سیاحتی شعبے کی زبوں حالی، لمحہ فکریہ

سیاحتی شعبے کی زبوں حالی، لمحہ فکریہ

40 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہمارے خطے کو باہر کے لوگ سیاحوں کی جنت کے نام سے پُکارتے ہیں لیکن اگر ہم جنت کی تصور کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچیں تو یہ بات کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ یہاں کے باسی ایک طرح سے جہنم میں رہتے ہیں کیونکہ یہاں کے عوام آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے اس خطے کی آئینی قانونی حیثیت کے حوالے سے آج تک کوئی فیصلہ نہ ہو سکا جس کی بنیاد پرعام آدمی فخر کریں کہ ہم جنت نظیر خطے میں رہتے ہیں،ہم بھی ایک آذاد ملک کے آذاد شہری ہے۔لہذا سمجھ لیں کہ ہمیں تو سرسبز وادیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح رکھے ہوئے ہیں ہماری منزل ہماری سوچ اور جستجو کا محور چراوہئے کے ہاتھ میں ہوتا ہے ہم اپنے اندر منزل کی درست سمت کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود نفاذ نہیں کرسکتے ایسے میں ہمارے لئے تو جہنم ہی ہوا نا؟ ۔ہم یہ بات کرتے ہوئے بھی نہیں تھکتے کہ گلگت بلتستان قدرتی طور پر امیر خطہ ہے لیکن ہم فائدہ نہیں اُٹھا سکتے یہاں چھپے خزانے جو آج بھی پہاڑوں کے نیچے دفن ہے جسے ہم عد م سہولیات کے باعث نکال نہیں سکتے ہم اسطرح کی لوریاں سُن کربھی بہت خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے خطے میں سونا چاندی قدرتی نباتات ہیرے جواہرات اور معدنیات پائے جاتے ہیں،ہمارے ہاں قدرتی گلیشرز ہے، ہم ہمالیہ کی دامن میں رہتے ہیں، ہمارے دامن میں کے ٹو ہے ،ساچن ہے، دیوسائی ہے ،مشہ بروم گشہ بروم ہے، سوست ہے ،شندھور ہے ،راکا پوشی اور ننگا پربت ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن درحقیقت یہ خطہ بیروزگاروں،حقوق کے طلبگاروں اور شناخت کی بھیگ مانگنے والوں کی دھرتی ہے کیونکہ اس خطے میں سب کچھ ہونے کے باوجود عوام کو اتنا مجبور کیا ہوا ہے کہ گندم کی بوری کیلئے 12دن گلگت بلتستان کی سڑکوں پر رہنا پڑا یعنی اگر گندم نہ ملے تو ہماری حیات کا مسلہ ہے۔

my Logoگندم نے ہم کو اتنا مجبور کیا کہ ہم اندر سے وہ سارے اکڑپن نکال دیئے اور سرکار نے بھی اوقات دکھانے کے بعد ہی مطالبات تسلیم کرکے ایک بار پھر آئینہ دکھا دیا۔لیکن گندم کی فروانی کے بعد ہم ایک بار پھر خراماں خراماں ہے ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے کچھ اور بھی مسائل ہے جسکی کی حل کیلئے کوشش کرنا باقی ہے جس میں سب سے بڑا مسلہ روزگار کا ہے اس حوالے سے یہاں سیاحت کی فروغ کیلئے کوشش کرکے بیش بہا مواقع پیدا کیا جاسکتا ہے اس صنعت کی بحالی کیلئے خواب غفلت اور وفاقی پیسوں سے عیاشی مدہوش حکمرانوں کو جگانے کی ضرورت ہے ۔آج کی تاریخ میں اگر ہم یہاں پر روزگار کے مواقع کو دیکھیں توسرکاری ملازمت کے علاوہ نجی سطح پرکوئی مواقع دستیاب نہیں اور سرکاری ملازمت کے حوالے سے بات کریں تو اس خطہ بے آئین میں پہلے ہی ضرورت سے بھی کم نوکریاں موجود ہے وہ بھی رشوت اور سفارش کے بغیر عام آدمی کیلئے ممکن نہیں ایسے میں عوام کو سوچنے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف اشیاء خوردنوش کی تمام چیزیں پنجاب سے آتی ہے اور گلگت بلتستان پونچنے تک ان اشیاء کی قیمتیں 50%تک بڑھ جاتی ہے۔لیکن ہم خوش ہے کیونکہ ہم جنت میں رہتے ہیں اسکے علاوہ غربت کو ختم کرنے کے حوالے سے آج تک کوئی جامع پالیسی مرتب نہیں کر پایا حالانکہ اس یہاں سرمایہ کاری کے کثیر مواقع موجود ہے جس پر توجہ دیکر عوام کے ساتھ پاکستان سمیت خطے کی معیشت کو بہترین سہارا مل سکتا ہے۔لیکن حکومتی عدم توجہی کے سبب یہاں کے باسی ذریعہ معاش کی خاطر پاکستان کے مختلف شہروں کا رخ کرتے ہیں اس بڑھتی ہوئی عوامی ہجرت کی طرف توجہ دینے والا کوئی نہیں۔آج ہمارا موضع بحث سیاحت کو درپیش مسائل ہے کیونکہ یہ شعبہ ایسا ہے جس سے یہاں کی کثیر آبادی انفرادی طور پر وابسطہ ہے لیکن حکومتی سطح پر اس صنعت کی ترقی کیلئے بدقسمتی سے آج تک کوئی ٹھوس ا قدام نہیں اُٹھایا جاسکاجس کے ذریعے اجتماعی حوالے سے فائدہ پونچ سکے۔ماضی میں پاکستان سرکار کی طرف سے 18ویں ترمیم کے تحت سیاحت کا شعبہ گلگت بلتستان کو دینے کا بڑا شور شراباہوا لیکن عملی طور پریہ کام ہو نہیں سکا۔یوں یہ شعبہ وفاق کونسل اور گلگت بلتستان حکومت میں تقسیم ہے جسکی وجہ سے یہ اہم شعبہ بدترین زبوں حالی کاشکار ہے مگر کوئی بات نہیں حکومت مطمئن ہے۔کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے جب ہمارے محترم وزیرعلیٰ بمعہ وزیر اطلاعات گلگت بلتستان میں سیاحت کی فروغ کے حوالے سے یورپ کے دورے پر تشریف لے گئے خبروں کے مطابق یہ کافی مہنگا دورہ تھا لیکن خطے کی وسیع مفاد میں یہ دورہ ہوا کچھ تصویری جھلکیاں ہمیں بھی مقامی پرنٹ میڈیااور سوشل میڈیا کی وساطت سے دیکھنے کا شرف حاصل ہوا لہذا کہہ سکتا ہوں کہ دورہ بڑا دلچسپ تھا۔لیکن کسی بھی الیکٹرونک میڈیا پر اس حوالے سے کوئی ایک لائن کی خبر بھی نہیں چلی یوں سمجھ لیں کہ سیاحتی فروغ کی اس مہم سے میڈیا بے خبر تھا مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ۔لیکن بقول سینیر وزیر صاحب کے شاہ جی ہر کام کو بڑے دانشمندی اور خطے کی وسیع تر مفاد میں کرتے ہیں جس کے تحت یہ دورہ بھی خاموشی سے انجام پایا۔ شاہ جی کے حوالے عام آدمی کا بھی یہی خیال ہے صاحب ہر کام وسیع تر مفاد میں ہی کرتے ہیں لیکن خطے کی نہیں بلکہ ذاتی دوستوں کی اہل محفل کی صاحب دیوانوں وغیرہ وغیرہ۔ سیاحت کی فروغ کے نام پر شاہ جی نے قومی پیسوں سفر یورپ کا عظیم کارنامہ انجام دیکر گلگت بلتستان میں سیاحوں اورغیرملکی سرمایہ کاروں کی بارش کردی جو سیزن سے پہلے ہی برسنا شروع ہو گیا اور تاحال تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس دورے کے بعد گلگت اور سکردو کیلئے خصوصی پروازئیں چلائی جارہی ہے تاکہ غیرملکی سیاح اور سرمایہ کاروں کو کوئی تکلیف نہ پونچے خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ یہاں کے عوام بھی اب ہوائی سفر کاخوب مزے لے رہے ہیں ۔دوسری طرف سیاحتی مقامات پر جگہ کم پڑھ رہے ہیں کیونکہ یہاں سیاحت کے حوالے سے کوئی بھی بنیادی سہولیات موجود نہیں یہاں قدرتی سیاحتی مرکز تو ان گنت ہے لیکن حکومتی انتظامات صفر ہے کاش کوئی شاہ صاحب یہ بتاتے کہ کسی بھی کھیل کیلئے سب سے پہلے گراونڈ تیار کیا جاتا ہے پھر کھلاڑی کی تلاش ہوتی ہے نہیں معلوم ہمارے حکمران کب مفروضات پر کام چلاتے رہیں گے اور یہ شعبہ مزید خستہ حالی کا شکار ہوتا رہے گا سوچنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ہم اگر باہر کی دنیا پر نظر کریں تو کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو رقبہ اور مواقع کے لحاظ سے گلگت بلتستان سے بھی کم ہے لیکن وہ ممالک صرف سیاحتی آمدنی سے ملک چلاتے ہیں اگر گلگت بلتستان میں بھی اس شعبے کی ترقی کیلئے نیک نیتی سے کام کیا تومعاشی انقلاب آسکتا ہے۔سیاحتی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد اگر کارگل مظفر آباد اور تاجکستان کے راستے سیاحت کیلئے کھول دیا جائے تولاکھوں سیاح یہاں آسکتے ہیں اس حوالے سے خطے کیلئے فضائی سروس کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کسی بھی سیاح کیلئے گلگت بلتستان تک پونچنے کیلئے ہوائی سفر کی عدم تسلسل کے باعث کئی دن اسلام آباد میں انتظار کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اس صنعت کو کافی نقصان پونچ رہا ہے۔اگر حکومت گلگت بلتستان نجی سطح پر اس شعبے کی بہتری کیلئے کام کریں تو امید کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو اسلام آباد کے فنڈز کی محتاجی بھی ختم ہوسکتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔