گوجال: مسگرپاور پراجیکٹ کا صرف پچیس فیصد کام مکمل ہو سکا، ٹھیکیداروں کو مزید رقم دلوانے کی کوششیں تیز

گوجال: مسگرپاور پراجیکٹ کا صرف پچیس فیصد کام مکمل ہو سکا، ٹھیکیداروں کو مزید رقم دلوانے کی کوششیں تیز

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ نگر ( بیورو رپورٹ) محکمہ واٹرا ینڈ پاور ہنزہ نگر کے حکام اور ٹھیکداروں کی ملی بھگت شروع کئی سالوں سے التواکا شکار مسگر پاور پروجیکٹ کی مد میں ٹھیکیداروں سے کمیشن لیکر انہیں مزید رقم دینے کی تیاری۔ مسگر پاور پروجیکٹ پر کام انتہائی سست روی کاشکار ہوچکا ہے۔ نظروں سے دور علاقہ ہونے کی وجہ سے کسی سرکاری افسر یا کسیسیاسی نمائندے نےاس پروجیکٹ سائیٹ کا آج تک دورہ نہیں کیا ہے۔ جس کی وجہ سے محکمہ برقیات عامہ کے حکام نے پروجیکٹ پر معائنہ کئے بغیر اس سے قبل بھی ٹھیکداروں کو کروڑوں روپے نوازے ہیں اور اب بھی جون کا مہینہ آتے ہی ٹھیکدار اور محکمہ برقیات ہنزہ نگر کے افسران نے اپنی سرگرمیاں پھر سے تیز کردی ہیں۔ 

میڈیا ذرایع کے مطابق مسگر پاور پرجیکٹ پر 2005سے اب تک 25فیصد کام بھی مشکل سے ہوا ہے، جبکہ محکمہ برقیات ہنزہ نگر حکام کے مطابق مسگر دو میگا واٹ بجلی گھر پر 80فیصد کام مکمل کرنے کے دعوے  کرتے ہیں۔ حکام بالا کا مزید کہنا ہے کہ رواں سال نومبر تک عوام کو بجلی فراہم کی جائیگی۔جبکہ اس کے برعکس زمینی حقائق دیکھا جائے تو یہ پروجیکٹ آئندہ تین سے چار سال میں بھی مکمل ہونا نظر نہیں آتا

۔مسگر پاور پروجیکٹ پر تین کنٹریکٹر ز 2008میں ٹینڈر لینے میں کامیاب ہوگئے تھے جن میں سے مبینہ طور پر ایک ٹھیکدار نے رقم ایڈوانس  میں محکمے سے وصول کرنے کے بعد سائٹ پر جانے کی زحمت بھی نہیں کی ہے جبکہ دیگر دو کنٹریکٹر صاحبان اپنی فرصت اور محکمہ برقیات کے زیر سایہ اپنی مرضی سے کام کر رہے ہیں۔

عوام ہنزہ کے عمائدین نے سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان شاہداللہ بیگ اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے درد مندانہ اپیل کی ہیں کہ التوا کے شکار پروجیکٹ پر از خود نوٹس لیکر اس عوام مفاد پروجیکٹ پر کام کی رفتار میں تیزی لایا جائے اور اس منصوبے کا ازخود معائنہ کرکے عوام ہنزہ اور سیاحوں کی وادی تاریکی میں ڈوبنے سے بچایا جائے۔ اس منصوبے پر کام بروقت نہ ہونے کے باعث حکومت پاکستان کا کروڑوں روپے تھرمل جنریٹر کے مدد میں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔