میڈیا اور تماشا

میڈیا اور تماشا

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
تحریر ،،خاور حسین
پہلے میڈیا دوسروں کا تماشہ بنایا کرتا تھا پھر جب کوئی نہ ملا تو میڈیا نے خود اپنا ہی تماشہ بنا لیا، پہلے سیاستدان تماشہ بنے تو تماش بین ہنستے رہے، مُلاں تماشہ بنے،لوگوں نے خوب مذاق اُڑایا، عدلیہ تماشہ بنی۔ خوب جگ ہنسائی ہوئی، وکلاء تماشہ بنے لوگوں کو تفریح کا سامان مہیا ہوگیا، فوج تماشہ بنی، لوگ ہنستے رہے، اور پھر ایک دن میڈیا خود ہی تماشہ بن گیا دنیا ہنس رہی ہے۔
خاور حسین

خاور حسین

اے آر وائے کا مالک ارب پتی ہے جس نے اپنے کالے کرتُوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے میڈیا ہاوس کھولا، قانون کے رکھوالے سب جانتے ہیں. یہی حال ایکسپریس اور دُنیا ٹی وی کے مالکان کا بھی ہے، جیو ایسا ادارہ تھا جس کا مالک خود صحافی ہے اور ابھی تک جنگ اخبار کی سُرخیاں خود ترتیب دیتا ہے. جیو میں دس ہزار لوگ کام کرتے ہیں جن کے گھروں کے چولھے جیو کے ساتھ ہی روشن ہیں۔ جیو نیوز کی ایک ملازمہ بتا رہی تھی کہ وہ روز اپنے ساتھیوں کو تسلی دیتی ہے کہ کچھ نہیں ہوگا، لیکن اندر سے وہ بھی ٹوٹی ہوئی ہے، وہ بتا رہی تھی کہ ہم سب ایک دوسرے سے چُھپ چُپ کر رو لیتے ہیں.

“جیو حرام ہے” کا فتویٰ دینے والا کرائے کا مُلا ان دس ہزار گھرانوں کی کفالت کا ذمہ نہیں لے گا۔ ایکسپریس، دنیا، اے آر وائی یا سماء ان کو ملازمت بھی نہیں دے گا۔
کچھ قوتوں نے اپنے مفادات کے لئے پاکستان کو مذہبی جنونی ریاست بنا دیا آج ملک کا حال تو یہ ہے کہ لوگوں میں برداشت کا مادہ ختم ہوچکا ہے، ہر شخص چلتا پھرتا خودکش بمبار بنا پھرتا ہے، جو کہ کسی بھی وقت کہیں بھی پھٹ سکتا ہے، گوگل کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ پورنوگرافی کی ویب سائٹ اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دیکھی جاتی ہیں، رشوت ستانی نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے، گالم گلوچ کے بغیر ہماری کوئی بات مکل نہیں ہوتی، چوری اور ڈاکازنی کا بازار ہرطرف گرم ہے، مِلاوٹ اور منافع خوری کے بغیر کاروبار چلتا نہیں، دنیا کی کون سی بُرائی ہے جو بحیثت قوم ہمارے اندر موجود نہیں ہے، لیکن کچھ دنوں سے ٹی وی دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورے پاکستان نے توبہ کر لی ہے اور ساری دنیا کی غلاظت جیو نیوز میں سما گئیں ہیں.
جیو نے ملک میں تعلیم عام کرنے کے لئے تحریک چلائی لیکن قوم کی جہالت اس جیو کی تحریک پر غالب آگئی۔ یہ جہالت ہمیں دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کر چکی ہے، اگر تعلیم ہوتی تو ہم تماشہ نہ ہوتے۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔