آخری آپشن

آخری آپشن

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان کو اگر ہم ماضی کے دریچوں میں دیکھے تو یہ خطہ تین ریاستوں بروشال بلتستان اور دردستان پر مشتمل تھا اور ان تین ریاستوں کو زمانہ قدیم میں بلورستان کے نام سے پُکارے جاتے تھے۔جعرافیائی حوالے سے ریاست بلورستان سنٹرل ایشا کے عین سنگم پر واقع ہے۔تاجکستان، روس چائنا، افغانستان اور بھارت سے اس ریاست کی سرحدیں ملتی ہے۔اگر ہم ماضی کی تفصیلات میں جائے بغیر بات کو مختصر کرتے ہوئے آگے چلیں تو بدلتی ہوئی جعرافیائی اور علاقائی صور ت حال کے باعث یہ ریاست مزید ٹکڑوں میں تقسیم ہوئے ۔یہاں بات کو اور مزید مختصر کرتے ہوتے تقسیم ہند سے شروع کریں تو یہ پورا خطہ ریاست جموں کشمیر کا حصہ سمجھا جاتا تھالیکن اسلامی جمہوری پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد کشمیر کا جس طرح سے ہری سنگھنے سودا کیا وہ ایک الگ موضوع ہے ۔ مگر ایک طرف کشمیری عوام تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے بھی خاموشی سے اپنے تاریک مستقبل کا تماشا دیکھ رہے تھے دوسری طرف گلگت بلتستان کے عوام نے جبری تسلط کے خلاف پرسرپیکار ہونے کا سوچ لیا تھایوں عوام نے کرنل مرزا حسن خان کی قیادت میں ایک مزاحمتی تحریک شروع کیا جو بعد میں جنگ کی صورت اختیار کر لیا اور جذبہ حب الوطنی کے ساتھ نہتے یہ جنگ لڑ کر پہلے گلگت پھر بلتستان کو ڈوگرہ حکومت سے آذاد کراکے ایک بار پھر ریاست گلگت بلتستان معرض وجودلایا۔لیکن اب کی بار صورت حال کچھ مختلف تھا کیونکہ عوام کے دل میں نوزائدہ پاکستان کیلئے ایک فطری محبت پیدا چکی تھی اُس وقت کہا جارہا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا ہے یہاں ہر قوم ہر نسل ہر مذہب کو آذادی حاصل ہو گی۔گلگت بلتستان کی چونکہ سوفیصد آبادی مسلمان پر مشتمل تھا اور ایک مسلم ریاست کا کسی غیر مسلم ریاست کے ساتھ الحاق کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا تھا لہذا تاریخ میں ملتا ہے کہ اُس وقت کے غازیوں نے اس آذاد ریاست کو لاالہ کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرکے بغیر کسی شرائط کے پاکستانی بن گئے۔

my Logoدوسری طرف کشمیری قیادت جو ایک طرف کشمیر کے ایک حصے کو کھو بیٹھے تھے لیکن گلگت بلتستان کی نسبت سیاسی طور پر کافی اثررسوخ رکھتے تھے ان سے گلگت بلتستان کی آذادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق ہضم نہیں ہو پا رہا تھا یوں انہوں نے آذاد جمہوریہ گلگت بلتستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق کے خلاف سازش کرکے اس خطے کو مسلہ کشمیر کے ساتھ جوڑنے کیلئے اسررسوخ استعمال کیا یوں 28اپریل 1949کو وہ اس گھناونی سازش میں کامیاب ہوکر گلگت بلتستان کے عوامی کی مرضی کے خلاف معاہدہ کراچی کرکے ایک آذاد ریاست کی گلے میں متنازعے کا لاکٹ لٹکا دیا جو تاحال جاری ہے۔معاہدہ کراچی کے جو مندرجات ہے وہ ایک الگ موضوع بحث ہے جس پر مستقبل میں قلم اُٹھایا جائے گا آج کا ہمارا اصل موضوع گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت ہے اسکی منزل کیا ہوگی اس پر چندباتیں کرنامقصود ہ ہے کیونکہ ہمارے خطے میں اس حوالے سے بڑی بے چینی دیکھا جارہا ہے ایک طرف ہم پاکستانی ہے لیکن دوسری طرف ہمارا شمار پاکستان شہری میں نہیں ہوتا، ہمارے تمام وسائل قانونی طورپر پاکستانی کہلاتا ہے لیکن جب عوام کو حقوق دینے کی بات آ جائے تو معاملہ متنازعہ ہوجاتا ہے یوں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے ایک عجیب سی صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے اپنے ہی کچھ گنتی کے لوگ آج بھی گلگت بلتستان مسلہ کشمیر کے ساتھ نتھی کرنے کے خواہاں ہے عوام کو جنگ آذادی سے پہلے کا آئین پڑھا کر نہیں معلوم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کہانی کے پیچھے بھی کئی کہانیاں سے جیسے بیاں کرنا مناسب نہیں سمجھتا لیکن یہ بات ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جنگیں تاریخ بنانے کیلئے کیلئے لڑی جاتی ہے بلکلیہی صورت حال صورت حال تاریخ گلگت بلتستان کا بھی ہے۔مگر جیسے میں نے اوپر ذکر کیا کہ پاکستان کے ساتھ اس خطے کے عوام کی وفاداری اُس وقت بھی غیرمشروط ہے آج 67سال بعد بھی اگر دیکھیں تو یہاں کے عوام میں وہی محبت قائم ہے اگر ہم عسکری حوالے سے بات کریں کے جو جذبہ یہاں کے جوانوں میں پاکستان کیلئے ہے شائد ہی آئینی صوبوں سے تعلق رکھنے والوں میں ہو۔سڑک سے گزرتے عسکری جوانوں کو آج بھی یہاں کا بچہ بچہ سلوٹ مار کر اظہار محبت کرتے ہیں حالانکہ کسی نے ان بچوں نہیں سکھایا ہوا ہوتا ہے بلکہ یہ فطری محبت کی ایک عظیم مثال ہے۔لیکن افسوس کی بات کہ حکومت پاکستان تمام صورت حال کو بخوبی جانتے ہوئے اس خطے کی جعرافیائی معاشی اور عسکری اہمیت کو سمجھتے ہوئے بھی یہاں سیاسی استحکام لانے کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اُٹھا رہے ہیں۔

قیام پاکستان سے لیکر اب تک یہاں صرف ریاست کی رٹ کو قائم رکھنے کیلئے کھٹ پتلی عناصر کو حاکم بنائے رکھا ہوا ہے جو کہ اس خطے کی وفاداریوں کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہاں کے عوام کے ساتھ ذیادتی ہے۔اس وقت گلگت بلتستان کے عوام اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہخطے کو اس کرب میں ڈالنے کے حوالے سے مرکزی کرادر اُس وقت کے کشمیری حکمرانوں کا ہے جنہوں نے مسلہ کشمیرمیں استصواب رائے میں ووٹ بڑھانے کی خاطر اپنی انا کا مسلہ بنا کر 28ہراز مربع میل آبادی والے خطے کو قید کیا ہوا ہے۔آج بھی یہی لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ خطہ کشمیر کا حصہ ہے لہذا مسلہ کشمیر سے ہٹ کر اس خطے کو کوئی شناخت دینا مسلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کے حوالے سے نقصان ہوسکتا ہے۔لیکن گلگت بلتستان کے عوام سے پوچھیں تو حقیقت ایسا بلکل نہیں یہاں کے عوام نے ڈوگرہ راج سے بغیر کسی کشمیری امداد کے جنگ کر کے اپنے خطے کو آذاد کرکے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا لہذا مسلہ کشمیر اور مسلہ گلگت بلتستان دو الگ پہلو ہے لہذا حکومت پاکستان کو اس حوالے ماضی کی جھروکوں میں دیکھنے کے بجائے مستقبل کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے حوالے سے فیصلے کرنے ہونگے۔اگر اس خطے کوقومی دھانے میں شامل کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی قوانیں راستے میںآڑے آرہے ہیں تو موجودہ غیر آئینی اور غیر قانونی صوبے سے بھی گلگت بلتستان کے عوام سے احساس محرومی ختم کرنے کے حوالے سے سودمند ثابت نہیں ہوسکتا۔ یہاں کے عوام اب غیر آئینی خول سے نکلنا چاہ رہے ہیں کیونکہ اس مسلے کی وجہ سے اس خطے میںآج تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوسکا یہاں آج تک کوئی بین لاقوامی معیار کا تعلیمی ادارہ قائم نہیں ہوسکا یہاں کے وسائل کو بھروئے کار لانے کے حوالے سے آج تک کوئی اقدام نہیں اُٹھایا جاسکا۔ اس خطے کو قدرت نے قدرتی وسائل سے مالامال کیا ہوا ہے لیکن آج بھی یہاں کے عوام کو گندم کی بوری کی قیمت کم کرنے کیلئے گھروں سے نکلنا پڑتا ہے ۔ 1948سے لیکر آج تک یہاں جو بھی حکومت قائم ہوئے وہ کسی بھی حوالے سے خطے کا اصل ترجمان نہیں اور نہ ہی ایسے لوگوں کو عام آدمی کی حالات بہتر بنانے کے حوالے سے کوئی سروکار ہے کیونکہ انکی حاکمیت صرف اسلام آباد کی چوکیداری سے بڑھ کر کچھ نہیں۔لہذا پاکستان کے بہترین مفاد میں ہوگا کہ آئین پاکستان میں ترمیم کرکے خطے کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے جامع کوشش کریں دوسری صورت میں اس خطے میں آذاد کشمیر کی طرز کا حکومت قائم کرنے کیلئے پیش رفت کریں۔ 2009پیکج کی تیاری کے دوران بھی خبریں گردش کررہی تھی کہ حکومت پاکستان کی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان کو بھی آذاد کشمیر طرز کاسیٹ اپ دیا جائے لیکن وہاں بھی کشمیری قیادت کی مخالفت کی وجہ سے لالی پاپ کا پیکج دیا جو کسی بھی حال میں گلگت بلتستان میں سیاسی استحکام کیلئے موثر نہیں ہوسکتا لہذا گلگت بلتستان کے عوام اپنی وفاداریوں وطن کیلئے دی جانے والی قربانیوں اور خطے کی بین الاقوامی اہمیت کو پیش نظر رکھ کر آخری آپشن کے طور پر آذاد کشمیر حکومت کی طرز پر مقامی حکومت قائم کرنے کیلئے جلدازجلد میکنزم تیارکرنے کی ضرورت ہے کیونکہ لگتا ہے کہ یہاں کے عوام کی احساس محرومیوں کے پاداش میں اس وقت کئی غیرملکی قوتیں یہاں کے عوام کو بغاوت کی راستے پر گامزن کرنے کیلئے سرگرم ہے لہذا بہتر ہے کہ وفاق پاکستان پانی سر سے گزرنے سے پہلے خطے کی دفاعی اہمیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آخری آپشن کا اعلان کرکے انتخابات کرائے جائیں تاکہ خطے پاکستان کی رٹ بھی مزید مستحکم ہو اور عوام کو بھی سیاسی حقوق مل جائے۔

(نوٹ)  اس کالم میں وسعت اشاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخ کی بہت سے پہلوں کو شامل نہیں کیا گیاہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔