گنانی تہوار

گنانی تہوار

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر اکرام نجمی

قدیم ادوار میں وادی ہنزہ سمیت گلگت بلتستان کے کئی علاقوں میں21 جون کو ایک روایتی تہوار گنانی منایا جاتا تھا اس روایتی تہوار کو ریاست کے میر کے زیر سرپرستی منایا جاتا تھا خود مختار ریاستی نظام کے خاتمے کے بعد یہ روایتی تہوارکئی علاقوں میں تقریبا ختم ہوچکا ہے جبکہ کچھ علاقوں میں اس تہوار کو علامتی طور پر منایا جاتا ہے ۔

علاقے کے بزرگوں کے مطابق یہ تہوار فضل پک جانے کی خوشی اور شکرانے کے طور پر 21جون کو منایا جاتاتھا جس میں ریاست کے میر اور عمائدین علاقہ ایک کھیت میں جاکر شکرانے کے دعا کے بعد جوء کے تیار فصل میں سے کچھ خوشے لیکر دربار میں حاضر ہوتے تھے اور اس نئے فصل سے ایک مخصوص قسم کا ڈوڈو بناکر دربار میں موجو دمیر اور عمائدین کو پیش کیا جاتا تھا ۔اس رسم کے ادائیگی کے بعد قلعے کے ساتھ موجو د گراونڈ جسے مقامی زبان میں لوگ چتق کہتے ہیں اس گراونڈ میں روایتی موسیقی اور رقص کاانعقاد کیا جاتا تھا جس میں باری باری ریاست کے میر ،اکابرین اور مختلف قبیلوں کے نمائندے رقص پیش کرتے تھے رقص اور روایتی موسیقی سے فارغ ہوکرشام کو لوگ اپنے گھروں میں اپنے عزیز و اقارب کو رات کے کھانے پر مدعو کرتے تھے۔

یہ خوبصورت تہوار اب کئی علاقوں میں مکمل طور تقریبا ختم ہوچکا ہے اور کچھ علاقوں میں اسکو علامتی طور پر لوگ مناتے ہیں محکمہ سیاحت اور کچھ غیر سرکاری ادارے اس تہوارکے نام پر لاکھوں روپے خرچ کرکے غیر روایتی انداز کے پروگرامز کا انعقاد کرکے ان خوبصورت روایتی تہواروں کے روح کو مسخ کررہے ہیں۔

اس تہوار میں تاریخی طور پر کلیدی کردار ریاست کے میر کا  ہوتا تھا اور اس تہوار کو ریاست کے دارا الخلافہ میں ہی منایا جاتا تھا جبکہ دیگر علاقوں کے لوگ اپنے اپنے علاقوں میں چھوٹے پیمانے پرتہوار مناتے تھے ۔بدقسمتی سے آجکل اس خوبصورت تہوار کے نام پر لوگ فنڈز حاصل کرکے ایک میوزیکل شو کو گنانی تہوار کا نام دیکر اس خوبصورت روایتی تہوار کے ساتھ مذاق کررہے ہیں جو اس تہوار کو دوبارہ زندہ کرنے کی بجائے ایک اور عجیب و غریب قسم کا روایت کو فروغ دے رہے ہیں جو اس علاقے کے خو بصورت روایات کے ساتھ ظلم کرنے کے مترادف ہے ۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میر اور میری نظام کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن علاقے کے موسیقی تو اب بھی زندہ ہے میر وں کے محلات اب بھی سلامت ہیں اور عوام کے دسترس میں ہیں کچھ تو میوزیم کی شکل میں پوری دنیا کے سیاحوں کیلئے کھلے ہیں محکمہ سیاحت اور دیگر اداروں کو چاہیے کی ان تاریخی مقامات پر انہی مخصوص تاریخوں کو ہی یہ تہوار روایتی انداز میں منانے کی کوشش کریں ۔

اگر محکمہ سیاحت اور دیگر ادارے اپنے افسروں سیاسی رہنماؤں اور انکے اہل خانہ کی تفریح کے خاطر سیاحتی مقامات پر میوزیکل شوز منعقد کرکے علاقے کی قدیم روایات اور ثقافت کی خدمت کا دعوی کررہے ہیں تو میری نظر میں سراسر ناانصافی ہے بلکہ میرا زاتی رائے یہ ہے کہ یہ لوگ ہمارے ثقافت کو مزید تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

محکمہ سیاحت کی یہ زمہ داری ہے کہ گنانی اور اس جیسے دیگر علاقے کے روایتی تہواروں کا باقاعدہ سالانہ بنیادوں پر کلینڈر تیار کریں اور علاقے کے تاریخ کے ماہرین سے مشورہ لیکر ان تہواروں کومکمل روایتی انداز میں منانے کی کوشش کریں ان تہواروں کے حوالے سے مقامی اور قومی اخباروں اور ٹی وی چینلز پر تشحیرہو تاکہ علاقے میں سیاحت کو حقیقی معنوں میں فروغ دیا جاسکے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔