بوڈر لوئرچترال شاہ نواز تھے پروگرام کاآغاز تلاوت کلام پاک سے کیاگیا۔اس موقع پر آغاخان ہیلتھ سروس کے منیجرایڈمنسٹریشن رحیم اللہ ،ماہرزراعت عظیم اللہ ،ڈاکٹرنثارحسین،ڈاکٹراصف علی شاہ ،ڈاکٹرعنبرین،انچارج ماہرغذائیت فرنج ایم ایف اے پروجیکٹ قدرالنساء،آرپی ایم ہاشوفاونڈیشن سلطان محمود،پریذڈنٹ لوکل کونسل کریم آبادمومین شاہ ،شریف احمداور دیگرمقریرین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فصل اورباغ لگانے سے پہلے آب و ہوا کومدنظر رکھناضروری ہے کیونکہ ایک دفعہ باغ لگانے کے بعد وہاں کی آب وہوا کوتبدیل نہیں کیاجاسکتاہے مختلف پھلدار پودوں کو مختلف آب وہوا چاہئیے۔انہوں نے کہاکہ متوازن مقدارمیں کھادوں کااستعمال باغات کی صحت اورپید اوار کے لئے ضروری ہے پودوں کے لئے متوازن اورمقدار میں کمی اوربے احتیاطی پودوں کی خوراک کومتاثر کرتی ہے مناسب مقدار میں عناصرکبیرہ یعنی نائٹروجن ،فاسفورس،پوٹاش اورعناصر صغیرہ زنک ،آئرن کاہوناضروری ہے ہمارے ہاں اکثر غیر موزون کھادوں کے استعمال کی وجہ سے پھلوں کاکیرا ہوجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ سیب کے پھل میں بہت سے کیڑے مکوڑ ے حملہ آور ہوکر ان کی پیداوار کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں ایک اندازے کے مطابق یہ کیڑے 15سے 20فیصد تک کمی کاباعث بنتے ہیں سیب سے اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ باغبان حضرات نقصان پہنچانے والے کیڑ ے مکوڑوں اورطریقہ ہائے انسداد کے بارے میں واقفیت حاصل کریں۔انہوں نے مزیدکہاکہ پھلوں پرکیمیائی مرکبات کے سپر ے کوبہت زیادہ پسند نہیں کیاجاتامگربہت مجبوری کی صورت میں علاقے میں زراعت کے اداروں سے رابطہ قائم کرکے مناسب دوائی کاسپرے کرناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ زہروں کاانتخاب اوراستعمال اپنے علاقے کے ماہرزراعت سے مشورہ سے کریں سپرے کرنے کے دومہینے بعد پھل ا ستعمال کرسکتے ہیں ادویات کوصحیح مقدار میں استعما ل کریں۔اور کوشش کرکے دیسی ادویات استعمال کریں ان سے فصل بھی اچھے ہوتے ہیں اورکوئی نقصانات بھی نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ اسلام صفائی کامذہب ہے اورصفائی پرزوردیتاہے اگرہم اسلام کے سنہری اصولوں پرعمل پیرا ہوکرصفائی کاخیال رکھے تودل ،دماغ اوردیگر بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جولوگ عبادت کرتے ہیں وہ ذہنی بیماریوں میں مبتلانہیں ہوتے ہیں انہوں نے مزیدکہاکہ عمرکے مطابق امراض میں بھی اضافہ ہوتاجارہاہے ان کی کنٹرول کے لئے پرہیز کی اشد ضرور ت ہے انہوں نے کہاکہ چترا ل میں خواتین زیادہ ذہنی بیماریوں میں مبتلاہوتے ہیں اس وجہ سے یہاں خودکشیاں بھی زیادہ ہوتی ہے ذہنی مریض کاعلاج کم ازکم چھ مہینے کاہوتاہے اکثرمریض دو،تین ہفتے دوائی کھاتے ہیں بعد میں چھوڑ جاتے ہیں اس مریض کاپھرسے علاج مشکل ہوتاہے ۔انہوں نے کہاکہ خواتین کوزچگی کے دروان زیادہ پریشانی ہوتی ہے وہ بروقت چیک آب نہیں کرواتے عین وقت ہسپتالوں میں آکر ڈاکٹرز کے اُوپرروپ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں مرگی کے حوالے سے کہاکہ مرگی بلَا نہیں ایک بیماری ہے ان کااپریشن بھی ہوتاہے اس بیماری کاتعلق دماغ سے ہوتاہے۔انہوں نے حاضرین پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ایک ڈاکٹرسے علاج کروائے ان پربھروسہ کریں روزانہ ڈاکٹرتبدیل کرنے سے مختلف ادویات کھانے سے صحت یاب ہونے کے بجائے مزید بیمارہوجاتے ہیں۔ہمارے ہاں دوسرے علاقوں کے نسبت خواتین کی بیماریاں کم ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات نو ایسے امراض جس میں پولیو،خناق،تشنج ،ہیپاٹائیٹس بی،ٹی بی یا تپ دق،کالی کھانسی ،خسرہ ،گردن توڑبخار اورنمونیا سے بچاؤ کے حوالے سے بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ چترال میں 35فیصد بچوں کوغذائی کمزوری ہے فرنج ایم ایف اے پروجیکٹ صرف آٹھ یوسی میں کام کررہے ہیں اس لئے ہم لیڈی ہیلتھ ورکروں کوٹریننگ دی ہے کہ وہ گھروں میں جاکر بچوں کوناپ اوروزن کرکے کمزور بچوں کوادویات فراہم کریں ۔ہمارے ادارے نے پانچ سال سے کم عمرکے بچوں کے لئے 60لاکھ روپے کا چاکلیٹ منگوایاہے روزانہ ایک چاکلیٹ کمزور بچو ں کودینے کے لئے ہیلتھ سنٹروں اورورکروں کے پاس مفت دستیاب ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج کی پروگرا م کا مقصد صرف تقریرین سننانہیں بلکہ اس پرعمل کرنابھی بہت ضرروی ہے اورجویہاں نہیں آیاہے ان کوبھی بتادو۔ایک انسانی جسم کے لئے خوراک کی ضرورت ہے کم مقدار میں خوراک ملنے سے غذائی کمزوری ہوتی ہے اگربچے باربار بیمار ہوتے ہیں کھانہ کم کھاتے ہیں تواس کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔مہماں خصوصی ڈاکٹرسعدملوک نے کہاکہ میں AKHSP اورفرنج ایم ایف اے پروجیکٹ کوسلام پیش کرتاہوں کہ انہوں نے ہمیں ایک ساتھ بیٹھنے کاموقع فراہم کیا انہوں نے ٹی بی کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ دودھ کواُبال کراستعمال کریں ٹی بی کے مریض کودیکھ بھال کرتے ہوئے اس کے بلغم کوکھلانہ چھوڑے کیونکہ یہ بیماری ایک دوسرے کولگ سکتاہے انہوں نے کہاکہ ٹی بی قابل علاج بیماری ہے اورچھ ماہ کے مسلسل علاج سے یہ بیماری مکمل طورپر ختم ہوتی ہے تاہم اگرعلاج درمیان میں ادھورا چھوڑا جائے توپھر اس کاعلاج نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتاہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ ڈی ایچ کیوہسپتال چترال کے علاوہ آٹھ مقامات پرٹی بی تشخصی مراکزکام کررہے ہیں جہاں ٹی بی کی مفت تشخیص اورعلاج کے ساتھ مفت ادویات بھی فراہم کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ آب تک 8295مریضوں کی تشخص اورعلاج ہوچکاہے۔آخرمیں صدر محفل چیئرمین ریجن طریقہ بورڈ شاہ نواز نے صدارتی خطبے سے نوازا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔