چترال ڈسٹرکٹ پولو کپ ٹرافی بارڈرفورس کے نام، شہزادہ سکندرگھوڑے سے گرکرزخمی

چترال ڈسٹرکٹ پولو کپ ٹرافی بارڈرفورس کے نام، شہزادہ سکندرگھوڑے سے گرکرزخمی

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
161

جیتنے والی ٹیم کے کپتان ٹرافی وصول کر رہا ہے۔ تصویر: گل حماد فاروقی

چترال(نذیرحسین شاہ نذیر) ڈسٹرکٹ پولو کپ ٹورنامنٹ بارڈرفورس کی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر،فائنل میچ کی مہمان خصوصی انسپکٹرجنرل آف پولیس خیبرپختونخواناصرخان دُرانی تھے۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولو کپ ٹورنامنٹ سب ڈویژن مستوج پولوٹیم اوربارڈرفورس ٹیم کے درمیان کھیلاگیا ۔اس سے قبل بارڈرٹیم نے چترال ٹیم کوہرا کراورسب ڈویژن مستوج کی ٹیم سیمی فائنل میں چترال سکاؤٹس ٹیم کے ساتھ میچ برابرہونے پرٹاس میں کامیاب ہوکرفائنل تک پہنچا تھا جب میچ شروع ہوتوبارڈرفورس نے ایک گول کیا جواب میں مستوج ٹیم کے کپتان شہزاد ہ سکندرالملک نے بھی گول کرکے میچ ایک ایک برابرکیااسی دوران بدقسمتی سے شہزادہ سکندرالملک کاگھوڑا بے قابو ہوکرگرا جس کے نتیجے میں شہزادہ سکندر الملک کے بائین ٹانگ میں فریکچرآیا ۔جسے طبی امداد کیلئے فوری ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچایاگیا جہاں ڈاکٹروں نے ٹانگ میں فریکچرکی تصدیق کردی ۔

چترال میں پولو کا دلچسپ مقابلہ جاری۔ تصویر: گل حماد فاروقی

چترال میں پولو کا دلچسپ مقابلہ جاری۔ تصویر: گل حماد فاروقی

ٹیم کپٹن کے زخمی ہونے پربارڈرفورس نے فائنل میچ چھ، چارسے جیت کرفائنل ٹرافی اپنے نام کرلی۔اس موقع پرمہما ن خصوصی انسپکٹرجنرل آف پولیس خیبرپختونخواناصرخان دُرانی نے پولوشائقین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چترال کے شاہانہ مزاج کے حامل لوگ اس مہنگائی کے دورمیں بھی گھوڑے پالکراپنی روایتی ثقافت سے دلی ہمددری کاثبوت دیتے ہیں۔چترال کے عوام کوپاکستان بھرمیں لوگ تعریف کرتے ہیں آپ کی شرافت ،مہمان نوازی، حب الو طنی اوربہادری کوخراج تحسین پیش کرتاہوں کہ انہو ں نے چترال کے امن کوبرقراررکھنے میں اہم کردار اداکیا ہے ۔ آخرمیں مہمان خصوصی انسپکٹرجنرل آف پولیس خیبرپختونخواناصرخان دُرانی نے ونر،رنراوردیگر کھلاڑیوں میں ٹرافی اورانعامات تقسیم کی۔شہزادہ سکندرالملک کے زخمی ہونے سے آنے والے شندورفیسٹیول میں چترال کے ٹیم کوکافی نقصان پہنچے کااندیشہ پیدا ہوگیاہے ۔کیونکہ شندورفیسٹیول اس ماہ کے 20تا22کومنعقدہونے جارہاہے ۔شہزادہ سکندرکے تیماردارہسپتال کے پرائیوٹ روم میں جمع ہوگئے تھے جہاں تل دھرنے کوبھی جگہ نہ تھا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔