معیار تعلیم کی بدحالی۔۔ذمہ دار کون؟؟

معیار تعلیم کی بدحالی۔۔ذمہ دار کون؟؟

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کسی بھی ملک یاعلاقے کی ترقی میں تعلیم ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے۔لیکن بدقسمتی سے جس طرح پاکستان میں اس اہم قومی فریضے کو نذر انداز کیا جاتا رہا ہے بلکل یہی صورت حال وفاق پاکستان کے ماتحت اس غیر آئینی صوبے کا بھی ہے۔اعداد شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں شرح خواندگی 95فیصد بتایا جاتا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کسی نے معیار تعلیم کے حوالے آج تک کوئی رپورٹ تیار کیاہو۔اگر اس حوالے سے رپورٹ آجائے تو ایسا ہی ہوگا جیسے ہم نے کلاس نہم کی سالانہ امتحان کا رزلٹ دیکھا جس کے مطابق 18000طلبہ طلباء امتحان میں شریک ہوئے لیکن بدقسمتی سے صرف 900 طلبہ طلباء کامیاب ہوئے۔اس مسلے پر کس کو مورد الزام ٹھرایا جائے؟ایک مشکل کامہے کیونکہ ہمارے ہاں کسی بھی ادارے میں کوئی نظام ہی نہیں یا اُس ادارے کی معیار اورضرورت کو سمجھتے ہوئے فیصلہ کرنے کیلئے کوئی مخلص سربراہ بھی دستیاب نہیں ایسے میں عوام کو ہی اپنے بچوں کی خراب مستقبل کا ذمہ دار ٹھرایا جاسکتا ہے۔ اگر حکومت کی طرف دیکھیں توہمارے خطے کی محدود سالانہ بجٹ میں محکمہ تعلیم کی ترقی اور تعمیر کے حوالے سے قلیل فنڈز رکھتے ہیں جس میں سے بھی کچھ حصہ ذمہ داران کی کرپشن کا نذر ہوجاتا ہے دوسری طرف جیسے گزشتہ ایک سال سے غیر قانونی اور غیر معیاری بھرتیوں کا وایلا مچایا ہوا ہے سابق چیف سیکرٹری نے اس حوالے سے بڑے اقدامات کئے جس سے حکومتی اراکین کو بڑا ہی تکلیف ہوا اور انہوں نے کسی بھی طرح یونس ڈاگا صاحب کو یہاں سے بھگایا تاکہ کرپٹ وزراء کی کرپشن پر پردہ پوشی کرتے ہوئے مستقبل کیلئے بھی راہ ہموار ہوجائے۔ محترم وزیر اعلیٰ صاحب نے عوام سے ہمدردی کے نام پر ان تمام رشوت کے عوض بھرتی ہونے والوں کو دوبارہ بحال کیاکیونکہ اس تمام معاملے میں حکومتی اراکین کے جیب بھی گرم ہوتے رہے ہیں۔

my Logoاپنے اراکین کی پشت پناہی کرتے ہوئے نااہل افراد کی بحالی کا نتیجہ ہم نے حالیہ نتائج کی شکل میں دیکھ لیا۔ دوسری طرف ہمارے خطے میں پہلے ہی سرکاری سکولوں میں سہولیات کا فقدان ہے جہاں طالب علموں کو بیٹھنے کیلئے کرسی تو دور کی بات ہے ٹاٹ (جو زمین پر بیٹھنے کیلئے بچھائے جاتے ہیں) تک دستیاب نہیں۔لیکن ایسے اسکولوں میں اساتذہ جو میٹرک کے بعد فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعے گھر بیٹھے CTوغیرکا کورس کرکے نجی بینکوں سے زراعت کے نام پر قرضے لیکر رشوت کے عوض نوکریاں حاصل کرکے خود بہتر زندگی گزارتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پرائیوٹ سکولوں میں پڑھاتے ہیں لیکن جس غریب کے بچے کو پڑھانے کیلئے سرکار سے تنخواہ وصول کی جاتی ہے نہ انکے پاس تجربہ ہوتا ہے نہ قابلیت۔آج میں ایک ایسی حقیقت قارئین کا نذر کرنا چاہوں گا اس طرح کے کردار شائد ہی گلگت بلتستان میں کہیں موجود ہوانکی کہانی ہمارے معاشرے کیلئے قابل تقلید ہے کیونکہ بندہ موصوف نے ابتدائی طور پر ایک سرکاری اسکول میں گریٹ ون کے طور پر کام شروع کیا لیکن انکے اندر ایک شوق اور لگن تھا جسکا کا حصول نہ ہونے کی انکو ہمشیہ فکر لاحق رہتا تھا دوران ملازمت کسی قابل استاد کی خدمت حاصل کرکے اپنی تعلیم کو جاری رکھا اور ایک وقت ایسا آیا کہ انہیں اپنی قابلیت کا اندازہ ہوا تو انہوں نے محکمہ تعلیم پر قانونی کیس کرکے اپنے آپ کو ایک استاد کے مقام پر لے آیا ۔جب انہوں نے بحیثیت استاد خدمات سرانجام دینا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ اُنکے سکول میں حالانکہ بڑے اچھے سکیلزوالے اساتذہ پہلے موجود تھے لیکن جماعت ہشتم کی طلباء کو ریاضی کی کتاب پڑھانے کی قابلیت نہیں رکھتے تھے ۔ تعجب کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بھی اساتذہ موجودہے جنہیں سکیل کی ترقی پر تو بڑا فخر ہوتا ہے لیکن اپنی نالائقی سے کبھی پشیمان نہیں ہوتے۔ بلکل یہی صور حال گلگت بلتستان کے تمام گاوں دیہات کا بھی ہوگا جو کہ ہمارے مستقبل کے معماروں کیلئے ایک المیہ ہے۔اسی طرح کی اور بھی بہت سی وجوہات کی بناء پرہمارے خطے کی تعلیمی نظام مسلسل زوال پذیر ہے جس کو چانچتے ہوئے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔اگر ہم یہی سوچ کر بیٹھ جائے کہ حکومت نااہل ہے لہذا یہ محکمہ کبھی بھی درست نہیں ہوسکتا یہ غلط سوچ ہوگا معاشرے میں رہنے والوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نظام کی بہتری کیلئے علاقائی سطح پر کوشش کریں ۔ہماریخطے میں جیسے آج کل فصل کٹائی کا سیزن شروع ہورہے ہیں اس دورانکئی اسکولز ایسے ہوں گے جہاں بچوں کوچھٹی کراکے فصل کٹائی کیلئے لے جایا جاتا ہے حالانکہ اُسی استاد کا بیٹا جو نجی سکول کا طالب ہوتے ہیں وہ اپنے باپ کی مدد کو نہیں آسکتے کیونکہ نجی سکولوں میں بھی البتہ وہ معیار نہیں لیکن کچھ حد تک ایک ڈسپلین باقی ہے یہ الگ بات ہے کہ خطے کی نجی اسکولز ایک طرح سے کاروباری ادارہ بن چکے ہیں جنکا اصل مقصد تعلیم کی آڑ میں بہتر آمدنی کا حصول ہوتا ہے۔ذارئع کے مطابق بالائی علاقوں میں قائم نجی کچھ اسکولز بھی صرف فیس کی حد تک کا خدمات انجام دے رہیں ہیں جس کیلئے ہم مزید معلومات اکھٹا کررہے ہیں انشاللہ بہت جلد نجی سکولوں کی لوٹ مار پر بھی قلم اُٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔آج ہمارا موضوع حالیہ نتائج اوراسباب ہے لہذا محکمہ تعلیم کے کسی ذمہ داران کو تو یہ ذمہ داری قبول کرنا ہی پڑے گا کہ ایسا کیوں ہوا ؟یہ ایک بڑا المیہ ہے قومی زندگیاں بہتر نظام تعلیم کے بغیر نامکمل ہے آج ہم اکیسویں صدی کا سفر طے کررہے ہیں جہاں تعلیم کے بغیر انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی لیکن ہمارا معاشرہ اور معاشرے کے لوگ پتھر کے زمانے کی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ہمارے عوام آج بھی مستقبل میں تعلیم کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہے اگر اہم اپنے سگے بھائیوں کو بھی بہتر تعلیم کا مشورہ دیں تو ہمیں مایوسی کا جواب ملتے ہیں والدین اپنے بچوں کو اسکولز میں داخلہ کرکے اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھتے ہیں حالانکہ اصل ذمہ داری اسکول جانے کے بعد شروع ہوتی ہے۔کیونکہ ہمارے خطے پہلے ہی محکمہ تعلیم کرپشن اور رشوت بازاری کا ایک گڑھ بن چکی ہے ہمارے لوگ صرف اچھی تنخواہوں کی خاطر استاد بننا پسند کرتے ہیں لہذا ایسے لوگوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ طالب علموں کی ذہنی نشونما کرکے بچے کی قبابلیت کو بڑھانے کیلئے بطور استاد اپنا فرض ادا کریں۔ دوسری بات ماحول کا بھی بڑا اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں اکثر والدین ان پڑھ ہوتے ہیں اور انہیں یہ شعور نہیں ہوتا کہ بچوں کے تعلیم کی خاطر گھر میں ایسا ماحول بنائیں جس سے بچے کا ذہین تعلیم کی طرف مرکوز ہواب تو گاوں کے گاوں کیبل لگ گئے ہیں انڈیں ڈارمے اور فلمیں ہر گھر کی ضرورت اور ایک اچھے موبائل بمعہ انٹرنیٹ ہونا ایک فیشن بن چکی ہے تو پھر ایسے معاشرے میں تعلیم کا عام ہونا ایک خواب تو سکتا ہے لیکن تعبیر نہیں۔اگر ہمارے عوام حکومتی انتظار میں رہیں گے تو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے سالوں میں شرح کامیابی مزید کم ہوسکتا ہے کیونکہ ہمارے نام نہاد وزراء کی نظریں کبھی نچلی سطح پر نہیں جاتے نچلی سطح سے بہتری کیلئے کوشش کرنا انکی حاکمیت کیلئے خطرہ بھی ہوسکتا ہے ۔ گزشتہ ایک ہفتے سے انہیں قراقرم یونیورسٹی میں مخلوط نظام پر فکر لاحق ہے یہ حضرات یہ نہیں سوچتے کہ پہلے ہم ایسا ایک تعلیمی ادارہ قائم کریں جو صرف خواتین کیلئے مختص ہو۔یوں تعلیمی ادارے بنانے کا کوئی عزم تو آج تک کہیں نظر آیا البتہ اداروں ، مذہب اور مسلک کے نام پر عوام کو بیوقوف بنانا اب عادت سی بن چکی ہے۔ بدقسمتی ہے ہمارے عوام کی اور قابل شرم ہے ہمارے حکمرانوں اور محکمہ تعلیم کیلئے جو مڈل لیول تک تو بہترنظام تعلیم دے نہیں سکتے مگر انہیں فکر ہے یونیورسٹی کے طلباء اور طالبات کی جو میرے خیال سے ان کئی وزارء سے ذیادہ دین اور اسلام کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سوال یہ بھی ہے ہمارے وزراء کس اسلامی قانون کے تحت ایک نامحرم خاتون وزیروں کو بغیر محرم کے غیر ملکی دوروں پر لیکر جاتے ہیں ؟کونسے اسلامی قانون کے مطابق مخلوط اسمبلی چلارہے ہیں؟ یہ سب ایک سیاسی ڈرامہ ہے جو حقیقت اور اصل مسلے سے عوامی توجہ ہٹانے کی سازش کے ساتھ انکی نااہلی اور کم ظرفی کا ایک منہ بولتا ثبوت بھی ہے اگر ایسا نہیں توحالیہ نتائج کے بعد وزیر تعلیم اور سکریٹری ایجوکیشن کو مستعفی ہوجانا چاہئے لیکن اُن میں وہ غیرت کبھی نہیں آئے گا۔ اللہ ہم سب کا حامی اور ناصر ہو آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔