ٓٓانسدادِ منشیات کا عالمی دن

ٓٓانسدادِ منشیات کا عالمی دن

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: الواعظ نزار فرمان علی

ہر سال ۲۶ جون کو عالمی یوم انسدادِ منشیات منایا جاتاہے۔اقوام متحدہ کی سرپرستی میں اس موقع پر نشہ آور اشیاکے استعمال سے برآمد ہونے والے نقصانات اور اس کی پیداوار و ترسیل سے انسانی معاشروں کو پہنچنے والے مضرت و خطرات سے بچاؤ کے لئے عالمگیر سطح پر معاشرتی شعور بیدار کرنے اور اس گھمبیر انسانی مسئلے سے نمٹنے کے لئے UNO کی قراردادوں کی روشنی میں جامع حکمت عملی کے ذریعے ممبر ممالک ،متعلقہ سٹیک ہولڈرز بلخوص سول سوسائٹی کی مشترکہ کاوشوں سے صحت مند معیار زندگی کو یقینی بنانے کا عزم شامل ہے،اہم مقاصد میں منشّیات کے عادی افراد کو زہر ہلاہل سے چھٹکارا دلا کر ان کی کامیاب بحالی میں مدد دینا،خدا کا لاکھ شکر ہے کہ نشہ آور ممنوعہ اشیا کی آبیاری اور غیر قانونی نقل وحمل کی اقوام عالم متفقہ طورپر مذمت اور حوصلہ شکنی کرتی ہے۔

یقیناًایسی ضرر رساں اور مسترد شدہ سرگرمیوں سے مشرق و مغرب کے معاشروں میں سماجی و اخلاقی جرائم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔دنیا کے متعدد ممالک جن میں افغانستان افیون کی پیداوار کیلئے جبکہ مغربی افریقہ ،کولمبیا اور بذات خود امریکہ کوکین کی اہم مارکیٹ ہے۔ قارئین ،شراب،تمباکو،سگریٹ،ہیروئن،چرس،حشیش،افیون اور بھنگ وغیرہ منشیات کے خاص افراد خانہ جبکہ پان ،نسوار ،گٹکا،چھالیہ اور شیشہ وغیرہ قریبی عزیز کہلاتے ہیں۔ماہرین کی تحقیق کے مطابق منشیات کی صحت دشمن صورتوں میں ہیروئن ،کینابس اور سکون بخش ادویات انکی کچھ اقسام پاوڈریا گولیوں کی شکل میں ہوتی ہیں۔ جو سگریٹ/ پائپ میں بھر کر استعمال میں لائی جاتی ہیں ایک اور بلا چیز چرس اور بھنگ ہے جسے حشیش بھی کہتے ہیں اس کے پتوں کو پیس کر حل کرکے پیا جاتاہے۔ان تمام نشہ آور جان لیوا اشیاکے مضر اثرات کم و بیش یکسا ں ہیں۔ایک عام سی مثال سگریٹ کی ہے دوران حمل ایک خاتون کے پاس تمباکونوشی کی جاتی ہے تو اس کا بچہ دوسروں کے مقابلے میں کم وزن رکھتا ہے دوسرا اس نومولود بچے میں دمہ اور کالی کھانسی جیسے امراض با آسانی پیدا ہوتے ہیں۔دین رحمت میں بیان شدہ تمام ناپسندیدہ اور مضر حیات نشہ آوراشیامیں شراب نوشی کو سرفہرست رکھا گیا ہے۔ چونکہ انسان پر اس کا اثر فوری اور نتائج دور رس برآمد ہوتے ہیں۔اس کے دہرے نقصانات میں مال و صحت دونو ں کا خسارہ ، بندے کی سماجی ،معاشی و اخلاقی مقام کو ٹھیس پہنچانے کے ساتھ اس کی جذباتی و روحانی زندگی میں گہرا خلا پیدا کردیتاہے.

۔سُنّت نبوی ﷺ میں شراب نوشی کو اُمّ الخبائث یعنی تمام برائیوں کی ماں،تمام خرابیوں کی اصل ٹھہرایا گیاہے،اگر تاریخ مذاہب عالم پر نظر دوڑائیں تو گیتا،رامائن اور الہامی کتابوں میں یعنی تورات و انجیل میں حرمت شراب کے خاص حوالے ملتے ہیں۔دین اسلام میں تو اسے واضح طور پر حرام قرار دیکر زنا،چوری،جوئے ،صنم پرستی اور شرک جیسے گناہ کبیرہ میں شامل کیا ہے(بحوالہ قرآن:سورۃالبقرہ) نبی کریم ﷺ نے شراب کے بنانے،ڈھونے،بیچنے،خریدنے اور اس کی قیمت کھانے وغیرہ سے متعلق ہر کام پر لعنت فرمائی ہے گویا اس قبیح عمل تک جانے والے تمام راستے بلاک کردیے ہیں۔خاتم النبین ﷺکا ارشاد پاک ہے’’ ہر نشہ آور شے خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے‘‘حدیث شریف کی رو سے شراب کے علاوہ دیگر تمام مُسکرات کو بھی اسی دائرے میں شامل کیا گیاہے۔چنانچہ ہر وہ مضرت رساں شے جو بالواسطہ و بلا واسطہ انسانی جسم کو نحیف ،روح کو آلودہ ،عقل کو فرسودہ ،عادات کو بے ہودہ ،امن و سکون اور اعتدال و پاکیزگی کو پراگندہ کرتی ہے صریحاً ممنوع ہے۔اس سریع الاثر زہر کو بخوشی نوش کرنے والے طالب علم ،ملازمت پیشہ اور کاروباری حضرات سال بھر کے دوران ہزاروں قیمتی گھنٹے ضائع کر بیٹھتے ہیں ،لاکھوں مسافرناگہانی حادثات سے جاں بحق ہوجاتے ہیں،اچھے بھلے صحت مند افراد منشیات کے عادی ہونے کی وجہ سے کئی اقسام کے جان لیوا امراض کا شکار ہوتے ہیں۔،اس کا بکثرت استعمال جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو بتدریج معدوم، سماجی ساکھ ،ملازمت میں کارکردگی اور ذرئع آمدنی سے محرومی وغیرہ شامل ہیں یہ انسان کوایسے نہج پر پہنچا دیتی ہیں جہاں طبیعت بوجھل،ارادے متزلزل،خوراک زائل،دوائیں بے سود،دعائیں بے اثر اور نفس ا مارہ قوی تر ہونا فطری امر ہے۔شراب چاہے تازہ پھلوں سبزیوں سے بنی ہو یا شہد وشکر ،لسی و پنیر سے بنی ہو یہ مقدار میں زیادہ ،قلیل ہو یا برائے نام۔اس کی شکل ٹھوس ،مائع یا سیال چاہے کچھ بھی ہو یہ فرد کونفع ہی کیوں نہ پہنچائے اس حوالے سے دین کامل کا فیصلہ اٹل ہے۔مئے خوری کی کثیر خباثتوں میں سے ایک مشہور نفسیاتی بیماری مالیخولیہ کا جنم لینا ہے۔

علم نفسیات کی رو سے جنون و افسردگی کی عمومی کیفیات سے یہ مختلف مرض ہے۔ جس کا شکار مریض احساس کمتری کی انتہا کو چھو کر خوف بے جا سے دوچار ہوتاہے۔اسے ہر دوسرا انسان آدرشوں کا رقیب،آپس میں سرگوشی کرنے والے اس کی زندگی میں زہر بھرنے والے محسوس ہوتے ہیں۔وہ راہ نجات فراریت میں جی ہاں حقیقی زندگی سے منہ موڑ کر تصوراتی زندگی میں گوشہ نشین ہوتے ہیں ۔جہاں غنودگی و کاہلی،تلون مزاجی،تن آسانی اس کے رفیق بن جاتے ہیں۔منشیات کے عادی لوگوں میں احساس کمتری، خود اعتمادی و فیصلہ سازی کی قوت نہ ہونے کی سبب زندگی کی کسی بھی موڑ پر معمولی سے ناخوشگوار واقعے پر خود کشی کو نسخہء کیمیا سمجھ بیٹھتے ہیں۔چونکہ مئے کشی ان گنت جسمانی و اخلاقی تباہ کاریوں میں سب سے زیادہ عقل و ارادہ انسانی پر کاری ضرب لگنا ہے جب تک انسان عقل و ایمان کے آستاں میں رہتاہے اس وقت تک وہ نفس و جذبات رذیلہ کے ایذا رسانیوں سے بچا رہتاہے۔منشیات/ شراب سے تعلق جُڑتے ہی شخصیت پر ایقان وعقل کی گرفت ڈھیلی اور سفلی جذبات کی آوارگی روح و عقل کیلئے شرمساری کا باعث بن جاتی ہے۔وہ بد مستی میں کبھی بدکلامی و بد نظری کا مرتکب ہوتا ہے تو کبھی آپے سے باہر ہوکر بد فعلی و بد کرداری کا شیطانی روپ دھار کرانسانیت کا مجرم بن بیٹھتاہے۔ایسا کم نصیب شخص جہاں اپنی سماجی و معاشرتی زندگیوں میں بیگانگی و پسپائی کیساتھ دنیا وعقبیٰ کی ابدی سعادتوں برکتوں اور خوشیوں سے محروم ہوجاتاہے۔اگر ہم اپنے خاندان یا ارد گرد ایسے مسائل سے دوچار افراد کو دیکھیں تو ہم ڈانٹ ڈپٹ، لعن طعن یا گھر / محلے سے نکال باہر کی بجائے نہایت خندہ پیشانی و ہمدردی سے پیش آئیں انہیں اس سماجی خرابی کے دلدل سے نکالنے کے لئے انکے عزت نفس کو پامال کئے بغیر حوصلہ ہمت اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔حکومت ،سول سوسائٹی اور کاروباری حضرات مل کر انکے سماجی و معاشی بہبود کیلئے ٹھوس منصوبہ تشکیل دیں۔اساتذہ والدین ،مذہبی رہنماء اور ادیب و دانشور پوری قوم بلخصوص نوجوانوں کے کردار وگفتار میں پختگی کے لئے تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کریں۔،میڈیا منشیات کی تباکاریوں کا پردہ چاک کرے۔

تندرستی ہزار نعمت ہے جبکہ منشیات کا استعمال ہزار زحمت ہے۔آئیں اپنے اندر موجود تمام طرح کی دینی و دنیوی کمزوریوں بلخصوص منشیات کی لت سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرنے کیلئے ماہ رمضان کے تیس روزہ روح پرور تربیتی کورس کاحصہ بن جائیں۔انشاء اللہ ماہ صیام میں انجام دینی والی عبادات وا عمال صالحہ کی ظاہری وباطنی برکتوں سے جہاں گناہوں کے بوجھ سے آزادی نصیب ہوگی ساتھ ہی ساتھ اللہ کی قربت اور تائید و نصرت کے ذریعے دنیا و آخرت میں سرخروئی، کامیابی اور حقیقی خوشی نصیب ہوگی۔آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔