گلگت اسمبلی،مخلوط نظام تعلیم اور قراقرم یونیورسٹی

گلگت اسمبلی،مخلوط نظام تعلیم اور قراقرم یونیورسٹی

30 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آج کل گلگت بلتستان میں ایک بحث طول پکڑ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں گلگت اسمبلی میں ارکان اسمبلی نے قراقرام انٹر نیشنل یونیورسٹی میں مخلوط نظام تعلیم(Co-education) کو علاقائی رسم و رواج اور تہذیب و تمدن اور روایات کے متصادم قرار دے کر قراقرم یونیورسٹی میں طالبات کے لیے الگ کیمپس بنانے کی تجویز پیش کی۔اسمبلی میں تمام اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ واقعی طالبات کے لیے الگ کیمپس ہونا چاہیے۔ آمنہ انصاری نے تو یہ تجویز بھی دی کہ ہر ضلع میں طالبات کے لیے ایک کیمپس بنا یا جائے۔ جیسے ہی یہ خبر اخباری دنیا سے نکل کر عوامی دنیا میں آئی تو ایک نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہوئی۔ ہر ایک نے اپنی دانست کے مطابق اس موضوع پر لب کشائی کی اور کچھ نے تو ہرزہ سرائی تک بھی کی۔دل میں سوچا کہ کیوں نہ مختصراً اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جائے۔ سچ یہ ہے کہ یہ موضوع تفصیل طلب ہے۔آج کی محفل میں مخلوط نظام تعلیم پر چند مختصر گزارشات پیش خدمت ہیں اس امید کے ساتھ کہ آپ سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے۔

haqqani finalیہ حقیقت تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ مخلوط نظام تعلیم مغربی استعماری اثرات کی پیداوار اور سماجی مسائل کا ایک اہم پہلو ہے۔تعلیم ایک سماجی عمل ہے اورقومیں اپنی سماجی اعمال سے ہی پہچانی جاتیں ہیں۔ ہمارے ہاں مخلوط تعلیم کے نام سے ہمارے اس سماجی عمل کا جنازہ نکالا گیا ہے۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم ذہناً، فکراً اور عملاً سیکولر بن چکے ہیں۔ ہماری اقدار ملیامیٹ ہوچکی ہیں، مسٹر اور مُلاکے نام سے جو تفریق گزشتہ ڈیڑھ صدی میں پیدا کی گئی ہے اس کا پاٹنا ناممکن نظر آرہا ہے۔ مرعوبیت نے ہمیں کہیں کا نہیں رہنے دیا ہے۔لادینی مغربی تصور علم و نظام تعلیم جو ہمارے لیے قطعاً غیر موزوں ہے نے ہمیں اوج ثریا سے زمین پر دے مارا ہے۔ ایک زمانے میں مغربی دنیا میں دو قسم کے تعلیمی ادارے تھے۔سرکاری تعلیمی ادارے اور چرچ کے تعلیمی ادارے۔ سرکاری درسگاہوں میں تو مخلوط تعلیم تھی مگر چرچ کے تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم نہیں تھی اور مزے کی بات یہ تھی کہ چرچ کے تعلیمی ادارے معیار تعلیم و تربیت کے اعتبار سے سرکاری تعلیمی اداروں سے زیادہ بہتر اور اشرافیہ و حکمران طبقے کے لیے زیادہ کشش کا درجہ رکھتے تھے۔اسٹریلیا کا 1983ء تک یہی حال تھا۔

اس بات میں بھی دو رائے نہیں کہ تمام آسمانی مذاہب میں مخلوط تعلیم کی کوئی گنجائش نہیں۔اسلام سمیت عیسائیت و یہودیت مخلوط نظام تعلیم کی فکری ، نظری اور عملی پہلوں سے سخت تر مخالف ہیں۔الحمدللہ، مجھے اس موضوع پر کافی تفصیلی مطالعہ کا موقع ملا ہے۔ اس مختصر کالم میں ان تمام مسلم اور غیر مسلم تعلیمی ماہرین کی آرا کو جگہ دینے کی گنجائش تو نہیں مگر کوشش کرونگا کہ چند ایک کے حوالہ سے اپنی بات مکمل کروں۔جان میکلاسکی(Jan Michalski) نام کے ایک عیسائی ماہر تعلیم ہے۔ ان کے مطابق سماجی و خاندانی نظام زندگی اور مختلف اصناف میں کافی ساری تفریق پیدا ہوئی ہے ،ہم جنسی تعلقات کو باقاعدہ شادی کا درجہ دیا گیا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عورت عورت نہیں رہی اور مرد مرد نہیں رہا جس سے خاندانی زندگی کا شیرازہ بکھرتا گیا ہے۔ اس نظام میں پلنے والی نیوجنریشن ڈرگ کا استعمال،خمر کا عادی ، خود کشی، شادی سے قبل حمل،پھر اسقاط حمل،زنا بالجبر جیسے ناروا کاموں کا موجب بنتی ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ مخلوط نظام تعلیم ہے۔یہ مخلوط نظام تعلیم فطری قوانین کے عین خلاف ورزی ہے اور اسی مخلوط تعلیم کے برے اثرات پورے سماج میں پھیل جاتے ہیں۔ اس نظام کا کوئی علاج نہیں بجز اس کے اس کی مکمل بیخ کنی کی جائے۔علامہ ابن حزم ایک مشہور اسلامی اسکالر ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب طوق الحمامہ میں اس طرح کی مخلوطی نظام پر خوبصورت گفتگو کی ہے۔ مخلوط نشستوں سے ابھرنے والے عوارض و اسباب کے سلسلے میں لکھتے ہیں کہ مخطوط مجالس اسلامی دنیا کے لیے اجنبی ہیں اور ان مخلوط مجلسوں سے ایسے رویہ پیدا ہوتے ہیں جو اسلامی سماج تو کیا کسی بھی مہذب سماج کے لیے ناقابل برداشت ہوتے ہیں۔اور اگر ہم سیکولر یا لبرل نقطہ نظر سے بھی جائزہ لیں تو یہ بات باسانی سمجھ آجاتی ہے کہ مخلوط نظام تعلیم سے بہت سارے نفسیاتی، معاشرتی اور تعلیمی مسائل وجود میں آتے ہیں جو گھمبیر ہونے کے ساتھ فساد کا موجب بھی بنتے ہیں۔مخلوط نظام تعلیم سے پیدا ہونے والے چند نقصات کا ذکر مناسب لگتا ہے۔ اس نظام سے طلبہ و طالبات مطالعاتی انتشار(Study distraction)، جنسی بے راہ روی،طالبات کی تعلیمی حق تلفی،خاندانی نظام کی تباہی، والدین کا اولاد پر عدم کنٹرول، طلاق کی بڑھتی شرح، ٹوٹے گھروں اور خاندانوں کے نہ ختم ہونے والے مسائل،معاشرتی و سماجی انتشار، اکیلی ماؤں کاکلچر،عدم برداشت،شوہرکو غلام سمجھنے کی روش،مخلوط کلاس میں استاد(مرد/ عورت)کا بعض موضوعات کھل کر بیان نہ کرنا اور ان جیسے ان گنت مسائل ہیں جو بڑھتے چلتے جاتے ہیں۔ڈیئر قارئین! ایمانداری سے بتاؤ کہ ہمارے مخلوط نظام تعلیم میں کیا وہ سب کچھ طلبہ و طالبات کر نہیں گزرتے جو انہیں انڈین فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔ رہی بات انٹرنیٹ کی جھولانیاں۔ بدقسمتی سے یہ سب کچھ گناہ سمجھ کر نہیں بلکہ فیشن سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے۔

سماجی و معاشرتی زندگی میں عورت کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑادیکھنے اور لڑکی اور لڑکے کو باجود صنفی اختلاف کے ایک کلاس روم اورایک یونیورسٹی میں تعلیم دلوانے والوں سے گزارش ہے کہ وہ قرآن کریم سے معلوم تو کریں کہ وہ کیاارشاد کرتا ہے: ’’ولا تتمنوا ما فضل اللہ بِہ بعضکم علی بعض، لِلرِجالِ نصیب مِما اکتسبوا ولِلنِساِ نصِیب مِما اکتسبن، واسئلو اللہ مِن فضلِہ ان اللہ کان بِکلِ شی علِیم ‘‘یعنی اللہ تعالی نے تم میں سے ایک دوسرے کو جو فطری برتری عطا فرمائی ہے، اس کی تمنا مت کرو! مردوں کے لیے ان کے اعمال میں حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کے اعمال میں اور اللہ تعالی سے اس کا فضل وکرم مانگتے رہو، بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔(سورہ، نساء آیت نمبر ۳۲)

ہم نے غریب مُلا کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ گردانا ہوا ہے جو قطعا غلط ہے۔اس مخلوط نظام کی مخالفت صرف مُلا نے نہیں کی ہے بلکہ خدا، تمام انبیاء اور محمدرسول اللہ سے لے کرمصر کا جدید تعلیم یافتہ سید قطب، ہندوستان کے لسان العصر اکبر آلہ آبادی اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے جس قوت اور دلیل کے ساتھ اس نظام کی مخالفت کی ہے اور دلائل و براہین کے انبار لگائے ہیں وہ غریب مُلا کے حصے میں کہاں آئے ہیں۔اور تو اور گلگت اسمبلی کے تمام مسٹروں نے بھی اس مخلوط نظام تعلیم کو اپنا کلچر، روایات اور تہذیب و تمد ن کے برعکس قرار دے کر غیر مخلوط نظام تعلیم کا مطالبہ کردیا۔علامہ اقبال نے متعدد مقامات پر مخلوط سوسائٹی اور مخلوط طریقہ تعلیم پر انتہائی نفرت وبیزاری کا اظہار کیاہے؛ چنانچہ ضرب کلیم میں ارشاد فرماتے ہیں۔ دل تھا م کر سن لیں۔

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق ومحبت کے لیے علم وہنر موت

اس حقیقت میں بھی ابہام نہیں رہنا چاہیے کہ اسلام نے عورتوں کی تعلیم پر قدغن لگایا ہے۔ بلکہ اسلام اول دین ہے جس نے نہ صرف عورتوں کی تعلیم کی اجازت دی بلکہ میرے ناقص مطالعے میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور سیدہ فاطمۃ الزھرۃؓ بہت بڑی عالمات و فاضلات تھیں اور اگر ان دونوں کا علم حدیث و قرآن اور فقہی مسائل کو الگ کردیا جائے تو دین اسلام کے کئی اہم پہلو تشنہ لب رہیں گے۔اور اسی طرح جماعتِ صحابیات اور بعد کی مسلم خواتین میں بلند پایہ اہل علم خواتین کے بے مثال ذکر سے تاریخ اسلام کا ورق ورق بھرا پڑا ہے؛ چنانچہ یہ بات بھی قا بل ذکر ہے کہ امہات المومنین میں حضرت عائشہ وحضرت ام سلمہ فقہ وحدیث و تفسیر میں رتبہ بلند رکھنے کے ساتھ ساتھ تحقیق و تدقیق ودرایت کے میدان کی بھی اعلیٰ ذوق رکھتی تھیں۔علامہ ابن عبدالبر نے اپنی کتاب الاستعیاب میں حضرت ام سلمہ کی صاحبزادی زینب بنت ابوسلمہ جوسید العلماء جناب رسول اللہ کی پروردہ تھیں کے متعلق لکھا ہے کانت افقہ نساِ ہلِ زمانِہا، یعنی وہ اپنے زمانے میں سب سے بڑی فقیہہ تھیں۔اسلام صرف طریق کار کی مخالفت کرتا ہے، تعلیم و تدریس کی قطعا نہیں۔ اور اسلام نے تمام جدید علوم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے اپنی معروف کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں ’’باب العلوم المستنطہ من القرآن‘‘ کی ذیل میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں بہت ساری آیتوں سے مختلف علوم مستنبط ہوتے ہیں۔اس کی تفصیل درج بھی کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خالص دینی علوم کے ساتھ رائج الوقت تمام ضروری علوم کی نہ اجازت دی بلکہ اپنے زمانے میں ان کی تدریس و حصول کو بھی ممکن بنایا اور بعد میں تمام اسلامی خلفاء کا بھی یہی حال رہا۔

بہر صورت بات نکلی تھی گلگت اسمبلی کے مطالبے پر ، کہ قراقرام یونیورسٹی طالبات کے لیے الگ کیمپس بنائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تقریبا ناممکن ہے۔کیونکہ ہمارا معاشرہ(بشمول حکومت و ریاست) کوایجوکیشن کے دلدل میں سر تا پا دھنس چکا ہے۔الگ کیمپس کے قیام کے لیے بہت ساری دشواریوں کے ساتھ ایک بڑا بجٹ بھی انوال ہے۔ ہاں اگر گلگت اسمبلی، وزیر اعلی و گورنر،فورس کمانڈر، چیف سیکرٹری،وائس چانسلر قراقرم یونیورسٹی اور یونیورسٹی سینٹ ایک پیج پر جمع ہوجائے اور ہر ایک مخلصی سے کردار ادا کریں تو طالبات کے لیے الگ کیمپس بنانا بہت ہی سہل کام ہے۔ اس صورت میں صدر پاکستان اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے منظوری بھی آسانی سے لی جاسکتی ہے۔خاندانی نظام اور سماجی و اسلامی روایات کا جنازہ نکلنے سے پہلے مثبت اسلامی سوچ رکھنے والا ایک طبقہ قوت کے ساتھ تحریک چلا کر ان تمام حکومتی و ریاستی اتھارٹیز کو مجبور کریں اور والدین کو بھی مخلوط نظام تعلیم کی تباہ کاریوں سے روشناس کرائیں تو بعید نہیں کہ گلگت بلتستان کی خواتین کے لیے الگ تعلیمی ادارے قائم نہ ہوں۔اور ہمارے مردوں کے ساتھ خواتین بھی علم نافع سے مستفید ہوسکیں۔ آئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیاری دعا کے ساتھ اپنی بات کی تکمیل کرتے ہیں۔ ’’ اللہم انی اعوذ بک من علم لاینفع و من قلب لا یخشع‘‘۔ یعنی اے پروردگار عالم! میں پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نافع نہ ہو اور اس قلب سے جو اللہ سے ڈرنے والا نہ ہو‘‘۔اگر کوئی صاحب اس بحث کو مزید آگے بڑھانا چاہیے تو میں اس پر تفصیل سے لکھنے کے لیے خوشی محسوس کرونگا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments