پی آئی اے میں سفر اور ایزی لوڈ کی خدمات

پی آئی اے میں سفر اور ایزی لوڈ کی خدمات

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

مجھے آج تک کی زندگی میں تین بار پی آئی اے سے واسطہ پڑا پہلی بار زمانہ طالب علمی میں گلگت بلتستان کا فضائی منظر دیکھنے کے شوق میں ہوائی سفر کاارادہ کیا اُس وقت مجھے ٹکٹ لینے اور سیٹ کنفرم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی ۔ یوں کراچی کا سفر طے کرنے کے بعد دوسرے روز جب صبح سویرے اسلام آباد آئرپورٹ کی طرف روانہ ہوے۔ کیونکہ ہمارا سیٹ پہلے ہی کنفرم تھا لہذا چیکنگ کے مراحل طے کرنے کے بعد ہم ویٹنگ لاونج میں پونچ گئے آدھے گھنٹے تک یہی اعلان ہوتا رہا کہ سکردومیں موسم خراب ہے جیسے ہی موسم صاف ہوگا انشاللہ سکردو کیلئے روانگی ہوگی ۔اسی دوران میں نے سکردو میں اپنے ایک دوست کو فون کرکے موسم کا حال پوچھا تو معلوم ہوا وہاں تو دھوپ نکلی ہوئی ہے یوں ہم سوچتے رہے کہ شائد پی آئی ائے تک بھی اب تک یہ خبر پونچ چکے ہوں گے پرُامید ہو کرکرسی پر بیٹھے اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا اچانک اعلان ہوا کہ ہم معذرت خواہ ہے کہ موسم کی خرابی کے باعث سکرد و کا فلائٹ منسوخ ہو گیا۔ حیرانی کے عالم میں کچھ اور لڑکوں کو ساتھ کرکے ہم پی آئی ائے کی کاونٹر پر جاکر بتانے کی کوشش کی کہ وہاں تو کوئی موسم کا مسلہ نہیں یہ مسلہ کچھ اور ہے لیکن کوئی بات سُننے کیلئے تیار نہیں تھاکیونکہ یہ لوگ دراصل گلگت بلتستان کے عوام کو تیسرے درجے کی شہری سمجھتے تھے.

my Logoعملے کے رویے سے ہمارے اندر بھی اشتعال پیدا ہوگیا اور ہم نے لاونج کے اندر ہی نعرہ بازی شروع کیا تو اسٹیشن منیجر کچھ پولیس والوں کے ساتھ وہاں پونچ گئے۔صورت کا حال پوچھنے کے بعد انہوں نے ہمارے تکلیف کو سمجھتے ہوئے معذرت خواہ انداز میں بتانے کی کوشش کی کہ ہم خود سکردو اور گلگت کی فلائٹ کے حوالے سے پریشان ہے کیونکہ ایک طرف عوام ٹکٹ لیکر روزانہ یہاں ہنگامہ آرائی کرتے ہیں دوسری طرف وہاں کے مقامی بیورکریسی جو ایک طرح سے مقامی ٹرانسپورٹر بھی ہے انکی طرف سے ہمیشہ دباو رہتا ہے کہ کم سے کم فلائٹ چلایا جائے۔ ہم سب نے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آخر وہ کونسی شخصیت ہے جو اس طرح عام آدمی کو تکلیف دیکر مفاد حاصل کررہے ہیں تو ان صاحب نے براہ راست نام لیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ جاکر فدا ناشاد کے دفتر کے سامنے یہی احتجاج کریں تو ممکن ہے کہ آپکا مسلہ حل ہوجائے یعنی مشہ بروم ٹور کی کاروبار کیلئے یہ کھیل کھیلا جارہا تھا۔دوسری بار 2009کے شروع میں سکردو سے پنڈی کیلئے سفر کرنا تھا معلوم ہوا کہ لینڈسلائیڈنگ کی وجہ راستے بند ہے جس کی وجہ سے جہاز کے ذریعے سفر کرنے کا سوچا ورنہ تو ہم تو ہمیشہ شاہراقراقرم کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔بہرحال سکردو میں انکے آفس گیا سیٹ کی عدم دستیابی کا بہانہ بنا کر ایک ہفتے بعد کا مشورہ دیا پریشان ہو کردوسرے ذریعے سے کوشش کی توکسی نے ایک لوکل ایجنٹ کا نمبر دیا اُن سے معلوم کیا تو کہنے لگے ایک اسٹوڈنٹ سیٹ ہے لیکن آپ کو پورا پیسہ دینا پڑے گا میرے لئے تعجب کی بات بھی تھی کہ جو سیٹ دفتر میں نہیں ملا وہ سڑکوں پر کیسے فروخت ہورہے ہیں۔مجھے جانا ضروری تھا یوں ہم نے ایجنٹ سے معاملہ طے کرکے ان سے ٹکٹ لیکر سکردو آئرپورٹ کی طرف روانہ ہوئے ۔ایجنٹ نے اپنا موبائل نمبر بھی دیکر بتایا کہ اگر کوئی پوچھے تو مجھے کال کرو بلکل ایسا ہی ہواجب

بورڈنگ کاونٹر پر پونچے تو وہاں موجود عملے نے ٹکٹ اور شناختی کارڈ مانگا میں نے بے دھڑک دے دیا کیونکہ ایجنٹ کا اسررسوخ تھا انہوں نے کہا کہ یہ ٹکٹ اسٹوڈنٹ کا ہے لہذ�آپ اس پر سفر نہیں کرسکتے ۔ہم نے اسی ایجنٹ کو کال کرکے بتایا کہ ہمیں جانے نہیں دے رہا اُس نے دس منٹ کا وقت مانگا اور ٹھیک دس منٹ بعد اُسی آدمی نے ہمیں آواز دیکر جانے کا اشارہ کیا یوں ہم اسلام آباد پونچ گئے اتفاق سے اسی فلائٹ میں موجودہ وزیراعلیٰ صاحب بھی سوار تھے اُس وقت چونکہ وہ ایک عام آدمی کی طرح سفرکرتا تھا تو ہم نے بھی سلام دعا کے بعد ماجرا سُنایا تو ہنسنے لگے اور کوئی جواب دئے بغیر چل دئے۔راقم نے اس کہانی کو بعد میں ایک کالم کی شکل میں لکھا اور کچھ مقامی ہفت روزوں میں شائع بھی ہوا۔آج تیسری بار پھر پی آئی اے سے واسطہ پڑا تو بھی کچھ نہیں بدلا تھا وہی کرپشن وہی اقرباء پروری وہی من مانی سرزمین بے آئین کے لوگوں کے ساتھ جاری ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ اس بار فیملی کو کراچی سے بلتستان جانا تھا لہذا کراچی سے ٹکٹ لیکر پنڈی پونچا تو معلوم ہوا کہ سکردو کیلئے روزانہ دو فلائٹ جاتی ہے ہمیں خوشی ہوئی کہ اب تو ماشاللہ سے عوام بغیر کسی تکلیف کے سفر کررہے ہوں گے لیکن حالات بلکل نہیں بدلا تھا پہلے تو اوپن ٹکٹ دے کر یہ بتایا گیا کہ ہم آپ کو کال کرکے سیٹ کنفرم کریں گے ایک دن گزرنے کے بعد جب کوئی کال نہیں آیا توپی آئی اے کی آفس جاکر معلوم کیا تو انہوں نے بھی وہی کہا یوں ہم نے سوچا کی کسی مقامی شخص سے مدد لیا جائے ایک دوست کو کال کیا جو عرصہ دراز سے راولپنڈی میں مقیم ہے اور ان تمام معاملات جانتے ہیں انہوں نے بتایا کہ اسطرح آپ ایک مہنیہ بھی انتظار کریں تو سیٹ کنفر م نہیں ہونے والا یہاں تو جب تک ایک ہزار روپے کا ایزی لوڈ نہیں ڈالتا سیٹ کنفرم نہیں ہوتا میں کہا یار پی آئی اے کی ویب سائٹ پر سیٹ پہلے سے ویٹنگ لسٹ میں بتا رہا ہے تو کہنے لگے یہ ایسے ہی رہے گا جب تک اوپر بیٹھے افراد کو رشوت نہیں دیتا سیٹ کنفرم نہیں ہوسکتا۔یہ حال ہے قومی ہوا بازی کا جنکے بارے میں کہا جاتاہے کہ ماضی میں اسی آئر لائن نے عمارات آئرلائن کو بنانے اور عملے کی تربیت میں مدد کیا تھا آج عمارات کا شمار دنیا کی پرکشش اور پرُآسائش آئرلائنوں میں ہوتا ہے اور انکا استاد محترم پی آئی اے کرپشن رشوت اور غیر معیاری سفری خدمات کے حوالے سے لاجواب اور باکمال نظر آتا ہے لیکن حکومت وقت کو کوئی فکر نہیں ۔بلکل یہی صورت حال سرزمین بے آئین کے نام پر چلنے والے پبلک ٹرانسپورٹ کمپنی نیٹکو کا بھی ہے یہ ادارہ بھی غیر مقامی لوگوں کو ٹھیکے پر دیا ہوا ہے اور اسی وجہ سے مسافر وں کے ساتھ بدتمیزی اور بداخلاقی ایک عام سی بات ہے مسافروں کیلئے بیٹھنے کا مناسب انتظام کہیں بھی نہیں نظر نہیں آتا لیکن ادارے کی طرف سے دعوے بڑے کر رہے ہوتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو اس طرح کے معاملات میں مقامی صحافیوں کا بڑا کرداررہتا ہے لیکن ہمارے صحافی بھائیوں کو بھی ایسی خبریں دینا یا اس طرح کے اہم ایشو پر تحقیقی رپورٹ بنانے کیلئے گلگت کی گرما گرم خبروں سے فرصت نہیں ۔لہذا اس غیر معیاری سروس اور مقامی لوگوں کیلئے بغیر سبسڈی کے کرایوں کے حوالے سے مقامی پرنٹ میڈیا کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ انکی لاپروائیوں کی وجہ سے عوام کے ساتھ گنتی کے سیاح جو اس خطے میں آتے ہیں اور اُن سے عام آدمی کی معشیت بھی جڑی ہوئی ہے، ان پر بھی منفی اثر پڑھ رہا ہے۔اس وقت اگر دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کا اصل نمائندہ چند ایک یو ایس ایڈز کے ملازم اخبارات کو چھوڑ کے وہ تمام اخبارات ہے جو خطے کی مسائل کو اُجاگر کرتے ہیں لہذا اس معاملے کو قومی ضرورت سمجھ کر حل کرانے کیلئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔اس کے علاوہ عوامی ایکشن کمیٹی جو اس وقت گلگت بلتستان میں فعال اور متحرک کمیٹی کے طور پر سامنے آرہے ہیں لہذا عوامی ایکشن کمیٹی کو اس مسائل کی حل کیلئے ڈیمانڈ پیش کرنے ہونگے کہ آخر کب تک ہمارے عوام مقامی بیورکریسی ٹرانسپورٹر زاور پی آئی اے کے درمیان کھلونا بنا رہے گا؟؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔