چترال میںخودکارموسمیاتی اسٹیشن کی تنصیب ،گلاف پراجیکٹ کااہم اقدام

چترال میںخودکارموسمیاتی اسٹیشن کی تنصیب ،گلاف پراجیکٹ کااہم اقدام

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
نصب شدہ موسمیاتی

نصب شدہ م خود کار وسمیاتی اسٹیشن کی تصویر 

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر) پاکستان گلاف پراجیکٹ(Pakistan GLOF-Project) گذشتہ دو سال سے چترال کے وادی بندوگول (گہکیر) میں مو سمی تبدیلیوں کے حوالے کام کر رہا ہے۔ پراجیکٹ کا بنیادی مقصد پاکستان کے شمالی حصوں (گلگت بلتستان اور چترال) میں مو سمیاتی تغیرات کے با عث گلیشئرز پر بننے والی جھیلوں کے پھٹنے سے ہونے والی تباہ کاریوں سے مقامی آبادی کو بچانا اور مقامی آبادی و متعلقہ قومی و علاقائی اداروں کو اس قابل بنانا کہ وہ مو سمیاتی تغیرات سے پیداء ہونے والی حالات سے مو ئثر طور پر نبرد آزما ہونے کیلئے ایسے قابل عمل تدابیر اختیار کریں کہ نقصان کم سے کم ہو۔ پراجیکٹ کے دائرہ عمل میں صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع چترال کا وادی بندو گول (گہکیر) اور صوبہ گلگت بلتستان کا وادی بگروٹ شامل ہیں۔مو سمیاتی تبدیلیوں سے متعلق بنیادی معلومات جمع کرنا پراجیکٹ کے بنیادی سرگرمیوں میں شامل ہے تاکہ ان تبدیلیوں کے اثرات اور بدلتے رجحانات کا تفصیلی جائزہ لے کر مستقبل کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔ اس مقصد کے پیش نظر Pakistan GLOF-Projectاور محکمہ مو سمیات پاکستان کے تعاون سے چترال میں اپنے طرز کا پہلا خود کار Automatic Weather Station وادی بندو گول (گہکیر ) میں نصب کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک Automatic Rain Gaugeاور بندو نالے میں سیلابی ریلے پر نظر رکھنے کیلئے ایکutomatic River Dischage System A بھی نصب کیا گیا۔ ان کا مقصد چترال کے بدلتے موسمی حالات سے متعلق بنیادی معلومات اکھٹا کرنا ہے۔ اس سسٹم کے تنصیب سے وادی میں قدرتی آفات کی نگرانی اور مقامی آبادی کو ممکنہ آفات سے متعلق پیشگی اطلاع دینے میں بھی مدد ملے گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔