پشاور سے چترال جانے والی مسافر گاڑی کو چارسدہ بائی پاس کے نزدیک لوٹ لیا گیا

پشاور سے چترال جانے والی مسافر گاڑی کو چارسدہ بائی پاس کے نزدیک لوٹ لیا گیا

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) پشاور سے چترال آتے ہوئے اٹھارہ مسافروں کو بندوق کی نوک پر لوٹ لئے گئے۔ مسافروں سے تقریباً دس لاکھ روپے چھین لئے گئے۔ ایک مسافر کے پاس تین لاکھ روپے کسی کی امانت رقم تھی اسے بھی ڈاکوؤں لے گئے۔

ڈرائیور رحمت الدین ولد وور گل سکنہ چیوڈوک چترال کے مطابق گزشتہ رات پشاور سے چترال آتے ہوئے ایک مسافر ہائیس گاڑی (فلائنگ کوچ) جب چارسدہ بائی پاس روڈ پر پہنچا ۔ تو پیچھے سے سفید رنگ کا ایک ٹوڈی گاڑی ان کے پیچھے پہنچ کر ان سے آگے نکل گیا اور ان کا راستہ ورک لیا۔ رحمت الدین کا کہنا ہے کہ ٹوڈی گاڑی سے چھ افراد اتر گئے اور ہمیں ڈرایا دھمکایا کہ تم لوگوں نے پولیس پھاٹک کو کیوں کراس کیا ان کا کہنا ہے کہ ہم نے کوئی پولیس پھاٹک کراس نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کی میرے گاڑی نمبر سوات سی 4132 کے کاغذات کے بارے میں بھی وہ لوگ بار بار پوچھ رہے تھے مگر میں نے کاغذات دینے سے انکار کیا۔

تاہم ان کے مطابق ان لوگوں نے خود کو پولیس ظاہر کرتے ہوئے مجھے گاڑی سے اتارا اور ان میں سے ایک شحص گاڑی چلانے لگا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں نے شور مچایا تو وہ مجھے زور سے مارنے لگا اور میرا سر بھی زحمی ہوا۔

مسافروں میں سے ایک بندے نے جب میری مارنے کی وجہ پوچھی تو اسے بھی سریا سے ماراگیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے ہمارا گاڑی واپس پشاور روڈ کی طرف چارسدہ میں ایک قبرستان کے قریب ویرانے میں کھڑا کیا۔ اور اپنے ساتھیوں کو موبائل فون پر اطلاع دی اور جھاڑیوں سے چار افراد مزید نکل آئے ۔

ایک عینی شاہد غلام حسین سکنہ چیوڈیک چترال کا کہنا ہے کہ میرے پاس دو لاکھ روپے تھے اور ایک اور شحص کے پاس تین لاکھ روپے کسی کی امانت تھی ڈاکوؤں نے ہم سے یہ رقم زبردستی چھین لیا اور باقی مسافروں کا بھی باری باری تلاشی لی گئی اور ان سے نقدی رقم اور موبائیل فون بھی چھین لئے گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق ڈاکوؤں نے ان اٹھارہ مسافروں سے دس لاکھ روپے چھین لئے اور مزید کاروائی جاری تھی کی اس دوران ایک ٹرک آیا جسے پولیس کی گاڑی سجھ کر وہ لوگ بھاگنے لگے اور ہمیں بھی نکلنے کا موقع مل گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم جب تحت بائی روڈ پر ساڑوشاہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو ہم نے پولیس کو اطلاع دی مگر تھانے کے محرر جو سادہ لباس میں تھا انہوں نے ہماری رپورٹ درج کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ واقع چارسدہ کی حدود میں پیش آیا ہے اور ہمارا تھانہ مردان میں واقع ہے لہذا تم واپس جاکر خان مائی تھانہ میں رپورٹ درج کرو ۔

رحمت الدین کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ ایک پٹھان بھی گاڑی میں بیٹھا تھا اس نے مجھے پیچھے جانے سے روک دیا اور اس نے اقرار کی کہ ان ڈاکوؤں کو بھی وہ جانتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شحص نے مزید بتایا کہ ان کا اس علاقے میں دشمنی بھی چل رہی ہے اور وہاں سے نکلنا چاہئے ایسا نہ ہوکہ ڈاکؤں لوگ ان پر گولی چلادے۔

غلام حسین نے اپنے کندھے پر زحم کا نشان دکھاتے ہوئے کہا کہ ڈاکؤں نے مزاحمت کرنے پر اسے پستول کی بٹ سے زور سے اسے مارا جس سے اس کے کندھے پر نشان بھی پڑ گیا۔

ڈرائیور رحمت الدین کا کہنا ہے کہ ہم سپیشل برانچ پولیس چترال سے بھی ملے جہاں تاج الدین اور محمد شریف وغیرہ نے چارسدہ سپیشل برانچ پولیس سے رابطہ کیا تاہم چارسدہ سپیشل برانچ پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ چونکہ رات کو پیش آیا اور اس علاقے میں اس کے بارے میں کسی تھانے میں رپورٹ بھی درج نہیں کی گئی اسلئے انہوں نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

ہمارے نمائندے نے جب اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غلام حسین سے رابطہ کرکے اسے پورے صورت حال سے آگاہ کیا تو ڈی پی او چترا ل نے یقین دہانی کرائی کہ وہ چترال تھانہ میں ان ڈاکؤں کے حلاف رپورٹ درج کرکے اسے چارسدہ فارورڈ کیا جائے گا۔

گاڑی میں سوار مسافروں نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ا ن ڈاکووں کا اسٹائیل با الکل پولیس کی طرح تھی اور مجھے شک ہے کہ راستے پر جاتے ہوئے ان میں سے چند افراد کو پولیس وردی میں بھی دیکھا گیا ہے۔

ان مسافروں نے وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ اور انسپکٹر جنرل آف پولیس ناصر خان درانی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان ڈاکووں اور متعلقہ پولیس کے حلاف سخت کاروائی کی جائے کیونکہ زیادہ تر ڈاکے اور راہ زنی پولیس کی تعاون سے کی جاتی ہے انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان سے لوٹا ہوارقم ان کو واپس دلوایا جائے اور ان راستوں پر بھاری نفری پولیس کی تعینات کرکے مسافروں کو تحفظ فراہم کرے۔

اس واقعے پر چترا ل کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت کے دعوے سارے دھرے کے دھرے رہ گئے اور ابھی تک صوبے سے نہ غنڈہ گردی حتم ہوئی نہ پولیس گردی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔