دشت امکان – کیا ہم سوشلسٹ ہیں؟

دشت امکان – کیا ہم سوشلسٹ ہیں؟

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خوفناک رات تھی تاریکی میرے کمرے کی اداس کھڑکیوں میں رقص کر رہی تھی اور میری بے چین آنکھین باہر کی بے کیف اور اذیت ناک منظر کو دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں میرے ذہن میں مختلف اور ناقابلِ یقین خیالات جنم لے رہے تھے میں اپنے ہونے کے معنی تلاش کر رہاتھا اور میرے اندر کا انسان مجھ سے باربار ایک ہی سوال کر رہا تھا وہی سوال جو کسی زمانے میں گورکی اپنے آپ سے کیا کرتا تھا اور بے چین رہا کرتا تھا’’ کیامیں سوشلسٹ ہوں‘‘؟؟کیا مجھے سوشلسٹ ہونا چاہئے ؟اور اگر میں سوشلسٹ ہوں تو اسکی وجہ کیا ہے؟

ضیأ افروز

ضیأ افروز

تاریکی کھڑکی سے اتر کر کمرے میں داخل ہوچکی تھی اور میں باہر کے دھندلے منظر نامے کو دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا باہر کی فضا سرد اور ابر آلودتھی اور میرے ذہن میں باربار وہی پُر اسرار سوال انگڑائی لے رہا تھا ’’کیا میں سوشلسٹ ہوں‘‘؟اور کیا ہمارے معاشرے میں قبیلوں میں بٹاہوا شخص سوشلسٹ ہو سکتا ہے؟سوشلسٹ ہونے کی بنیادی معنی ،سوشلسٹوں کے اس راسخ عقیدے میں پوشیدہ ہے کہ ہماری کوئی قوم ،کوئی قبیلہ نہیں لوگ یا تو ہمارے رفیق ہے یا دشمن ۔ سارے محنت کش ہمارے رفیق ہے اور سارے امیر لوگ اور ساری حکومتین ہماری دشمن ہے سوشلسٹ دنیا کے مزدوروں کی تعداد دیکھ کر خوش ہوتا ہے چاہے وہ مزدور فرانسیسی ہو ،جرمن ہو ،ہندوستانی ہو یا پاکستانی مزدور ہو۔دنیا کے تمام سوشلسٹوں کا عقیدہ ہوتا ہے کہ ہم سب سوشلسٹ ایک ہی ماں کے بچے ہیں اور ساری دنیا کے مزدوروں کی برادری کا ناقابلِ شکست عقیدہ ان کی زندگیوں کو سوز و ساز بخشنا ہے یہی عقیدہ ان کے زندہ رہنے کا مقصد اور ان کے دل میں دبے ہوئے جذبے کو گرمانے کا ذریعہ ہے سوشلسٹ کوئی بھی ہو ان کا نام ،مذہب کچھ بھی ہو لیکن وہ اس شخص کو تمام عمر کے لئے روحانی بھائی تسلیم کرتے ہیں جو سوشلسٹ ہے ۔

کمرے میں تاریکی اور بھی گہری ہوتی جا رہی تھی اور میرے ذہن میں عجیب وغریب خیالات پیدا ہورہے تھے میں بے حس و حرکت کھڑکی کے سامنے کھڑا سوچ رہاتھا،اس اضطرار و بے چینی کے عالم میں مجھے باربار گورکی یا دآرہے تھے اور میں شمع کی مدہم روشنی میں گورکی کی مقدس تصویر کو حیرتوں سے دیکھ رہا تھا اور ان کا وہ عظیم وشان جملہ میرے ذہن کے دریچوں میں باربار ابھر رہا تھا ’’ہمیں اپنے ذہنوں کو ادراک اور عقل و دانش کی روشنی سے منور کرنا چاہئے اور ان لوگوں کو روشنی دکھانا چاہئے جنکے ذہنوں پر لاعلمی کا اندھیرا چھا یا ہو اتھا ہمارے پاس ہر چیز کا ایماندرانہ اور سچا جواب ہونا چاہئے ہمیں مکمل صداقت اور مکمل جھوٹ کا علم ہونا چاہئے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ لوگوں کو کسطرح رہنا چاہئے نہ یہ کہ وہ کیسے رہاکرتے ہیں ‘‘۔

آہستہ آہستہ کمرے میں پُراسرار تاریکی پھیل رہی تھی اور میرے دل میں آمرانہ جمہوریت ،جاگیر داری اور سرمایہ داری نظام کے خلاف ناقابلِ یقین نفرت پیدا ہورہی تھی اور جوشیلے اندازمیں میرے اندار کا انسان پُر احتجاج آواز بلند کر رہاتھا کہ مجھے اس غلیظ اور قابلِ نفرت زندگی کی دلدل کے اوپر ایسا پل تعمیر کرنا ہے جو مجھے اور دوسرے لوگوں کو ایک ایسے شاندار مستقبل کی طرف لے جائے جہاں انسانی برادری کا راج ہو امن ومحبت کے نغمے ہر گام سنائی دیتے ہو اور جہاں امیر وغریب کا کوئی تصور نہ ہو برابری ہو اور ہر شخص کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا ہر شخص کی اخلاقی ذمہ داری ہو میری آنکھین گورکی کی مقدس تصویر پر ٹکی ہوئی تھیں تاریکی میرے دل میں عداوت لئے کھڑکی سے لپٹی کسی کی تاک میں لیٹی ہوئی تھی اتنے میں ایک سریلی آواز ویران تاریکی میں بھٹکنے لگی جس سے خاموشی میں ہلکا سا ارتعاش پیدا ہو گیا اور کھڑکی سے باہر زندگی کی سرسراہٹ محسوس ہونے لگی اور میں دوبارہ اپنے ہونے نہ ہونے کے معنی تلاش کرنے لگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔