گلگت بلتستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی حالت زار

  گلگت بلتستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی حالت زار

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شرافت علی میر

سابق صدر پرویز مشرف کے دورحکومت میں ایک تھنک ٹھنک قایم کیا گیا تھا۔ جس میں مختلف شعبوں میں ماہر اور زہین لوگوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اس تھنک ٹھینک نے کئی مہینوں کی محنت اور ان تھک کوششوں کے بعد ا یک رپورٹ مرتب کیا اور یہ سفارش بھی کی ۔کہ اگر معشیت اور نظام کو ٹھیک کرنا ہے  توہمیں ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا، تعلیم پہ توجہ دینا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ہایر ایجوکیشن کمیشن قایم کیا گیا۔

اور اس مقصد کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے ملک بھر کے ہای سکولوں سے لے کر یونیورسٹیز تک اربوں روپے خرچ کرکے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو متعارف کیا گیا ۔

گلگت بلتستان میں پہلی بار 2004 میں آئی ٹی سنٹرزکے نام سے 26 مختلف جگہوں پہ جس میں ہائی سکولز اور کالجز شامل تھے، میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو متعارف کیا گیا تھا۔ ہر آئی ٹی سنٹر میں ایک کمپیوٹر ٹیچر اور ایک آئی ٹی لیب انچارج کا تقرر کیا گیا۔اور اس کی نگرانی کی ذمہ داری ڈایریکٹرآف کالجز گلگت بلتستان کو دیا گیا۔ اس کے بعد2007 میں دوسرے مرحلے میں 64 مراکز آئی ٹی ڈولپمنٹ کے نام سے 32 مختلف سکولز اور کالجز میں آہی ٹی سنٹر قایم کیے گئے۔ ابھی کچھ  ہائی سکولز اور کالجز میں اس منصوبے پر عملدرآمد باقی تھی کہ کہ مشرف دور کا خاتمہ ہو گیا۔

مشرف کے دور حکومت تک تو یہ سلسلہ بہت کامیاب جارہا تھا ۔بعد میں آنے والی جمہوری حکومت میں اس شعبے کو وہ ہمیت اور توجہ نہیں ملا اور پھر آہستہ آہستہ ان تمام ملازمین کی تنخواہ بھی بند ہوگیا۔پرشان حال آءی ٹی ملازمین اپنی نوکری بچانے اور تنخواہ کے حصول کے لیے خود میدان میں آگۓ لیکن پانچ سال کی بھاگ دوڑ کے باوجود نہ تو ان ملازمین کو مستقل کیا گیا اور نہ ہی ان کو پوری تنخواہ ملا۔

گلگت بلتستان قانون ساز کونسل میں آءی ٹی کے حوالے سے قرارداد بھی پاس کیا گیا اور محترمہ مہنازولی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دیا گیا۔ لیکن یہ سب کاغذوں کی حد تک رہا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ان وزیروں اور مشیروں کا کوي نہیں سنتا۔

 جبکہ ملک بھر کے دیگر صوبوں میں تمام آي ٹی ملازمین کو مستقل بھی کیا گیا اور ان کو تمام مراعات بھی مل رہا ہے۔اس کے علاوہ آءی ٹی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے آءی ٹی یونیورسٹیز بھی قایم کیے گۓ۔ اس کے برعکس گلگت بلتستان کے واحد یونیورسٹی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے آءی ٹی کے شعبے کو بھی ختم کیا گیا۔

اس وقت بھی گلگت بلتستان میں ایسے بہت سے ذمہ دار لوگ ہیں جن میں سیکرٹری اور ڈایریکٹر لیول کے لوگ شامل ہیں جن کو کمپیوٹر استعمال کرنا نہیں آتا ہیں۔شاید ایک وجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس شعبے کو فروغ نہیں مل رہا ہے۔

اس سال آکسفورڈ پبلشرز نے اپنی تمام کورس کو سی ڈیز میں متعارف کیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے 1 یا 2 سال میں بچے کتاب کی بجاۓ سی ڈیز لے کر سکول جاینگے۔۔تمام کورس اب کمپیوٹرایز ہوگا۔اور کلاس میں بلیک بورڈ کی بجاۓ پروجیکٹر کا استعال ہوگا۔

ملازمین اور آءی ٹی سنٹر کے مسایل اپنی جگہ، لیکن  آ ي ٹی کی اہمیت اور افادیت سے انکار کرنا یا اس شعبے کو نظرانداز کرنا آنے والے نسلوں سے زیادتی کے مترادف ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

لکھاری کے بارے میں

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔