شہباز شریف نہیں، سیاسی حقوق اصل ضرورت

شہباز شریف نہیں، سیاسی حقوق اصل ضرورت

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گزشتہ روز پاکستان کے ایک مشہور کالم نگار کا گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک کالم پڑھنے کا موقع ملا جو کسی سمینار میں شرکت کیلئے سکردو تشریف لائے تھے انہوں نے گلگت بلتستان کی سیاسی معاشی بدحالی اور وسعت ، حکومتی کارکردگی، تجارتی صنعتی مواقع ،سیکورٹی خدشات اور قیادت کی فقدان کے حوالے سے ایک بہترین کالم لکھا ۔یہی کالم ا گر گلگت بلتستان کے کچھ مخصوص یو ایس ایڈ اسپانسرڈ اخباروں کو دیتے تو شائد ردی کی نذر ہو جاتا۔ کیونکہ ہمارے خطے میں سچ اور خطے کی اصل مسائل پر لکھنے والوں کو بعض اخبارات موقعہی فراہم نہیں کرتے۔لیکن پورے پاکستان کی سطح پر پڑے جانے والے معروف اخبار میں ایسے کالم کا شائع ہونا یقیناًگلگت بلتستان کے مسائل کو پاکستان کی سطح پر اُجاگر کرنے کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

my Logoناگی صاحب نے اپنے کالم کے ذریعے گلگت بلتستان کے معاشرتی مسائل اور نظام حکومتی کوتاہیوں کی بہترین عکس بندی کی لیکن انکا گلگت بلتستان کیلئے شہباز شریف جیسے وزیر علیٰ کی تمنا نے کالم پڑھنے والوں کا مزہ خراب کر دیا۔ راقم نے اس کالم کو تین بار پڑھا تاکہ اس کالم کے مندرجات پر روشنی ڈالاجاسکے۔

میرے پاس تعریف کے لئے وہ الفاظ نہیں جس طرح انہوں نے اس سرزمین بے آئین کی ترجمانی کرکے ہمارے ان تمام صحافیوں کو پیغام دیا کہ اپنے مسائل پر لکھنے کی عادت پیدا کرو کیونکہ تمہارا خطہ اس وقت سیاسی اور معاشی حوالے سے لکھاریوں کی راہ تک رہا ہے۔ کہ کوئی لکھے کہ گلگت بلتستان کا اصل مسلہ کیا ہے کوئی تو بولے کہ ہماری اصل ضرورت کیا ہے۔

یقیناًمجھ سمیت خطے سے تعلق رکھنے والے اہل قلم حضرات کو سوچنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اپنے کالم کے ذریعے ان نام نہاد اخبارت کو بھی پیغام دیا کہ تم لوگ کتنے اندھے ہو کہ گھر کے مسائل سے غافل ہوکر ریٹنگ کی دوڑ میں دنیا کے مسائل سے عوام کوگمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہو۔تمہارے اپنے عوام کو اس وقت بیدارکرنے کی ضرورت ہے اور تم پیسے بنانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہو۔

میرے خیال سے ناگی صاحب کو شائد کسی نہیں بتایا کہ ہمارے ہاں تو بعض اخبارات سرکار ،بیورکریسی اور سرکاری کنٹریکٹروں کی اشتراک سے چلتی ہے۔اُس کالم میں محترم مزید لکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان سے کئی لوگ وزیر علیٰ گورنر اور سینٹ کے ممبر بنے لیکن توجہ ذاتی ترقی پر مرکوز کیانہیں معلوم انہوں نے یہ بات کس تناطر میں لکھا یا یہ صاحب حقیقت سے ناآشنا تھے۔ ہمارے عوام کا یہی تو رونا ہے کہ یا تو ہمیں مکمل پاکستانی مان لیا جائے نہیں تو ہمیں 1948کا نظام واپس دیاجائے۔ مگر صاحب کی اس بات نے عوام میں غلط فہمی پیدا کردی، کیونکہ اس خطے کو ابھی تک آئین پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ملی سکی ہے۔ ہمارے عوام آج بھی مکمل پاکستانی نہیں کہلاتے لیکن جب وسائل کی بات کریں تو بلکل درست فرمایا کہ پاکستانی ہیں۔ اگر ہمارے لوگ بھی اسمبلی سینٹ کے ممبر ہوتے تو ہمیں بھی این ایف سی ایوارڈ میں شامل کیا جاتا ہمارے بجٹ وفاق کو تعین کرنے کے بجائے ہم خود اپنا بجٹ بنا رہے ہوتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ایک سیاسی کھیل ہے جسے مختلف نام دیکر آج تک اس خطے میں کھیلا جا رہا ہے۔حقیقت کی آنکھ سے اگر دیکھیں تواس وقت گلگت بلتستان میں سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کی حاکمیت ہے ہمارے وزیر علیٰ اور گورنر سے آپ ملتے اور ان سے مصافحہ کرتے تو شائد آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ لوگ کس طرح حاکم بنے ہیں۔آپ مزید لکھتے ہیں کہ جنرل مشرف نے اس ملک کو ایسی جنگ میں دھکیل دیا جس سے اس ملک کو توقع سے ذیادہ نقصان ہوا لیکن ایک مقامی پاشندے کی حیثیت سے کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ یہاں جنرل مشرف دور میں جو ترقی ہوا وہ قابل تعریف ہے انکے دور میں یہاں لوگ رشوت لینے سے ڈرتے تھے عام آدمی کو جینے کا حق تھا لیکن جمہوری حکومت کے دعویداروں نے جس طرح پاکستان کی جڑیں کمزور کردی بلکل اسی طرح 2009کی جمہوریت نے اس خطے کے تمام اداروں میں کرپشن کا بازار گرم کردیا تعلیمی ادارے اور اساتذہ بولیوں پر بکنے لگے۔

پھر کیا فائدہ ایسے غیر آئینی جمہوریت کا ؟شائد آپ کو کسی نے اگاہ نہیں کیا۔یہی سبب ہے کہ آپ نے گلگت بلتستان کیلئے شہباز شریف کی وزیرعلیٰ کا تجویز دیا اگر آپ حقیقت سے اگاہ ہوے تو کبھی ایسا نہیں کہتا کیونکہ شہباز شریف سیاست دان نہیں صنعت کار ہے سیاست خرید کر عوام پر حکومت کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں جرائم کی شرح دوسرے شہروں سے کہیں زیادہ ہے انکی کابینہ میں ایسے بھی وزیر انکی خاص اشیرباد کے ساتھ شامل ہے جو ریاست پاکستان اور مذہبی انتشار پھیلانے والوں کی براہ راست پشت پناہی کرتے ہیں۔اگرموٹروے اور ایکسپرس وے کو فخر سمجھتے ہیں تو یہ افسوس کا مقام ہے جس ملک میں لوگوں کو پہننے کیلئے کپڑے دستیاب نہیں تین وقت کی روٹی کیلئے بنت حوا کو عزت کا سودا کرنا پڑے اس صوبے کی وزیر علیٰ کو ہماری ضرورت سمجھنا ہمارے معاشرے کی توہین کی ہے ہمارے معاشرے میں تمام تر کمزوریوں اور اور سیاسی پسماندگیوں کے باوجود آج بھی اسلامی اقدار کی ایک حیثیت ہے لہذا آپ نے ایک ایسے وزیر علیٰ کو جنکی تربیت امریت کے گود میں ہوئی ہمارے لئے ضرورت بنا کر اُن سے شاباش ضرور ملے ہوں گے لیکن ہمیں ضرورت نہیں ۔ ہمارا اصل مسلہ سیاسی حقوق کا حصول ہے جسے آپ نے گول کردیا ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس طرف آپ نے تمام وسائل اور مسائل اور معاشرتی ضروریات کا ذکر کیا بلکل اسی طرح اس خطے کو آئینی حقوق کی ڈیمانڈبھی کرتے ۔

آپ نے گلگت بلتستان کے مسائل کے درمیان بھی مشرف کو نہیں بخشتے ہوئے جیسے اوپر ذکر کیا کہ پاکستان کوانہوں نے بہت نقصان پونچایا اس بات سے آپ کو اپنے قائدین کی محفل میں داد ضرور مل سکتا ہے لیکن محب وطن پاکستانی اس بات کو قبول نہیں کرتے۔آپ اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو پاکستان کو اس نہج تک پہنچانے والا آپ کے قائد محترم کا استاد محترم ضیاالحق ہے۔ افغان اسلامی واجبی جہاد اور پاکستانی مدرسوں میں جہادیوں کی بھرتیاں تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اُس جہاد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے صورت حال اور پاکستان میں داخلی جہاد کی بھر مار بھی انہی کے دور میں شروع ہوا۔لہذا۔

بصد احترام اُن تمام حضرات سے گزارش ہے جو سیر سپاٹے کی غرض سے یہاں آکرکچھ لکھتے اور بولتے ہیں عرض یہ ہے کہ گلگت بلتستان کا اصل مسلہ نہ مہدی شاہ ہے نہ پیر کرم علی شاہ۔ ہمارا مسلہ سیاسی حقوق کا حصول ہے اگر یہ مسلہ حل ہوجاے تو ہمارے اپنے خطے میں اعلیٰ درجے کے تعلیم یافتہ سیاست دان موجود ہیں۔ کمی ہے تو نظام کی، جسے دور کرنے کیلئے مثبت سوچ کے ساتھ قلم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔